02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

غلط فیصلے کے خلاف پیپلز پارٹی احتجاج کرے گی، کائرہ

وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ۔اے پی پی فوٹو

اسلام آباد: پیپلز پارٹی نے بدھ کے دن اشارہ کردیا ہے کہ آگر دوسرے وزیراعظم کو بھی گھر بھیجا گیا تو پارٹی اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرے گی۔

وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا پارٹی سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی بات کو مانتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ 'پارٹی ان کے نقطہ نظر کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہے'۔

کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ کرتے ہوئے کائرہ، جو کہ پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات بھی ہیں، کا کہنا تھا کہ گیلانی پارٹی کے رہنما ہیں اور اس کیوں کہ معاملہ بہت سنجیدگی اختیار کرچکا ہے لحاضہ ان ے ریمارکس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

جب کہ سپریم کورٹ ستائیس آگست کو این ار او کیس کی سماعت کرے گا جس میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو بھی بلایا گیا ہے، کائرہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پارٹی کی قیادت کو عدالت کی کارروائیوں سے شدید خدشات ہیں۔

وزیر اطلاعات قمرزمان کاہرہ نے کہا ہے وزیراعظم کو گھر بھیجنے کے خلاف مزاحمت کی تجویز پر فیصلہ پارٹی اجلاس میں فیصلہ ہوگا۔

احتجاجی مارچ کی مکمل طور پر نفی نہ کرتے ہوئے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب یوسف رضا گیلانی بھی نااہل ہونے کے بعد ملتان گئے تھے تو لوگ ان کے ساتھ ٹرین میں گئے تھے صرف یہ دیکھانے کے لیئے کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔

کائرہ نے کہا کہ عدالت سے منصفانہ حکم کی امید ہے لیکن آگر ایسا نہ ہوا تو پارٹی کو احتجاج کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔

اس حصے سے مزید

برطانیہ کا شہریوں کو پاکستان کے سفر پر انتباہ

سفارت کار، سرکاری وفود اور شہریپاکستان کے اپنے سفر پر نظرثانی کریں، دفتر خارجہ و کامن ویلتھ۔

'سفارت کار نقل و حرکت میں احتیاط برتیں'

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق احتیاط کی ہدایات دی گئیں تاہم سفارتخانوں کی بندش کی کوئی ہدایت جاری یا موصول نہیں ہوئی ہے۔

وزیراعظم نیٹو سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے

سیاسی بحران کے باعث وزیراعظم کا دورہ منسوخ کرکے جونیئر سفارتی عہدیدار کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے گا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔