01 اگست, 2014 | 4 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر نجی ٹرسٹ کی تشہیر

سپریم کورٹ کی ویب سائیٹ کا اسکرین شوٹ۔ فائل فوٹو

اسلام آباد: نجی طور پر قائم کیے گئے ٹرسٹ کی سپریم کورٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر تشہیر نے عدالتی اور قانونی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ ٹرسٹ سابق جج خلیل الرحمان رمدے کی اہلیہ قرت العین رمدے نے قائم کیا تھا۔ ٹرسٹ کے چیئرمین چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہیں جب کہ رجسٹرار سپریم کورٹ فقیر حسین رکن ہیں۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر ٹرسٹ کی تشہیر سے عدالتی اور قانونی حلقوں میں سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کیا کسی نجی ٹرسٹ کی تشہیر سرکاری ویب سائٹ پر کی جا سکتی ہے۔

اس ضمن میں بعض وکلا چیف جسٹس اور رجسٹرار کی جانب سے ٹرسٹ کی سربراہی اور رکنیت قبول کرنے پر بھی معترض ہیں۔

ٹرسٹ کے قیام کے بارے میں دستاویزات سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ٹرسٹ کے قیام کا مقصد سپریم کورٹ کے ان نچلے درجے کے ملازمین کی مالی امداد کرنا ہے جو اپنے بچوں کی تعلیم اور شادی کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

اگرچہ ٹرسٹ کے اغراض و مقاصد سپریم کورٹ کے نچلے عملے کی فلاح و بہبود سے متعلق ہیں تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی نجی ٹرسٹ کی سرکاری ویب سائٹ پرتشہیر نہیں کی جا سکتی۔

مذکورہ ٹرسٹ کے قوانین میں یہ شق بھی شامل ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ رمدے اس ٹرسٹ میں اپنے کسی بھی اہل خانہ کو نامزد کر سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر جسٹس طارق محمود نے اس عمل پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مفادات کا ٹکراؤ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی وکیل اس ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں بھاری رقم جمع کروا کر عدالت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتا ہے۔

کچھ وکلا کا کہنا ہے کہ اس ٹرسٹ کو کسی جج کی اہلیہ کے نام سے منسوب کرنا مناسب عمل نہیں ہے۔

جسٹس رمدے اپنے رعب و دبدبے اور سخت ریمارکس کی وجہ سے خاصی شہرت رکھتے تھے۔ جب فروری دو ہزار گیارہ میں انہوں نے سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج کا حلف اٹھایا تو اعلان کیا تھا کہ وہ اس عہدے پر رضاکارانہ کام کریں گے اور کوئی معاوضہ نہیں لیں گے۔ رپورٹس کے مطابق جس رقم سے ٹرسٹ قائم کیا گیا، یہ وہی تھی جسے بطور تنخواہ، جسٹس رمدے نے لینے سے انکار کردیا تھا۔

اس ٹرسٹ سے متعلق دستاویزات آپ اس ویب لنک پر دیکھ سکتے ہیں:

http://www.supremecourt.gov.pk/web/page.asp?id=1139

http://www.supremecourt.gov.pk/web/user_files/File/BegumQurrat-ul-AinRamdayWelfareTrust.pdf

اس حصے سے مزید

اسلام آباد کو آج سے فوج کے حوالے کیا جارہا ہے

پاک فوج اسلام آباد کی سیکیورٹی کے لیے تین مہینے تک سول انتظامیہ کی مدد کرے گی۔

'دو سو ارب ڈالر واپسی کیلئے سوئس حکومت سے مذاکرات'

مذاکرات کے کئی دور ہوں گے جن میں تین سے چار سال تک کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے، وفاقی وزیر خزانہ۔

ایل او سی: گلتری سیکٹر پر ہندوستان کی بلااشتعال فائرنگ

پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ہندوستانی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ روک گیا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

نواز پرو فیسر
15 اگست, 2012 22:19
صا ف چھپتے بھی نہیں.... نظر آتے بھی نہیں
سروے
مقبول ترین
قلم کار

بجٹ اور صحت کا شعبہ

ایسا لگتا ہے کہ صحت کے بجٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کیلئے عطیات دینے والے ملکوں کے پیسے پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

بلاگ

ساغر صدیقی : ایک دل شکستہ شاعر

وہ خوبصورت نظمیں لکھتے، پھر بلند آواز میں خالی نگاہوں سے پڑھتے، پھر ان کاغذات کو پھاڑ دیتے جن پر وہ نظمیں لکھی ہوتیں

پکوان کہانی: کابلی پلاؤ - شمال کی شان

گوشت میں پکے چاول اس خطے کے جنگجوؤں کی ذہنی مطابقت اور جسمانی ساخت کے لیے موزوں تھے۔

ایک پاکستانی صحافی کی امریکا یاترا

میں نے جب یہ پوچھا کے کیا وہ پاکستان جانا چاہے گا تو اس کا کہنا تھا کے ہاں مجھے پاکستان جانے کا بہت شوق ہے۔

مووی ریویو: 'کک' صرف سلمان خان کی فلم نہیں

باصلاحیت اداکاروں کے ساتھ فلم بنا کر ساجد ناڈیا والا نے خود کو ایک قابل ڈائریکٹر منوا لیا ہے۔