01 اگست, 2014 | 4 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

ہندوستان ڈیموں کی تعمیر روکے، فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان ۔ فائل فوٹو

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور کشمیر کمیٹی کے چئیرمین مولانا فضل الرحمان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہندوستان کے مقبوضہ کشمیر میں دریاؤں پر مزید ڈیم تعمیر کرنا سے پاکستان پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

پیر کے روزمولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سے آنے والے دریاؤں کا پانی روکنے کی وجہ سے پاکستان میں پانی کی کمی کا مسئلہ پیدا ہورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کو پاکستان کے دریاؤں کا پانی نہیں روکنا چاہئے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق چناب، جہلم اور دریائے سندھ کا پانی پاکستان کیلئے مختص ہےلیکن ہندوستان نے ان دریاؤں پر کئی ڈیم تعمیر کرلیے ہیں اور انکا فائدہ غریب کشمیریوں کو نہیں ہورہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی رہنماؤں کی جانب سے دوستی سے متعلق بیانات روز آتے ہیں لیکن ہندوستان پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے دیتا۔

اس حصے سے مزید

عمران خان سے مذاکرات کی ذمہ داری چوہدری نثار کے حوالے

دونوں رہنماوں کے درمیان ملاقات پیر چار اگست کو متوقع ہے، ملاقات میں لانگ مارچ کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔

اسلام آباد آج سے فوج کے حوالے

پاک فوج اسلام آباد کی سیکیورٹی کے لیے تین مہینے تک سول انتظامیہ کی مدد کرے گی۔

'دو سو ارب ڈالر واپسی کیلئے سوئس حکومت سے مذاکرات'

مذاکرات کے کئی دور ہوں گے جن میں تین سے چار سال تک کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے، وفاقی وزیر خزانہ۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ہمارا پارٹ ٹائم لیڈر

اتنی ناکارہ لیڈرشپ کی مثال مشکل سے ملیگی جس میں کسی دوراندیشی کی کوئی جھلک نہ ہو-

بجٹ اور صحت کا شعبہ

ایسا لگتا ہے کہ صحت کے بجٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کیلئے عطیات دینے والے ملکوں کے پیسے پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے

بلاگ

پکوان کہانی: موسم گرما کی سوغات 'آم

پرانے وقتوں کے لوگوں کی دلچسپ تصور اور حکمت کی بدولت، پھلوں کا بادشاہ عام انسان کی غذا بن گیا۔

پاکستان میں اسٹارٹ اپس اب تک ناکام کیوں؟

آجکل یہ فیشن سا بن گیا ہے کہ ہر کوئی یہی کہتا نظر آ رہا ہے کہ اس کے پاس 'اسٹارٹ اپ' ہے-

ساغر صدیقی : ایک دل شکستہ شاعر

وہ خوبصورت نظمیں لکھتے، پھر بلند آواز میں خالی نگاہوں سے پڑھتے، پھر ان کاغذات کو پھاڑ دیتے جن پر وہ نظمیں لکھی ہوتیں

پکوان کہانی: کابلی پلاؤ - شمال کی شان

گوشت میں پکے چاول اس خطے کے جنگجوؤں کی ذہنی مطابقت اور جسمانی ساخت کے لیے موزوں تھے۔