01 ستمبر, 2014 | 5 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

ووٹر فہرستیں

elections-670
نقائص سے پاک ووٹر فہرستوں کیلیے ایک دیرپا کاوش کی ضرورت ہے تاکہ آزاد اور شفاف انتخابا ت کی راہ ہموار ہو سکے۔- فائل فوٹو۔

الیکشن کمیشن نے اخبارمیں اشتہارات کے ذریعے اس امر پر زور دیا ہے کہ عوام دو ہزار بارہ کی حتمی ووٹر فہرستوں میں اپنے نام اور دیگر کوائف کی جانچ پڑتال کر لیں اور اگر معلومات میں کوئی نقص ہو تواسکی تصحیح کروا لیں۔ اور اس غرض سے فہرستیں ضلعی الیکشن کمشنرز کے دفاتر میں موجود ہیں۔

بنیادی طور پر توثیق کی ذمہ داری شہریوں پر عائد کر دی گئی ہے۔ یہی وہ وقت ہے کہ سیاسی جماعتیں سرگرم ہوں اور  ووٹروں کواپنے کوائف کے اندراج اورانکی توثیق کرنے کی ترغیب دیں۔

نادرا کا  کہنا ہے کہ پاکستان کے چھیانوے فیصد بالغ افراد ( تقریباَ نو کروڑ بیس لاکھ افراد) کو کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ جاری کئے جا چکے ہیں ۔ یہ اعداد اسلئے اہم ہے کہ ووٹر کے اندراج کا تعلق شناختی کارڈ سےمشروط ہے۔

الیکشن کمیشن کے اعداد کے مطابق ملک میں آٹھ کروڑ چالیس لاکھ سے کچھ زائد ووٹر موجود ہیں۔

لہٰذا الیکشن کمیشن اور نادرا کو درج شدہ ووٹروں کی تعداد اور کمپیوٹرائز ڈ شناختی کارڈ کے حامل افراد کی سرکاری گنتی میں موجود فرق کی صفائی پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

اعدادو شمار کے اس کھیل نے ایک تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ آزاد ذرائع کے مطابق ایک وجہ دو کروڑ ووٹروں کے اندراج نہیں ہو سکا ہے۔ اس مسئلے کی اصل جڑ ملک میں مردم شماری کا نہ ہونا بھی ہے۔

آبادی کی پیشن گوئی کرنا نادرا یا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری نہیں ہے۔ لہٰذا ووٹروں کی تعداد کے حوالے سے موجو د ابہام ایک قابل اعتماد  اور تنازعہ سے پاک مردم شماری کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔

یہ نہایت ضروری ہے کہ ایک قابل بھروسہ اور محض اندازوں پر اکتفا نہ کرنے والے ڈیٹا بیس ہمہ وقت موجود رہے تاکہ ووٹر فہرستوں کو حتمی شکل دینے جیسی قومی مشقوں کو غیر متنازعہ انداز میں پورا کیا جا سکے۔

شہریوں کے اندراج اور اس عمل کو ممکن بنانے کیلیے سہولیات تک حد ممکن رسائی توجہ کے طلب گار اہم ترین پہلو ہیں ۔اگران دو پہلوؤں پر کام کیا گیا تو ووٹروں کی سرکاری اعداد و شمار اوراطلاعات کے مطابق رہ جانے والے لاکھوں ووٹروں کے درمیان موجود فرق کو کم کیا جاسکتا ہے۔

مگر ساتھ ہی یہ یا د رکھنا بھی ضروری ہے کہ ہر ماہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈز بڑی تعداد جاری کیے جاتے ہیں اور انتخابا ت کے شیڈول کے اعلان تک الیکشن کمیشن کو اپنی رفتار بڑھا کرتیزی سے نئے رجسٹرڈ شہریوں کا ریکارڈ رکھنا پڑیگا۔

توثیق کا عمل تحصیل سطح پر کئے جانے کی رائے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ضلعی ہیڈ کوارٹر تک کا سفر لوگوں کیلئے دشوار اور مہنگا رہیگا۔ بالخصوص ان لوگوں کیلئے جو دور دراز کے علاقوں میں مقیم ہیں۔

اخبارمیں اشتہارات کے ساتھ ساتھ ، ووٹر فہرستوں کے حوالے سے عوام کو آگاہ کرنے کیلئے الیکٹرانک میڈیا پر اردو اور علاقائی زبانوں میں پیغامات براڈکاسٹ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

تمام متعلقہ اداروں کی جانب سے ووٹر فہرستوں کوممکنہ حد تک نقائص سے پاک کرنے کیلیے ایک دیرپا کاوش کی ضرورت ہے تاکہ آزاد اور شفاف انتخابا ت کی راہ ہموار ہو سکے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

اس حصے سے مزید

طالبان کی کہانی

مذاکراتی عمل میں، داستانِ جنگ کو یکسر فراموش کردینا حکومت کی بڑی اور بنیادی غلطی ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات

سب کچھ ماورائی فلموں جیسا لگتا ہے لیکن پاکستان سمیت کوئی بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں۔

ٹی ٹی پی ڈرائیونگ سیٹ پر؟

خفیہ رکھے گئے مذاکرات پر پیشرفت کے دعوے، لگتا ہے ٹی ٹی پی پھر فائدے میں ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
سروے
بلاگ

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔

حالیہ بحران پر کچھ سوالات

مستقبل میں کیا ہو گا، بحران کا کیا حل نکلے گا، ان سوالات کے جوابات موجود نہیں ہیں، پر اس حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔

پکوانی کہانی- سندھی بریانی

ہر قسم کی بریانیوں میں سے یہ بریانی منفرد حیثیت رکھتی ہے جو سندھی طریقے سے بہت زیادہ مصالحوں کے ساتھ تیار ہوتی ہے۔

‫ڈرامہ ریویو: وہ۔۔۔ دوبارہ (خوف و دہشت کا احساس)

انسان چاہے بد روحوں سے جتنا بھی ڈرے مگر ان پر بنی فلموں یا ڈراموں کو دیکھنے کا شوق پھر بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔