28 جولائ, 2014 | 29 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

شہباز تاثیرجلد رہا ہوں گے، رحمان ملک

وزیر داخلہ رحمان ملک۔— فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے امید ظاہر کی ہے کہ مغوی شہباز تاثیر بہت جلد اپنے خاندان کے ساتھ ہوں گے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر اپنے پیغام میں رحمان ملک نے کہا کہ شہباز تاثیر کی بازیابی کیلیے جاری حکومتی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور وہ بہت جلد اپنے خاندان کے ساتھ ہوں گے۔

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کو گزشتہ سال اگست میں لاہور کے علاقے گلبرگ سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ اپنی رہائش گاہ سے دفتر جا رہے تھے۔

شہبازتاثیر کے حوالے سے پنجاب حکومت اور پولیس کا مؤقف رہا ہے کہ ان کی پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں موجودگی کے شواہد ملے ہیں، اغواکاروں نے انہیں پنجاب سے قبائلی علاقے میں منتقل کردیا تھا۔

جولائی میں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ شہباز کی رہائی کے حوالے سے انٹر سروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) کے عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

ثنا اللہ نے جیو نیوز کے ایک پروگرام میں بتایا تھا کہ فوج کے سابق جنرل کے داماد کی رہائی بھی آئی ایس آئی اس اور شدت پنسدوں کے درمیان مذاکرات کی نتیجے میں ہوئی تھی۔

اس حصے سے مزید

تین سالہ بچی کے ریپ کا ملزم گرفتار

پولیس کے مطابق ملزم متاثرہ بچی کا کزن ہے۔

راولپنڈی میں ن لیگ تقسیم

راولپنڈی میں سے سردار نسیم گروپ اور حنیف عباسی گروپ کے درمیان رقابت اب ایک کھلا راز بن چکی ہے۔

چکوال کی مشہور برفی اور اس کی پچاس سالہ روایت

چکوال جانے والے افراد سے توقع کی جاتی ہے کہ واپسی پر نثار ہوٹل کی لذیذ برفی بطور سوغات لے کر آئیں گے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔