19 ستمبر, 2014 | 23 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

یو بی ایل اومنی - ایک تجزیہ

ایک وقت تھا جب بینک وہ واحد جگہ ہوتے تھے جہاں لوگ اپنے یوٹیلٹی بل ادا کرتے تھے، پیسے بھجوایا کرتے تھے یا پھر کسی اور قسم کی ادائیگی کے لیے جایا کرتے تھے۔

ان سب کاموں کیلیے انہیں لمبی قطاروں میں کھڑا رہنا پڑتا تھا ۔

آج بھی بنک مالی امور سرانجام دینے کا اہم ذریعہ ہیں لیکن ٹیکنالوجی نے ہمیں سہولیات فراہم کرکے ہماری زندگی مزید آسان اور تیز تر کردی ہے۔

یونائٹڈ بنک لمیٹڈ (یوبی ایل) نے حال ہی میں اومنی نام کی برانچ لیس بینکنگ کا نیا چہرہ متعارف کروایا ہے۔

اشتہار کے بارے میں بات کی جائے تو یہ متعلقہ صارفین تک انتہائی واضع اور موثر انداز میں اپنے پیغام کو پہنچاتا ہے جس کا ثبوت اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے۔

آخر وہ کیا عنصر ہے جو اس کامیابی کا سبب بنا؟

تخلیقی نظریے سے بات کی جائے تو سیٹ کا استعمال ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اشتہار میں متوسط طبقے کے علاقوں کی گلیاں دکھانا، یہ دکھانا کہ ان علاقوں کے لوگ ایک دوسرے کو کتنی اچھی طرح جانتے ہیں،انکا یہ رشتہ مضبوط اعتماد پر تعمیر ہوتا ہے کیونکہ وہ ایک مربوط معاشرے میں رہتے ہیں، بہت اچھا تھا ۔

یہاں تک کہ ریلوےاسٹیشن کے ماحول نے اس اشتہار کو روایتی رنگ میں رنگ دیا۔

http://www.youtube.com/watch?v=SLeee4yyHxA

اور جس طرح انہوں نے 'طریقہ بدلو' کے پیغام کو دیوار پرلکھ کرمتعارف کروایا وہ اپنے متعلقہ ناظرین سے بات کرنے کا بہترین طریقہ تھا۔

ہمارے ہاں عوام تک پیغام پہنچانے کے لیے دیواروں پرلکھنے کا طریقہ کافی عرصے سےعام ہے ۔ یوبی ایل نے بھی اسی طریقے کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں سے انہی کی آواز میں بات کی۔

یہ بات قابل غور ہے کہ اشتہار میں اگر موٹرسائیکل دیوار کے سامنے سے نہیں گزرتی اور اگر ٹھیلہ سیدھے کونے پر نہیں ہوتا تو فریم نامکمل رہ جاتا۔

یوبی ایل کی یہ سروس ہماری ملک کی اس آبادی کے کے لیے کافی معاون ثابت ہوئی ہے جو عموما بینکنگ سروسز استعمال نہیں کرتی۔

یہ سروس انہیں وہ سب کچھ باسہولت انداز میں مہیا کرتی ہے جسکی وہ ایک بینک سے توقع رکھتے ہیں۔

سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ یوبی ایل اومنی کی سروس استعمال کرنے کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں۔ جب تک کہ آپ کی قریبی اومنی دکان کھلی ہے آپ اس سروس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

یوبی ایل اومنی اور اے ٹی ایم کارڈ کی سہولت نے بغیر بینک اکاؤنٹ والوں کو ان لوگوں کے برابر لا کھڑا کیا ہے جو بینکنگ کی سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں۔

انہیں فوائد کی وجہ سے یوبی ایل اومنی کو جی ایس ایم اے گلوبل موبائل ایوارڈ دو ہزار بارہ ملا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں برانچ لیس بینکنگ نیٹ ورک میں سولہ فیصد کا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے پورے ملک میں اب اس سروس کے بائیس ہزار پانچ سو بارہ ایجنٹس ہیں۔

برانچ لیس بینکنگ کے حوالے سے ٹیلی نور ایزی پیسہ اور یو بی ایل اومنی سرفہرست ہیں۔

اور اب مزید بینکوں کو نئے لائسینسس جاری ہونے کی وجہ سے دو ہزار بارہ پاکستان میں برانچ لیس بینکینگ کے لیے اہم سال ثابت ہوسکتا ہے۔


ماہ جبیں منکانی ڈان ۔کام پر نیو میڈیا ڈیزائن مینیجر ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

انوار
13 اگست, 2012 04:21
حیرت ہے۔
زوہیب اشرف بھٹی
16 اگست, 2012 06:56
جیت کے جیو
مقبول ترین
بلاگ

مووی ریویو: دختر -- دلوں کو چُھو لینے والی کہانی

اپنی تمام تر خوبیوں اور کچھ خامیوں کے ساتھ اس فلم کو پاکستانی نکتہ نگاہ سے پیش کیا گیا ہے۔

پھر وہی ڈیموں پر بحث

ڈیموں سے زراعت کے لیے پانی ملتا ہے، پانی پر کنٹرول سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور توانائی بحران ختم کیا جاسکتا ہے۔

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

سروے