01 ستمبر, 2014 | 5 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

میانمار میں بدامنی، تحقیقاتی کمیشن قائم

روہینگا مسلمان کوالالمپور میں برطانوی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کر رہے ہیں۔—اے پی فوٹو

ینگون: میانمار نے فرقہ وارانہ جھڑپوں کی، جن میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں کی تعداد میں بے گھر ہوگئے ہیں، تحقیقات کے لیے ایک نیا کمیشن قائم کر دیا ہے۔

یہ بات کمیشن کے ارکان نے ایک خبر رساں ادارے کو بتائی۔

مغربی ریاست رکھائن میں بدھوؤں اور مسلمان روہینگا کے درمیان خونریز بدامنی کے بعد سرکاری حکام کو انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے کڑی نکتہ چینی کا سامنا ہے۔

ریاست کا ترجمان سمجھے جانے والے اخبار نیو لائٹ آف میانمار کے مطابق مذہبی رہنماؤں ،فنکاروں اور سابق حکومت کے مخالفین پر مشتمل ستائیس رکنی یہ کمیشن، واقعات کے اصل حقائق بے نقاب کرنے کے علاوہ اقدامات تجویز کریگا ۔

اخبار کے مطابق کمیشن کے قیام کا مقصد جون میں ہونے والے تشدد کی وجوہات ،فریقین کی ہلاکتوں کی تعداد اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اقدامات تجویز کرنے کے علاوہ پرامن بقائے باہمی کے طریقے معلوم کرنا ہے ۔

رکھائن نیشنلٹیز ڈویلپمنٹ پارٹی کے چیئرمین آئے ماؤنگ نے کمیشن کے قیام کو درست اقدام قرار دیتے ہوئے کہا یہ اس امر کا آئینہ دار ہے کہ ہم اپنے ملک کی تقدیر کا خود فیصلہ کر سکتے ہیں ۔

یاد رہے کہ حکومت نے فرقہ وارانہ تشدد کی تحقیقات کے لئے جون میں ایک کمیٹی قائم کی تھی لیکن صدر تھین سین نے کبھی اس کی تحقیقات جاری نہیں کی ۔

حکومت نے مسلمان روہینگا کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بڑھتے ہوئے احتجاج کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دنیا کے سب سے بڑے مسلمان گروپ اسلامی تعاون تنظیم کو ملک کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے ۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق تشدد کے ابتداء میں اسی افراد ہلاک ہوئے لیکن انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق ہلاک شدگان باالخصوص روہینگا مسلمانوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

توقع ہے کہ کمیشن عینی شاہدین کو دعوت دیگا اور اسے تشدد سے متاثرہ ان علاقو ں تک رسائی کا موقع دیا جائے گا، جہاں کئی دیہات تباہ و برباد کر دیئے گئے اور ہزاروں سے زائد بے گھر افراد حکومت کے زیر انتظام کیمپوں اور پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔

تھین سین نے گزشتہ سال فوجی اقتدار کے یکسر خاتمے کے بعد متعدد اصلاحات کی ہیں لیکن رکھائن کے خون خرابے نے ان تبدیلیوں پر گہرے سائے ڈال دیئے ہیں ۔

میانمار کی حکومت نے اقوام متحدہ کی طرف سے مسلمانوں پر کریک ڈاؤن کے بارے میں خدشات کے اظہار کے بعد رکھائن میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے زیادتیوں کے الزامات کی تردید کی ہے ۔

نیو یارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے میانمار کی فوج پر جون میں بدامنی کے آغاز پر روہینگا مسلمانوں پر فائرنگ، آبروریزی اور ہجوم کے ایک دوسروں پر حملوں کے دوران خاموش تماشائی بنے رہنے کا الزام عائد کیا ہے ۔

اس حصے سے مزید

پاکستان، ہندوستان تنازعات بات چیت سے حل کریں، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون نے موجودہ کشیدہ صورتحال میں دونوں ممالک کے سربراہان کو مذاکرات کا مشورہ دیا ہے۔

مودی جرائم میں ملوث وزراء نہ چنیں، سپریم کورٹ

ہندوستان میں کرپٹ وزراء کے انتخاب کی تاریخ بہت پرانی ہے اور زیادہ ترکو ذات پات یا مذہب کی بنیاد پر منتخب کیا جا تا ہے۔

پاکستان میں سیاسی بحران، سری لنکن صدر کا دورہ منسوخ

سری لنکن صدر نے بائیس اگست کو اسلام آباد پہنچنا تھا، جہاں ان کی سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں طے تھیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔