22 اگست, 2014 | 25 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

اٹارنی جنرل کی بینچ تبدیل کرنے کی درخواست مسترد

سپریم کورٹ ۔ رائٹرز تصویر

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے این آر او عمل درآمد نظر ثانی کیس میں حکومت کی بینچ میں تبدیلی کی استدعا مسترد کردی ہے۔

جسٹس آصف سیعد کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ کے سامنے حکومت کی بارہ جولائی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

بنچ کے دیگر ججوں میں جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس  اطہر سعید شامل ہیں۔

سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت سے استدعا کی کہ موجودہ بنچ اس  کیس کی سماعت نہ کرے، جس بنچ نے فیصلہ دیا ہے وہی نظر ثانی بھی کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک پانچوں جج نہیں آتے، جلدی بازی نہ کی جائے اور معاملے کوعید کے بعد ہی سنا جائے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ وہ چاروں جج یہاں موجود ہیں، جنہوں نے بارہ جولائی کا حکم جاری کیا۔

اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا کہ عدالت وزیر اعظم کو حکم نہیں دے سکتی کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں، عدالت ایگزیکٹیو کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو سزا دے کر غلطی کی، وزیر اعظم کو کسی مقدمے میں فریق بنایا جا سکتا  ہے اور نہ ہی عدالت ہدایت جاری کرسکتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ کسی کی انا کا مسئلہ نہیں، قانون کی حمکرانی اورآئین کی بالا دستی کیلئے آرٹیکل دو سو اڑتالیس - اے پر عمل ضروری ہے۔

آئندہ سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

اس حصے سے مزید

اسلام آباد دھرنے: سیاسی بے یقینی برقرار

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے باعث موجودہ سیاسی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔

قوم افراتفری پھیلانے والوں کو نظر انداز کرے، صدر

صدر ممنون حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آپس کی چھوٹی چھوٹی رنجشوں کی وجہ سے قومی ترقی کا عمل نہ روکا جائے۔

آئین و پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے سینیٹ میں قرارداد منظور

اراکین سینیٹ نے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں اور ان کے مطالبات کو غیر آئینی قرار دیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

بڑھتی مایوسی

مایوسی تب اور بڑھتی ہے جب عوام دیکھتے ہیں کہ حکمران عوامی پیسے سے اپنے کام چلانے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

مضبوط ادارے

ریاستی اداروں پر تمام جماعتوں کی جانب سے حملہ تب کیا گیا جب وہ ابتدائی طور پر ہی سہی پر قابلیت کا مظاہرہ کرنے لگے تھے۔

بلاگ

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔

جعلی انقلاب اور جعلی فوٹیجز

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی غیر آئینی حرکتوں کی وجہ سے اگر فوج آگئی تو چینلز ایسی نشریات کرنا بھول جائیں گے۔

!جس کی لاٹھی اُس کا گلّو

ہر دکاندار اور ریڑھی والے سے پِٹنا کوئی آسان عمل نہیں ہوگا شاید یہی وجہ ہے کہ سول نافرمانی کوئی آسان کام نہیں۔

ہمارے کپتانوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ مصباح الحق اور عمران خان میں سے زیادہ کون بچوں کی طرح اپنی غلطی ماننے سے انکاری ہے۔