18 ستمبر, 2014 | 22 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

شہباز تاثیرجلد رہا ہوں گے، رحمان ملک

وزیر داخلہ رحمان ملک۔— فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے امید ظاہر کی ہے کہ مغوی شہباز تاثیر بہت جلد اپنے خاندان کے ساتھ ہوں گے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر اپنے پیغام میں رحمان ملک نے کہا کہ شہباز تاثیر کی بازیابی کیلیے جاری حکومتی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور وہ بہت جلد اپنے خاندان کے ساتھ ہوں گے۔

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کو گزشتہ سال اگست میں لاہور کے علاقے گلبرگ سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ اپنی رہائش گاہ سے دفتر جا رہے تھے۔

شہبازتاثیر کے حوالے سے پنجاب حکومت اور پولیس کا مؤقف رہا ہے کہ ان کی پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں موجودگی کے شواہد ملے ہیں، اغواکاروں نے انہیں پنجاب سے قبائلی علاقے میں منتقل کردیا تھا۔

جولائی میں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ شہباز کی رہائی کے حوالے سے انٹر سروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) کے عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

ثنا اللہ نے جیو نیوز کے ایک پروگرام میں بتایا تھا کہ فوج کے سابق جنرل کے داماد کی رہائی بھی آئی ایس آئی اس اور شدت پنسدوں کے درمیان مذاکرات کی نتیجے میں ہوئی تھی۔

اس حصے سے مزید

سیلابی ریلا سندھ میں داخل

پنجاب میں مختلف پشتوں میں 193 شگافوں کے باعث سندھ میں داخل ہونے والے سیلابی ریلے کی شدت بہت کم رہ گئی تھی۔

سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ

سیلاب زدہ علاقوں میں سانس کے امراض کے روزانہ پانچ ہزار جبکہ گیسٹرو کے ڈھائی ہزار کیسز سامنے آرہے ہیں۔

چوری برطانیہ میں، مقدمہ پاکستان میں

لاہور پولیس نے مانچسٹر میں ایک چوری کا مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزمہ کو گرفتار کر لیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔

کریچر - تھری ڈی: گوڈزیلا یا ڈیوی جونز کا کزن؟

یہ کہنا غلط نہ ہوگا بپاشا ہارر تھرلرز تک محدود ہوگئی ہیں جبکہ عمران عبّاس نے انکے گرد چکر کاٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔