20 ستمبر, 2014 | 24 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر نجی ٹرسٹ کی تشہیر

سپریم کورٹ کی ویب سائیٹ کا اسکرین شوٹ۔ فائل فوٹو

اسلام آباد: نجی طور پر قائم کیے گئے ٹرسٹ کی سپریم کورٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر تشہیر نے عدالتی اور قانونی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ ٹرسٹ سابق جج خلیل الرحمان رمدے کی اہلیہ قرت العین رمدے نے قائم کیا تھا۔ ٹرسٹ کے چیئرمین چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہیں جب کہ رجسٹرار سپریم کورٹ فقیر حسین رکن ہیں۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر ٹرسٹ کی تشہیر سے عدالتی اور قانونی حلقوں میں سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کیا کسی نجی ٹرسٹ کی تشہیر سرکاری ویب سائٹ پر کی جا سکتی ہے۔

اس ضمن میں بعض وکلا چیف جسٹس اور رجسٹرار کی جانب سے ٹرسٹ کی سربراہی اور رکنیت قبول کرنے پر بھی معترض ہیں۔

ٹرسٹ کے قیام کے بارے میں دستاویزات سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ٹرسٹ کے قیام کا مقصد سپریم کورٹ کے ان نچلے درجے کے ملازمین کی مالی امداد کرنا ہے جو اپنے بچوں کی تعلیم اور شادی کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

اگرچہ ٹرسٹ کے اغراض و مقاصد سپریم کورٹ کے نچلے عملے کی فلاح و بہبود سے متعلق ہیں تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی نجی ٹرسٹ کی سرکاری ویب سائٹ پرتشہیر نہیں کی جا سکتی۔

مذکورہ ٹرسٹ کے قوانین میں یہ شق بھی شامل ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ رمدے اس ٹرسٹ میں اپنے کسی بھی اہل خانہ کو نامزد کر سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر جسٹس طارق محمود نے اس عمل پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مفادات کا ٹکراؤ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی وکیل اس ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں بھاری رقم جمع کروا کر عدالت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتا ہے۔

کچھ وکلا کا کہنا ہے کہ اس ٹرسٹ کو کسی جج کی اہلیہ کے نام سے منسوب کرنا مناسب عمل نہیں ہے۔

جسٹس رمدے اپنے رعب و دبدبے اور سخت ریمارکس کی وجہ سے خاصی شہرت رکھتے تھے۔ جب فروری دو ہزار گیارہ میں انہوں نے سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج کا حلف اٹھایا تو اعلان کیا تھا کہ وہ اس عہدے پر رضاکارانہ کام کریں گے اور کوئی معاوضہ نہیں لیں گے۔ رپورٹس کے مطابق جس رقم سے ٹرسٹ قائم کیا گیا، یہ وہی تھی جسے بطور تنخواہ، جسٹس رمدے نے لینے سے انکار کردیا تھا۔

اس ٹرسٹ سے متعلق دستاویزات آپ اس ویب لنک پر دیکھ سکتے ہیں:

http://www.supremecourt.gov.pk/web/page.asp?id=1139

http://www.supremecourt.gov.pk/web/user_files/File/BegumQurrat-ul-AinRamdayWelfareTrust.pdf

اس حصے سے مزید

ناقص انتخابی سیاہی کے استعمال پر اداروں کے ایک دوسرے پر الزامات

ای سی پی نے پی سی ایس آئی آر کی جانب سے فراہم کردہ سیاہی کے معیار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انسانی ترقی کی فہرست میں پاکستان جمود کا شکار

یو این ڈی پی کے ایک مطالعے کے مطابق پاکستان میں 44.2 فیصد گھرانے کثیر جہتی مفلسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

نیا آئی ایس آئی چیف، وزیراعظم کے لیے مشکل انتخاب

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل ظہیر الاسلام یکم اکتوبر کو ریٹائر ہورہے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

نواز پرو فیسر
15 اگست, 2012 22:19
صا ف چھپتے بھی نہیں.... نظر آتے بھی نہیں
سروے
مقبول ترین
قلم کار

اب عمران خان کیا کریں گے؟

عمران خان انتخابی اصلاحات اور تحقیقات کی پیشکش کو تسلیم کر کے جیت سکتے تھے لیکن وہ مزید چیزیں داؤ پر لگائے جارہے ہیں۔

رودرہیم کا سبق

بچوں پر ہونیوالے جنسی تشدد پر ہماری شرمندگی کی سمت غلط ہے۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہم اس کو روکنے کی کوشش نہ کریں-

بلاگ

ڈرامہ ریویو: چپ رہو - حساس ترین موضوع پر بہترین پیشکش

زیادتی جیسے واقعات ہر وقت خبروں میں رہتے ہیں اس حوالے سے یہ ڈرامہ شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

میں باغی ہوں

اس ملک میں کہیں قانون کی حکمرانی نہیں، ہر جگہ لوٹ مار مچی ہے- کسی کو قانون کا پاس نہیں- تبدیلی آئی تو سب کا احتساب ہوگا-

دھرنے، عوام اور امید کی ہار

یہ میچ بھلے ہی جتنا بھی عرصہ جاری رہے، پر اس میں کھیلنے والے اور دیکھنے والے سب ہی ہارنے والے ہیں۔

مووی ریویو: دختر -- دلوں کو چُھو لینے والی کہانی

اپنی تمام تر خوبیوں اور کچھ خامیوں کے ساتھ اس فلم کو پاکستانی نکتہ نگاہ سے پیش کیا گیا ہے۔