18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستانی پالیمینٹیرینزمذاکرات کیلیے ہندوستان روانہ

۔—فائل فوٹو

لاہور: ویزا پالیسی اور تجارت سمیت مختلف امور پر بات چیت کیلیے پاکستانی پالیمینٹیرینز پر مشتمل آٹھ رکنی وفد بدھ کے روز واہگہ کے راستے ہندوستان روانہ ہو گیا۔

حکمراں جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل اور سینیٹر جہانگیر بدر وفد کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ دیگر ارکان میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی، خرم دستگیر، حاجی عدیل، نفیسہ شاہ، ندیم افضل چن، صابر بلوچ اور شازیہ مری شامل ہیں ۔

اس چار روزہ دورے میں وفد ہندوستانی پارلیمنٹیرینز کے ساتھ ملاقاتیں کرے گا۔

پاکستانی وفد نے سرحد عبور کرنے سے پہلے میڈیا سے بات چیت میں امید ظاہر کی کہ ویزا پالیسی میں نرمی کے حوالے سے مثبت پیشرفت ہو گی ۔

جہانگیربدر نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور قیامِ امن کے لیے کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ یورو زون کی طرز پر ساؤتھ ایشیا زون بھی بننا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفد میں چاروں صوبوں اور پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کی نمائندگی شامل ہے۔

اس موقع پرحاجی عدیل نے کہا ہمسایہ ملک کے ساتھ تجارت کےعلاوہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔

خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ وہ ہندوستان خیرسگالی کا پیغام لے کر جارہے ہیں۔

اس حصے سے مزید

پروسیکیوٹر کی تقرری سے متعلق مشرف کی درخواست مسترد

خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔

اسلام آباد منڈی دھماکے کی تفتیش میں امرود فارم کا مینیجر گرفتار

حکام کے مطابق تقریباً 40 پیٹیاں ایک مسافر بس کی چھت پر لوڈ کرکے اسلام آباد کی پھل و سبزی کی مارکیٹ میں لائی گئیں تھیں۔

چیئرمین پیمرا، واپڈا عہدوں سے فارغ

وزیراعظم نے چیئرمین واپڈا سے استعفیٰ لیکر ظفر محمود کو نیا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔