27 اگست, 2014 | 30 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ ہیں: امریکہ

یو ایس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ۔ – روئٹرز فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکہ نے کامرہ بیس حملے میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نےایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کےبہترانتظامات کررکھےہیں اور وہ ان سے مطمئن ہیں۔

یو ایس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ  نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کامرہ بیس پر حملے سے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو کوئی خطرہ نہیں اور انہیں پاکستان کے اس بیان پر کوئی شک نہیں ہے کہ کامرہ بیس میں جوہری ہتھیار موجود نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کیلئے پاک افغان اور نیٹو تعاون ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے تحفظ کیلئے پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور پاکستانی حکومت نے ایٹیم ہتھیاروں کی تحفظ کیلئے بہترین اقدامات کررکھے ہیں۔

اس حصے سے مزید

آئی ایس کا امریکہ سے عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ

برطانوی اخبار کے مطابق کہ آئی ایس نے اس مطالبے کے ذریعے پاکستان اور افغانستان میں اپنی حمایت کو بڑھانے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان کے سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کر رہے، امریکا

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ امریکا پاکستان میں موجودہ سیاسی صورتحال کا گہری نظر سے جائزہ لے رہا ہے۔

دو اہم طالبان رہنماؤں پر امریکی پابندی

امریکا نے طالبان کو فنڈز فراہم کرنے والی ایک کمپنی اور دو اہم طالبان رہنماؤں پر پابندی عائد کردی


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

دو کشتیوں کے سوار نواز شریف

نواز شریف کے مطابق اگر ان کو طاقت کے زور پر نکالا گیا تو پاکستان کو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔

پاکستان میں جمہوریت

کیا جمہوریت پاکستان میں عوام کیلیے ہے یا حکمرانوں کو انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کی یقین دہانی کیلیے ہے؟

بلاگ

مووی ریویو: ٹین ایج میوٹنٹ ننجا ٹرٹلز

تباہی و بربادی کے سینز، سپر ہیروز اور ایک حسینہ والے کامیاب ثابت شدہ فارمولے فلم کا حصہ رہے۔

تجزیوں کا بخار

گھر کے تمام افراد کو اتنے گروپس میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جتنے کہ تجزیہ کار موجود ہیں۔

بڑے بوٹ اور چھوٹے بوٹ

پاکستانی عوام کا مزاج کہہ لیں اور ہماری سیاسی قوتوں کی کمزوری کے ہر مشکل گھڑی میں نظریں فوج کی جانب ہی اُٹھتی ہیں۔

!ٹی وی پر انقلاب دیکھنا مشکل کام

مارچ دیکھتے رہنے سے دوسرے مسائل پر سے توجہ ہٹ رہی ہے، جو زیادہ شرمناک ہیں اور جن پر کم ہی بات کی جاتی ہے۔