02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

مانسہرہ میں فرقہ ورانہ دہشت گردی، بیس افراد ہلاک

۔ — فائل فوٹو رائٹرز

مانسہرہ: راولپنڈی سے  گلگت جانے والی مسافر بس پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کم از کم بیس شیعہ مسلمان ہلاک ہو گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ اسلام آباد سے سو کلو میٹر دور ضلع مانسہرہ میں وادی بابوسر کے بالائی علاقے میں پیش آیا۔

مانسہرہ کے ایڈمنسٹریشن چیف خالد عمرزئی کے مطابق تقریباَ بارہ افراد نے گلگت جانے والی بس کو روکنے کے بعد مسافروں کو زبردستی نیچے اتارا۔

بعد ازاں، مسافروں کی دستاویزات کی جانچ کے بعد اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہوگئے۔

عمر زئی نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات آنے تک ہلاکتوں کی تعداد بیس ہے تاہم اس میں اضافہ کا خدشہ ہے ۔

مقامی پولیس افسر شفیق گل نے کہا کہ تمام حملہ آور نقاب پوش تھے جنہوں نے تین گاڑیوں کو روکا اور تلاشی لینے کے بعد لوگوں کو پانچ، چھ اور نو افراد کے تین گروپوں کی صورت میں باہر نکالنے کے بعد ہلاک کر دیا۔

گلگت پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل علی شیر نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والے تمام افراد راولپنڈی سے گلگت جارہے تھے۔

علی شیر کے مطابق یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ فرقہ ورانہ واردات تھی ۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ گذشتہ چھ ماہ میں اس نوعیت کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔

گلگت کے سیاحتی علاقے میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران فرقہ وارانہ قتل و غارت گری میں اضافہ ہوا ہے۔

رواں سال، اٹھائیس فروری کو مسلح افراد نے کوہستان کے شمالی ضلع میں راولپنڈی سے گلگت جانے والی بس میں سے سوار اٹھارہ شیعہ مسلمانوں کو اتار کر فائرنگ کر کے ہلاک  کردیا تھا۔

تین اپریل کو گلگت کے جنوب میں ساٹھ میل دور چلاس کے علاقے میں نو شیعہ مسلمان نامعلوم افراد پر مشتمل ہجوم  کے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حصے سے مزید

پروفیسر اجمل کے بدلے تین طالبان قیدی رہا کرائے، مُلا فضل اللہ

اسلام آباد میں 30 ہزار لوگوں نے حکومت کو یرغمال بنا لیا ہے جس سے طالبان کا کام آسان ہو گیا،سربراہ تحریک طالبان پاکستان

بے گھر افراد کے لیے 1.5 ارب روپے کے فنڈز کی درخواست

فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ فنڈز کے اجراء میں تاخیر سے نقد امداد کی تقسیم کا پروگرام معطل ہوسکتا ہے۔

۔’’ضرب عضب‘‘: 32 دہشت گرد ہلاک، 3ٹھکانے تباہ

آئی ایس پی آر کے مطابق بارودی مواد سے بھری ہوئی 23 گاڑیاں اور اسلحے کے 4 ذخائر بھی تباہ کر دیئے گئے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (3)

انجم ناصر
16 اگست, 2012 21:27
ان فرقوں کو بلیک واٹر + انڈین ایجنسیز استعمال کر رہی ہیں۔
انعم
17 اگست, 2012 07:26
یہ سب ہماری بد قسمتی ہےاور کچھ نھیں کہ اپنے ملک میں محفوظ نہیں۔
فاساھات ماند کھان
19 اگست, 2012 20:02
ان دہشت گرد تنطموں کو مصروف رکھنے کا طریقہ نکالنا ہو گا۔
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔