26 جولائ, 2014 | 27 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

شہباز تاثیرجلد رہا ہوں گے، رحمان ملک

وزیر داخلہ رحمان ملک۔— فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے امید ظاہر کی ہے کہ مغوی شہباز تاثیر بہت جلد اپنے خاندان کے ساتھ ہوں گے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر اپنے پیغام میں رحمان ملک نے کہا کہ شہباز تاثیر کی بازیابی کیلیے جاری حکومتی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور وہ بہت جلد اپنے خاندان کے ساتھ ہوں گے۔

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کو گزشتہ سال اگست میں لاہور کے علاقے گلبرگ سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ اپنی رہائش گاہ سے دفتر جا رہے تھے۔

شہبازتاثیر کے حوالے سے پنجاب حکومت اور پولیس کا مؤقف رہا ہے کہ ان کی پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں موجودگی کے شواہد ملے ہیں، اغواکاروں نے انہیں پنجاب سے قبائلی علاقے میں منتقل کردیا تھا۔

جولائی میں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ شہباز کی رہائی کے حوالے سے انٹر سروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) کے عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

ثنا اللہ نے جیو نیوز کے ایک پروگرام میں بتایا تھا کہ فوج کے سابق جنرل کے داماد کی رہائی بھی آئی ایس آئی اس اور شدت پنسدوں کے درمیان مذاکرات کی نتیجے میں ہوئی تھی۔

اس حصے سے مزید

لاہور: تین سالہ بچی کے ساتھ ریپ کا انسانیت سوز واقعہ

نامعلوم افراد بچی کو ریپ کا نشانہ بنا کر اُسے گرین بیلٹ کے قریب پھینک کر فرار ہو گئے۔ بچی کی حالت تشویشناک ہے۔

ماڈل ٹاؤن ٹربیونل: وزیر اعلٰی کے بیان کے لیے ایک دن کی توسیع

وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف کو آج ایک جج پر مشتمل ٹربیونل کے سامنے اپنا بیان پیش کرنا تھا۔

لانگ مارچ حتمی میدان جنگ ہو گا، عمران

'پی ٹی آئی کا 'آزادی مارچ' ٹی ٹوئنٹی نہیں بلکہ ٹیسٹ میچوں کی ایک سیریز ہو گا۔'


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بلاگ

گھریلو تشدد: پاکستانی 'کلچر' - حقیقت کیا ہے؟

پاکستانی سماج میں عورت مرد کی جائداد اور اس سے کمتر ہے چناچہ اس کے ساتھ کسی قسم کا سلوک روا رکھنا مرد کا پیدائشی حق ہے-

ریاستی تنہائی اور اجتماعی مہاجرت

جب تک سوچنے اور سوچ کے اظہار کے لیے ممکنہ حد تک ازادی موجود نہ ہو تب تک سماج میں تکثیریت پروان نہیں چڑھ سکتی

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔