21 اپريل, 2014 | 20 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

شہباز تاثیرجلد رہا ہوں گے، رحمان ملک

وزیر داخلہ رحمان ملک۔— فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے امید ظاہر کی ہے کہ مغوی شہباز تاثیر بہت جلد اپنے خاندان کے ساتھ ہوں گے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر اپنے پیغام میں رحمان ملک نے کہا کہ شہباز تاثیر کی بازیابی کیلیے جاری حکومتی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور وہ بہت جلد اپنے خاندان کے ساتھ ہوں گے۔

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کو گزشتہ سال اگست میں لاہور کے علاقے گلبرگ سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ اپنی رہائش گاہ سے دفتر جا رہے تھے۔

شہبازتاثیر کے حوالے سے پنجاب حکومت اور پولیس کا مؤقف رہا ہے کہ ان کی پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں موجودگی کے شواہد ملے ہیں، اغواکاروں نے انہیں پنجاب سے قبائلی علاقے میں منتقل کردیا تھا۔

جولائی میں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ شہباز کی رہائی کے حوالے سے انٹر سروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) کے عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

ثنا اللہ نے جیو نیوز کے ایک پروگرام میں بتایا تھا کہ فوج کے سابق جنرل کے داماد کی رہائی بھی آئی ایس آئی اس اور شدت پنسدوں کے درمیان مذاکرات کی نتیجے میں ہوئی تھی۔

اس حصے سے مزید

ملک آمریت کا متحمل نہیں ہوسکتا: خورشید شاہ

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ سیاستدان ماضی سے سبق سیکھ چکے ہیں اور ملک کی بقا کے لیے معمولی غلطیاں نظر انداز کرنی ہوں گی۔

جماعت اسلامی کا طالبان سے مستقل جنگ بندی کا مطالبہ

امیرِ جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ گولیوں کے بجائے منطقی دلائل کا تبادلہ کیا جانا چاہیٔے۔

'طالبان کے مطالبات قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں'

جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

نریندر مودی اور نواز شریف ساتھ ساتھ

اگر بی جے پی حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو 1998 کی طرح آج بھی پاکستان میں نواز شریف کی ہی حکومت ہوگی۔

دنیاۓ صحافت: داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

ایک فوجی کی طرح صحافی کو بھی ہرگز اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، یہ سوچنا کہ یہ ہماری جنگ نہیں، سراسر حماقت ہے-

2 - پاکستان کی شہری تاریخ ... ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا

بھٹو حکومت کے ابتدائی سالوں میں قوم کا مزاج یکسر تبدیل ہو گیا تھا، کیونکہ ملک ایک نئے پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا-

سچ، گولی اور بے بس جرنلسٹ

حامد میر پر حملہ ایک بار پھر صحافی برادری کی بے بسی کی طرف اشارہ کرتا ہے