25 اپريل, 2014 | 24 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

ہندو خاندانوں کی پاکستان سے نقل مکانی

ایک ہندو عورت اسٹیشن پر روتے ہوئے۔ آئی این پی

اسلام آباد/ سکھر: پاکستان میں ہندو خاندانوں کے  بڑے پیمانے پر ہجرت کرنے پر حکومت نے مذہبی اقلیتوں کی سیکیورٹی کے لیئے اقدامات مزید سخت کردیئے ہیں۔

افتاری کے موقع پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ دو سو پچاس ہندو خاندانوں کو بغیر کسی چھان بین کے ویزا دینا ایک سازش ہے۔

یہ بات وزیر داخلہ نے ساٹھ ہندو خاندانوں کے سندھ اور بلوچستان کے علاقے سے ہندوستان ہجرت کرنے کے حوالے سے بتائی۔ ذرائع کے مطابق ان ہندو افراد کے گھر لوٹے گئے اور ان کی عورتوں کو زبردستی اسلام قبول کروایا جارہا تھا۔

تحفظ کی کمی سات خاندانوں سیکیورٹی کے خدشات کی بناہ پر بدھ کی رات کو جیکب آباد سے ہندوستان روانہ ہوئے۔

اس کے علاوہ چھ مہینے پہلے ہی باون ہندو خاندانوں نے اس علاقے سے بس کے ذریعے ہندوستان ہجرت کی۔

ان سات خاندانوں نے تھل، بخشا پور اور جیکب آباد سے جعفر ایکسپریس کے ذریعے ہجرت کی۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بخشا پور کے امیش کمار نے بتایا کہ ان کا یہاں کاروبار تھا اور وہ پاکستان چھوڑنا نہیں چاہتے تھے لیکن کیوں کہ انہیں اس قدر ہراساں کیا گیا، لوٹ مار کی گئی اور سب سے زیادہ لڑکیوں کو اغواء ہونے والے واقعات کی وجہ سے اب انہیں ہندوستان جانا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے سندھ میں رہنے کی اپنی خواہش ظاہر کی۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اور ان کی کمیونیٹی کے لوگوں نے اپنی بچوں کی سیکیورٹی خدشات کی بناہ پر یہاں  سے ہجرت کرنا بہتر سمجھا۔

ہندو جنرل پنچایت کے سربراہ بابو مہیش کمار نے کہا کہ لاقانونیت نے ان لوگوں کو یہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منتخب کردہ لوگ جن کا تعلق مذہنی اقلیتوں سے ہے، انھوں بھی ان لوگوں کی کوئی فکر نہیں۔

بابو مہیس نے کہا کہ سندھ ایک سرزمین تھی جہاں پیار تھا لیکن اب کمیونیٹی کے ممبران کو متعدد مسائل کا سامنا ہے جن میں سے سب سے زیادہ لاقانونیت کا مسئلہ اہم ہے اور اسی بناہ پر یہاں سے ہندو خاندانوں کو ہجرت کرنی پڑ رہی ہے۔

انہوں نے کہا آگر ان حالات پر جلد قابو نہ پایا گیا تو مزید ہندو خاندان بھی ہجرت کر جائیں گے ۔

البتہ جیکب آباد کے ایس ایس پی محمد یونس چانڈیو نے اس بات کو ماننے سے انکار کیا اور کہ ضلعے میں کمیونیٹی کو مکمل سیکیورٹی دی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ خاندان ہجرت نہیں کررہے بلکہ مذہبی رسومات ادا کرنے کے لیئے ہندوستان جارہے ہیں۔

ریلوے اسٹیشن پر کوئٹہ سے آئے ایک آدمی نے ڈان کو بتایا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے لیکن آگر ہمیں ہندوستان میں اس سے بہتر حالات ملے تو ہم وہیں رک جائیں گے۔

کپڑے کا کاروبار کرنے والے اس شخص نے بتایا کہ کوئٹہ، جیکب آباد اور سندھ کے بعض دور دراز علاقوں میں ان کے رشتے داروں میں لوٹ مار اور اغواء برائے تاوان جیسے واقعات کے بعد بہت خوف پھیلا ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہندوستانی ہائی کمیشن نے انہیں امرتسر اور دہلی کا ایک مہینہ کا ویزا دیا ہے لیکن آگر ہندوستان کے حالات پاکستان سے بہتر ہوئے تو وہ وہیں رک جائیں گے۔

اس کے علاوہ بھی دو سو ستاون لوگ لاہور سے ہندوستان جانے کے لیئے جمع تھے۔ یہ لوگ واہگہ بارڈر کے ذریعے پھر ہندوستان جائیں گے۔

یہ لوگ سکھ کمیونیٹی کی گردوارے ڈیرہ صاحب، سنگھ سنگھیانی کے مندوروں اور ہوٹلوں میں اسٹیشن کے پاس رکے ہوئے ہیں۔

یہاں آئے والے ایک صاحب گنیش داس کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے اور یہ کہ وہ صرف مذہبی جگاہوں کی زیارت کرنے جارہے ہیں۔

ای ٹی پی بی کے ڈپٹی سیکرٹری اظہر سلہری کا کہنا تھا کہ ان لوگوں پاکستان مکمل طور پر چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جمعے کے روز واہگہ بارڈر کے راستے جانے والے ان دو سو ستاون لوگوں کو بھارتی ہائی کمیشن نے ویزا جاری کیا تھا۔

اس حصے سے مزید

'حکومت فوج کے ساتھ مل کر چیلنجز کا سامنا کررہی ہے'

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ حکومت وسیع بنیادوں پر کام کررہی ہے اور گوادر ملکی معیشت کی تبدیلی میں مدد گار ثابت ہوگا۔

غیرملکی عسکریت پسندوں کو محفوظ راستے کی تلاش

ایک جانب حکومت عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے تو دوسری جانب غیرملکی عسکریت پسند بے یقینی سے دوچار ہیں۔

صوابی: فائرنگ سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک

اس واقعے میں آٹھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں خواتین و بچے بھی شامل ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

تھری جی: اسکیل، رفتار اور بھروسے کا سوال

دیکھا جائے تو یہ سارا بکھیڑا بنیادی طور پر صرف ساٹھ لاکھ صارفین کے لئے ہے-

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

کیپٹن امیریکہ: دی ونٹر سولجر -- ایک اور سیکوئل

ایک لازمی سیکوئل ہونے کے ناطے، فلم کو دلکش، سادہ اور قابل قبول ہونے کی نیت کے ساتھ بنایا گیا ہے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں