22 اگست, 2014 | 25 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

مانسہرہ میں فرقہ ورانہ دہشت گردی، بیس افراد ہلاک

۔ — فائل فوٹو رائٹرز

مانسہرہ: راولپنڈی سے  گلگت جانے والی مسافر بس پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کم از کم بیس شیعہ مسلمان ہلاک ہو گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ اسلام آباد سے سو کلو میٹر دور ضلع مانسہرہ میں وادی بابوسر کے بالائی علاقے میں پیش آیا۔

مانسہرہ کے ایڈمنسٹریشن چیف خالد عمرزئی کے مطابق تقریباَ بارہ افراد نے گلگت جانے والی بس کو روکنے کے بعد مسافروں کو زبردستی نیچے اتارا۔

بعد ازاں، مسافروں کی دستاویزات کی جانچ کے بعد اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہوگئے۔

عمر زئی نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات آنے تک ہلاکتوں کی تعداد بیس ہے تاہم اس میں اضافہ کا خدشہ ہے ۔

مقامی پولیس افسر شفیق گل نے کہا کہ تمام حملہ آور نقاب پوش تھے جنہوں نے تین گاڑیوں کو روکا اور تلاشی لینے کے بعد لوگوں کو پانچ، چھ اور نو افراد کے تین گروپوں کی صورت میں باہر نکالنے کے بعد ہلاک کر دیا۔

گلگت پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل علی شیر نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والے تمام افراد راولپنڈی سے گلگت جارہے تھے۔

علی شیر کے مطابق یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ فرقہ ورانہ واردات تھی ۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ گذشتہ چھ ماہ میں اس نوعیت کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔

گلگت کے سیاحتی علاقے میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران فرقہ وارانہ قتل و غارت گری میں اضافہ ہوا ہے۔

رواں سال، اٹھائیس فروری کو مسلح افراد نے کوہستان کے شمالی ضلع میں راولپنڈی سے گلگت جانے والی بس میں سے سوار اٹھارہ شیعہ مسلمانوں کو اتار کر فائرنگ کر کے ہلاک  کردیا تھا۔

تین اپریل کو گلگت کے جنوب میں ساٹھ میل دور چلاس کے علاقے میں نو شیعہ مسلمان نامعلوم افراد پر مشتمل ہجوم  کے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حصے سے مزید

پشاور: تیز بارش میں حادثات، 8 افراد ہلاک، 42زخمی

پشاور اور گرد ونواح میں تیزہواؤں کے ساتھ آندھی اورگردآلود طوفان شروع ہوا جس کے بعد گرج چمک کے ساتھ شدید بارش شروع ہوگئی۔

خیبرایجنسی: نیٹو ٹینکر پر فائرنگ، دو افراد ہلاک

فائرنگ کے بعد آئل ٹینکر میں آگ لگ گئی، جبکہ امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں ہیں۔

پشاور بڑی تباہی سے بچ گیا

دس کلو گرام وزنی بم کو چمکنی پولیس اسٹیشن کی حدود میں ایک پریشر ککر میں رکھا گیا تھا، جسے ناکارہ بنا دیا گیا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (3)

انجم ناصر
16 اگست, 2012 21:27
ان فرقوں کو بلیک واٹر + انڈین ایجنسیز استعمال کر رہی ہیں۔
انعم
17 اگست, 2012 07:26
یہ سب ہماری بد قسمتی ہےاور کچھ نھیں کہ اپنے ملک میں محفوظ نہیں۔
فاساھات ماند کھان
19 اگست, 2012 20:02
ان دہشت گرد تنطموں کو مصروف رکھنے کا طریقہ نکالنا ہو گا۔
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مضبوط ادارے

ریاستی اداروں پر تمام جماعتوں کی جانب سے حملہ تب کیا گیا جب وہ ابتدائی طور پر ہی سہی پر قابلیت کا مظاہرہ کرنے لگے تھے۔

آئینی نظام کو لاحق خطرات

پی ٹی آئی کی سیاست کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی طرح موجودہ آئینی صورت حال میں ممکن سیاسی حل کیلئے تیار نہیں ہے-

بلاگ

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔

جعلی انقلاب اور جعلی فوٹیجز

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی غیر آئینی حرکتوں کی وجہ سے اگر فوج آگئی تو چینلز ایسی نشریات کرنا بھول جائیں گے۔

!جس کی لاٹھی اُس کا گلّو

ہر دکاندار اور ریڑھی والے سے پِٹنا کوئی آسان عمل نہیں ہوگا شاید یہی وجہ ہے کہ سول نافرمانی کوئی آسان کام نہیں۔

ہمارے کپتانوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ مصباح الحق اور عمران خان میں سے زیادہ کون بچوں کی طرح اپنی غلطی ماننے سے انکاری ہے۔