17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

مشرف، شوکت عزیز، شیرپاؤ کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

نواب اکبر بگٹی کو دو ہزار چھ میں ایک فوجی آپریشن میں ہلاک کردیا گیا تھا۔ - فوٹو فائل

سبی: بلوچستان کی ایک عدالت نے نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں سابق صدر پرویز مشرف سمیت سات ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

مشرف کے علاوہ جن شخصیات کے وارنٹ جاری ہوئے ہیں ان میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق وفاقی وزیرداخلہ آفتاب شیرپاؤ اور سابق وزیراعلٰی بلوچستان جام محمد یوسف بھی شامل ہیں۔

آج بدھ کے روزسبی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت میں بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی قتل کیس کی تفصیلی سماعت ہوئی۔

واضح رہے کہ عدالت اکبر بگٹی کے صاحبزادے جمیل اکبربگٹی کی درخواست پر اس کیس کی سماعت کررہی ہے۔

نواب اکبر بگٹی کو چھبیس اگست دو ہزار چھ میں ایک فوجی آپریشن کے دوران مار دیا گیا تھا۔

بعدازاں، ان کے بڑے صاحبزادے نے ایک ایف آئی آر درج کرائی جس میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، اس وقت کے گورنر بلوچستان اویس غنی، وزیر خارجہ آفتاب شیر پاؤ، وزیر اعلیٰ بلوچستان جام محمد یوسف اور صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی کو ملزم نامزد کیا گیا تھا۔

گذشتہ مہینےعدالت نے ایف آئی آر میں نامزد تمام افراد کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور مزید سماعت کیلیے پندرہ اگست کی تاریخ مقرر کی تھی۔

اس حصے سے مزید

کوئٹہ میں فائرنگ، دو افراد ہلاک

موٹر سایئکل سوار حملہ آوروں نے دکان کو نشانہ بنایا جسکے نتیجے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہلاک ہوگئے، پولیس۔

'ہندوستان بلوچ علیحدگی پسند تحریک کی فنڈنگ کرتا ہے'

سینیئر صوبائی وزیر ثناء اللہ زہری کے مطابق گوادر پورٹ کے قیام سے دیگر ممالک بھی صوبے میں مداخلت کرسکتے ہیں۔

کوئٹہ: ہزارہ برادری کے دو افراد کی ٹارگٹ کلنگ

مسلح افراد نے کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر ہفتے کی رات فائرنگ کر کے شیعہ ہزارہ برادری کے دو افراد کو ہلاک کردیا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟