23 ستمبر, 2014 | 27 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستانی پالیمینٹیرینزمذاکرات کیلیے ہندوستان روانہ

۔—فائل فوٹو

لاہور: ویزا پالیسی اور تجارت سمیت مختلف امور پر بات چیت کیلیے پاکستانی پالیمینٹیرینز پر مشتمل آٹھ رکنی وفد بدھ کے روز واہگہ کے راستے ہندوستان روانہ ہو گیا۔

حکمراں جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل اور سینیٹر جہانگیر بدر وفد کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ دیگر ارکان میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی، خرم دستگیر، حاجی عدیل، نفیسہ شاہ، ندیم افضل چن، صابر بلوچ اور شازیہ مری شامل ہیں ۔

اس چار روزہ دورے میں وفد ہندوستانی پارلیمنٹیرینز کے ساتھ ملاقاتیں کرے گا۔

پاکستانی وفد نے سرحد عبور کرنے سے پہلے میڈیا سے بات چیت میں امید ظاہر کی کہ ویزا پالیسی میں نرمی کے حوالے سے مثبت پیشرفت ہو گی ۔

جہانگیربدر نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور قیامِ امن کے لیے کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ یورو زون کی طرز پر ساؤتھ ایشیا زون بھی بننا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفد میں چاروں صوبوں اور پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کی نمائندگی شامل ہے۔

اس موقع پرحاجی عدیل نے کہا ہمسایہ ملک کے ساتھ تجارت کےعلاوہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔

خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ وہ ہندوستان خیرسگالی کا پیغام لے کر جارہے ہیں۔

اس حصے سے مزید

سرکاری اداروں میں بھرتیوں پرپابندی ختم

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیلاب متاثرین کو فی خاندان 25 ہزار روپے امداد دی جائے۔

جاوید ہاشمی کی پی ٹی آئی رکنیت معطل

جاوید ہاشمی کو وضاحت کیلئے انتیس ستمبر کو پارٹی سیکریٹریٹ میں طلب کرلیا گیا ہے۔

عمران، قادری پر مقدمات کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

دونوں رہنماؤں کیخلاف دہشت گردی کے مقدمات کی تحقیقات کیلیے ایس پی صدر کی صدارت میں ایک 6 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-