18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

غلط فیصلے کے خلاف پیپلز پارٹی احتجاج کرے گی، کائرہ

وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ۔اے پی پی فوٹو

اسلام آباد: پیپلز پارٹی نے بدھ کے دن اشارہ کردیا ہے کہ آگر دوسرے وزیراعظم کو بھی گھر بھیجا گیا تو پارٹی اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرے گی۔

وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا پارٹی سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی بات کو مانتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ 'پارٹی ان کے نقطہ نظر کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہے'۔

کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ کرتے ہوئے کائرہ، جو کہ پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات بھی ہیں، کا کہنا تھا کہ گیلانی پارٹی کے رہنما ہیں اور اس کیوں کہ معاملہ بہت سنجیدگی اختیار کرچکا ہے لحاضہ ان ے ریمارکس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

جب کہ سپریم کورٹ ستائیس آگست کو این ار او کیس کی سماعت کرے گا جس میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو بھی بلایا گیا ہے، کائرہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پارٹی کی قیادت کو عدالت کی کارروائیوں سے شدید خدشات ہیں۔

وزیر اطلاعات قمرزمان کاہرہ نے کہا ہے وزیراعظم کو گھر بھیجنے کے خلاف مزاحمت کی تجویز پر فیصلہ پارٹی اجلاس میں فیصلہ ہوگا۔

احتجاجی مارچ کی مکمل طور پر نفی نہ کرتے ہوئے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب یوسف رضا گیلانی بھی نااہل ہونے کے بعد ملتان گئے تھے تو لوگ ان کے ساتھ ٹرین میں گئے تھے صرف یہ دیکھانے کے لیئے کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔

کائرہ نے کہا کہ عدالت سے منصفانہ حکم کی امید ہے لیکن آگر ایسا نہ ہوا تو پارٹی کو احتجاج کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔

اس حصے سے مزید

چیئرمین پیمرا، واپڈا عہدوں سے فارغ

وزیراعظم نے چیئرمین واپڈا سے استعفیٰ لیکر ظفر محمود کو نیا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔

فیصل رضا عابدی کا استعفیٰ منظور

سینیٹ کے اجلاس میں فیصل نے استعفیٰ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو پیش کیا جسے منظور کرلیا گیا ہے۔

تھری، فور جی نیلامی کے لیے چاروں کمپنیاں اہل قرار

دوسری جانب، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ذیلی کمیٹی نے پی ٹی اے اور حکومت کو نیلامی سے روک دیا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے