01 اکتوبر, 2014 | 5 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

مانسہرہ میں فرقہ ورانہ دہشت گردی، بیس افراد ہلاک

۔ — فائل فوٹو رائٹرز

مانسہرہ: راولپنڈی سے  گلگت جانے والی مسافر بس پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کم از کم بیس شیعہ مسلمان ہلاک ہو گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ اسلام آباد سے سو کلو میٹر دور ضلع مانسہرہ میں وادی بابوسر کے بالائی علاقے میں پیش آیا۔

مانسہرہ کے ایڈمنسٹریشن چیف خالد عمرزئی کے مطابق تقریباَ بارہ افراد نے گلگت جانے والی بس کو روکنے کے بعد مسافروں کو زبردستی نیچے اتارا۔

بعد ازاں، مسافروں کی دستاویزات کی جانچ کے بعد اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہوگئے۔

عمر زئی نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات آنے تک ہلاکتوں کی تعداد بیس ہے تاہم اس میں اضافہ کا خدشہ ہے ۔

مقامی پولیس افسر شفیق گل نے کہا کہ تمام حملہ آور نقاب پوش تھے جنہوں نے تین گاڑیوں کو روکا اور تلاشی لینے کے بعد لوگوں کو پانچ، چھ اور نو افراد کے تین گروپوں کی صورت میں باہر نکالنے کے بعد ہلاک کر دیا۔

گلگت پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل علی شیر نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والے تمام افراد راولپنڈی سے گلگت جارہے تھے۔

علی شیر کے مطابق یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ فرقہ ورانہ واردات تھی ۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ گذشتہ چھ ماہ میں اس نوعیت کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔

گلگت کے سیاحتی علاقے میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران فرقہ وارانہ قتل و غارت گری میں اضافہ ہوا ہے۔

رواں سال، اٹھائیس فروری کو مسلح افراد نے کوہستان کے شمالی ضلع میں راولپنڈی سے گلگت جانے والی بس میں سے سوار اٹھارہ شیعہ مسلمانوں کو اتار کر فائرنگ کر کے ہلاک  کردیا تھا۔

تین اپریل کو گلگت کے جنوب میں ساٹھ میل دور چلاس کے علاقے میں نو شیعہ مسلمان نامعلوم افراد پر مشتمل ہجوم  کے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حصے سے مزید

تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی کی رکنیت بحال

سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے سردار اکرام اللہ گنداپور کی بطور رکن خیبرپختونخوا اسمبلی رکنیت بحال کردی۔

پشاور: اسکول پر دستی بم حملے میں ٹیچر ہلاک

پشاور کے علاقے شبقدر میں ایک اسکول پر دستی بم حملے میں ایک ٹیچر ہلاک اور دو بچے زخمی ہو گئے۔

وادیِ تیراہ میں ریمورٹ کنٹرول بم دھماکا، پانچ افراد ہلاک

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکا تیراہ میں شدت پسند گروپ لشکر اسلام کی بیس میں ہوا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (3)

انجم ناصر
16 اگست, 2012 21:27
ان فرقوں کو بلیک واٹر + انڈین ایجنسیز استعمال کر رہی ہیں۔
انعم
17 اگست, 2012 07:26
یہ سب ہماری بد قسمتی ہےاور کچھ نھیں کہ اپنے ملک میں محفوظ نہیں۔
فاساھات ماند کھان
19 اگست, 2012 20:02
ان دہشت گرد تنطموں کو مصروف رکھنے کا طریقہ نکالنا ہو گا۔
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟