23 اگست, 2014 | 26 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر نجی ٹرسٹ کی تشہیر

سپریم کورٹ کی ویب سائیٹ کا اسکرین شوٹ۔ فائل فوٹو

اسلام آباد: نجی طور پر قائم کیے گئے ٹرسٹ کی سپریم کورٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر تشہیر نے عدالتی اور قانونی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ ٹرسٹ سابق جج خلیل الرحمان رمدے کی اہلیہ قرت العین رمدے نے قائم کیا تھا۔ ٹرسٹ کے چیئرمین چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہیں جب کہ رجسٹرار سپریم کورٹ فقیر حسین رکن ہیں۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر ٹرسٹ کی تشہیر سے عدالتی اور قانونی حلقوں میں سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کیا کسی نجی ٹرسٹ کی تشہیر سرکاری ویب سائٹ پر کی جا سکتی ہے۔

اس ضمن میں بعض وکلا چیف جسٹس اور رجسٹرار کی جانب سے ٹرسٹ کی سربراہی اور رکنیت قبول کرنے پر بھی معترض ہیں۔

ٹرسٹ کے قیام کے بارے میں دستاویزات سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ٹرسٹ کے قیام کا مقصد سپریم کورٹ کے ان نچلے درجے کے ملازمین کی مالی امداد کرنا ہے جو اپنے بچوں کی تعلیم اور شادی کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

اگرچہ ٹرسٹ کے اغراض و مقاصد سپریم کورٹ کے نچلے عملے کی فلاح و بہبود سے متعلق ہیں تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی نجی ٹرسٹ کی سرکاری ویب سائٹ پرتشہیر نہیں کی جا سکتی۔

مذکورہ ٹرسٹ کے قوانین میں یہ شق بھی شامل ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ رمدے اس ٹرسٹ میں اپنے کسی بھی اہل خانہ کو نامزد کر سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر جسٹس طارق محمود نے اس عمل پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مفادات کا ٹکراؤ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی وکیل اس ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں بھاری رقم جمع کروا کر عدالت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتا ہے۔

کچھ وکلا کا کہنا ہے کہ اس ٹرسٹ کو کسی جج کی اہلیہ کے نام سے منسوب کرنا مناسب عمل نہیں ہے۔

جسٹس رمدے اپنے رعب و دبدبے اور سخت ریمارکس کی وجہ سے خاصی شہرت رکھتے تھے۔ جب فروری دو ہزار گیارہ میں انہوں نے سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج کا حلف اٹھایا تو اعلان کیا تھا کہ وہ اس عہدے پر رضاکارانہ کام کریں گے اور کوئی معاوضہ نہیں لیں گے۔ رپورٹس کے مطابق جس رقم سے ٹرسٹ قائم کیا گیا، یہ وہی تھی جسے بطور تنخواہ، جسٹس رمدے نے لینے سے انکار کردیا تھا۔

اس ٹرسٹ سے متعلق دستاویزات آپ اس ویب لنک پر دیکھ سکتے ہیں:

http://www.supremecourt.gov.pk/web/page.asp?id=1139

http://www.supremecourt.gov.pk/web/user_files/File/BegumQurrat-ul-AinRamdayWelfareTrust.pdf

اس حصے سے مزید

دسواں دن: حکومت اوراحتجاجی جماعتوں میں مذاکرات

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے باعث موجودہ سیاسی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔

ایل او سی خلاف ورزی: ہندوستان کو ڈی جی ایم اوز کی ملاقات کی تجویز

قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا کہ اگر ہندوستان کے پاس سرحد پر دراندازی کے ثبوت ہیں تو پیش کرے۔

'پی ٹی آئی کے استعفے راتوں رات قبول نہیں ہوسکتے'

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ یہ استعفے عجلت میں قبول نہیں کیے جائیں گے، اس حوالے سے طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

نواز پرو فیسر
15 اگست, 2012 22:19
صا ف چھپتے بھی نہیں.... نظر آتے بھی نہیں
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ڈرامے کی آخری قسط

اب اس آخری میلوڈرامہ کا جو بھی انجام ہو- اس نے پاکستانیوں کی آخری ہلکی سی امید کوبھی ریزہ ریزہ کردیا ہے-

پی ٹی آئی کی خالی دھمکیاں

جو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، وہ حقیقت سے دور ہیں۔ ایسا کوئی راستہ موجود نہیں، جس سے پارٹی اپنی ان دھمکیوں پر عمل کر سکے۔

بلاگ

سیاست میں شک کی گنجائش

شکوک کے ساتھ ساتھ ان افواہوں کو بھی تقویت مل رہی ہے کہ عمران خان اور طاہرالقادری اصل میں اسٹیبلشمنٹ کے مہرے ہیں۔

پکوان کہانی : شاہی قورمہ

جو اکبر اعظم کے شاہی باورچی خانے کی نگرانی میں راجپوت خانساماؤں کے تجربات کا نتیجہ ہے۔

دفاعی حکمت عملی کے نقصانات

مصباح کے دفاعی انداز کے اثرات ہمارے جارحانہ انداز رکھنے والے بیٹسمینوں پر بھی پڑے ہیں

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔