01 اکتوبر, 2014 | 5 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

کوئٹہ میں کار بم دھماکہ، دو افراد ہلاک،12 زخمی

۔— فائل فوٹو

کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بم دھماکے کے ذریعے سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش میں دو افراد ہلاک جبکہ بارہ زخمی ہو گئے۔

ڈان نیوز نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ عید کے دوسرے روز تخریب کاروں نے سریاب روڈ پرموسٰی کالونی کے قریب سڑک کنارے کھڑی ایک گاڑی میں دھماکہ خیزمواد نصب کر رکھا تھا اور ان کا ہدف وہاں  سے گزرنے والی ایف سی کی گاڑی تھی۔

تاہم دھماکے کے وقت گاڑی وہاں سے بحفاظت نکل گئی لیکن پیچھے آنے والے دو رکشے اور ایک پیلی ٹیکسی تباہ ہوگئے۔

دھماکے میں ہونے والے زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا۔

واقعے کے بعد علاقے کو سیکورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا اور ابتدائی تحقیقات شروع کر دیں۔

دھماکہ اتنا شدید تھا کہ قریبی عمارتیں لرز اٹھیں اور ان کے شیشے ٹوٹ گئے۔

اس حصے سے مزید

کوئٹہ: ڈبل روڈ پر دھماکا، تین افراد ہلاک

نامعلوم افراد نے ایک حمام کو دستی بم سے نشانہ بنایا جس سے نو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی خان آف قلات کی واپسی کی خواہش مند

بلوچستان اسمبلی نے ایک متقفہ قرارداد کے ذریعے خان آف قلات پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی دھرا میں شامل ہوں۔

بلوچستان کے 27 اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز

تقریباً چار ہزار سے زائد ٹیمیں اس مہم میں حصہ لی رہی ہیں، جبکہ 14 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟