02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

ہندوستان ڈیموں کی تعمیر روکے، فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان ۔ فائل فوٹو

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور کشمیر کمیٹی کے چئیرمین مولانا فضل الرحمان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہندوستان کے مقبوضہ کشمیر میں دریاؤں پر مزید ڈیم تعمیر کرنا سے پاکستان پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

پیر کے روزمولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سے آنے والے دریاؤں کا پانی روکنے کی وجہ سے پاکستان میں پانی کی کمی کا مسئلہ پیدا ہورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کو پاکستان کے دریاؤں کا پانی نہیں روکنا چاہئے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق چناب، جہلم اور دریائے سندھ کا پانی پاکستان کیلئے مختص ہےلیکن ہندوستان نے ان دریاؤں پر کئی ڈیم تعمیر کرلیے ہیں اور انکا فائدہ غریب کشمیریوں کو نہیں ہورہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی رہنماؤں کی جانب سے دوستی سے متعلق بیانات روز آتے ہیں لیکن ہندوستان پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے دیتا۔

اس حصے سے مزید

پی اے ٹی کا عید پر دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ

اگرعمران خان ڈی چوک میں عید منائیں گے تو ہم بھی ایسا ہی کریں گے، پی اے ٹی ترجمان۔

الیکشن کمیشن اراکین اسمبلی کو معطل کرنے کے اختیارات کا خواہاں

کمیشن نے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے والے اراکین کی رکنیت 60 دنوں تک معطل کرنے کی تجویز دی ہے۔

لائن آف کنٹرول: ہندوستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق انڈین فورسز نے ایل او سی پر باغ سیکٹر میں فائرنگ کی جس کا بھر پور جواب دیا گیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟