30 اگست, 2014 | 3 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

غلط فیصلے کے خلاف پیپلز پارٹی احتجاج کرے گی، کائرہ

وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ۔اے پی پی فوٹو

اسلام آباد: پیپلز پارٹی نے بدھ کے دن اشارہ کردیا ہے کہ آگر دوسرے وزیراعظم کو بھی گھر بھیجا گیا تو پارٹی اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرے گی۔

وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا پارٹی سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی بات کو مانتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ 'پارٹی ان کے نقطہ نظر کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہے'۔

کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ کرتے ہوئے کائرہ، جو کہ پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات بھی ہیں، کا کہنا تھا کہ گیلانی پارٹی کے رہنما ہیں اور اس کیوں کہ معاملہ بہت سنجیدگی اختیار کرچکا ہے لحاضہ ان ے ریمارکس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

جب کہ سپریم کورٹ ستائیس آگست کو این ار او کیس کی سماعت کرے گا جس میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو بھی بلایا گیا ہے، کائرہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پارٹی کی قیادت کو عدالت کی کارروائیوں سے شدید خدشات ہیں۔

وزیر اطلاعات قمرزمان کاہرہ نے کہا ہے وزیراعظم کو گھر بھیجنے کے خلاف مزاحمت کی تجویز پر فیصلہ پارٹی اجلاس میں فیصلہ ہوگا۔

احتجاجی مارچ کی مکمل طور پر نفی نہ کرتے ہوئے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب یوسف رضا گیلانی بھی نااہل ہونے کے بعد ملتان گئے تھے تو لوگ ان کے ساتھ ٹرین میں گئے تھے صرف یہ دیکھانے کے لیئے کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔

کائرہ نے کہا کہ عدالت سے منصفانہ حکم کی امید ہے لیکن آگر ایسا نہ ہوا تو پارٹی کو احتجاج کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔

اس حصے سے مزید

شیخ رشید، جمشید دستی بھی استعفے دیں، پی ٹی آئی اراکین کی شکایت

عمران خان شیخ رشید کو استعفے پر قائل کرنے میں ناکام رہے، ذرائع تحریک انصاف۔

آئی ایس پی آرکابیان حکومتی منظوری سے جاری ہوا، وفاقی وزیر داخلہ

چوہدری نثارنےکہاہےکہ حکومت نےکسی کو ضامن اور ثالث نہیں بنایا,آئی ایس پی آرکابیان وزیراعظم کودیکھانے کےبعدجاری کیاگیا۔

نواز شریف نے آرمی چیف سے 'معاونت' مانگی، آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حکومت نےآرمی چیف سے موجودہ صورتحال کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا کہا تھا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت

حکومت نےکس قدر عجلت میں مذاکرات کا فیصلہ کیا، اس سے معاملات کے اوپر جی ایچ کیو کی گرفت کا اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے۔

بلاگ

اجتماعی سیاسی قبر

فوج کو سیاسی معاملات میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاستدان سیاسی معاملات سے نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

مووی ریویو: مردانی - پاورفل کہانی، بہترین پرفارمنس

بولی وڈ اداکار رانی مکھرجی اور طاہر بھاسن دونوں ہی اپنی بولڈ پرفارمنس کے لئے تعریف کے لائق ہیں۔

عظیم مقاصد، پر راستہ؟

اس طوفان کے نتیجے میں ان چاہی افرا تفری پھیل سکتی ہے، اسلیے اچھے مقاصد کے لیے ایسے راستے اختیار نہیں کیے جانے چاہییں۔

انقلاب معافی چاہتا ہے

ڈی چوک وہ سیاسی چراغ ہے جس کو اگر ضدی شہزادے کافی حد تک رگڑ دیں تو کچھ پتا نہیں اس میں سے انقلاب کا جن نکل ہی آئے۔