22 ستمبر, 2014 | 26 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

مانسہرہ میں فرقہ ورانہ دہشت گردی، بیس افراد ہلاک

۔ — فائل فوٹو رائٹرز

مانسہرہ: راولپنڈی سے  گلگت جانے والی مسافر بس پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کم از کم بیس شیعہ مسلمان ہلاک ہو گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ اسلام آباد سے سو کلو میٹر دور ضلع مانسہرہ میں وادی بابوسر کے بالائی علاقے میں پیش آیا۔

مانسہرہ کے ایڈمنسٹریشن چیف خالد عمرزئی کے مطابق تقریباَ بارہ افراد نے گلگت جانے والی بس کو روکنے کے بعد مسافروں کو زبردستی نیچے اتارا۔

بعد ازاں، مسافروں کی دستاویزات کی جانچ کے بعد اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہوگئے۔

عمر زئی نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات آنے تک ہلاکتوں کی تعداد بیس ہے تاہم اس میں اضافہ کا خدشہ ہے ۔

مقامی پولیس افسر شفیق گل نے کہا کہ تمام حملہ آور نقاب پوش تھے جنہوں نے تین گاڑیوں کو روکا اور تلاشی لینے کے بعد لوگوں کو پانچ، چھ اور نو افراد کے تین گروپوں کی صورت میں باہر نکالنے کے بعد ہلاک کر دیا۔

گلگت پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل علی شیر نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والے تمام افراد راولپنڈی سے گلگت جارہے تھے۔

علی شیر کے مطابق یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ فرقہ ورانہ واردات تھی ۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ گذشتہ چھ ماہ میں اس نوعیت کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔

گلگت کے سیاحتی علاقے میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران فرقہ وارانہ قتل و غارت گری میں اضافہ ہوا ہے۔

رواں سال، اٹھائیس فروری کو مسلح افراد نے کوہستان کے شمالی ضلع میں راولپنڈی سے گلگت جانے والی بس میں سے سوار اٹھارہ شیعہ مسلمانوں کو اتار کر فائرنگ کر کے ہلاک  کردیا تھا۔

تین اپریل کو گلگت کے جنوب میں ساٹھ میل دور چلاس کے علاقے میں نو شیعہ مسلمان نامعلوم افراد پر مشتمل ہجوم  کے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حصے سے مزید

ضرب عضب: فضائی کارروائی میں مزید 23 'دہشت گرد' ہلاک

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم سے ایک طویل ملاقات بھی کی جس میں ضرب عضب پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ہری پور میں ٹریفک حادثہ، نو افراد ہلاک

ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثہ بظاہر تیز رفتاری کے باعث پیش آیا، تاہم مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

اس سال 149 متاثرہ بچے پولیو ویکسین سے محروم رہے

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق جب تک ایک وائرس بھی دنیا میں کہیں باقی ہے، وہ بچوں کو متاثر کرسکتا ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (3)

انجم ناصر
16 اگست, 2012 21:27
ان فرقوں کو بلیک واٹر + انڈین ایجنسیز استعمال کر رہی ہیں۔
انعم
17 اگست, 2012 07:26
یہ سب ہماری بد قسمتی ہےاور کچھ نھیں کہ اپنے ملک میں محفوظ نہیں۔
فاساھات ماند کھان
19 اگست, 2012 20:02
ان دہشت گرد تنطموں کو مصروف رکھنے کا طریقہ نکالنا ہو گا۔
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-