30 جولائ, 2014 | 2 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

موٹر سائیکل اور اسکے سوار

تصویری خاکہ۔ بشکریہ مصنف

موٹرسائیکل سوار جو آپ  کے دائیں بائیں، اوپر نیچے کہیں سے بھی نکل سکتے ہیں، آپ یا تو دیکھتے رہ جائینگے یا پھر تھوڑی دیر کے لئے سٹپٹا جائینگے۔ اور اگر اس نے آپ کی گاڑی یا جسم کے کسی حصے کو چھوا ہو یا نا چھوا ہو تو یہ آپکی قسمت ہے ۔ البتہ وہ چھلاوے کی طرح نکل چکا  ہوتا ہے۔ ہم جو صبح شام ٹریفک کو کوستے رہتے ہیں، اس پراگر غور کریں تو موٹرسائیکل سوار ہی سرفہرست ہوگا۔

منی بس رکشہ، ٹرک ہو یا کار سب کے چلانے والے  موٹر سائیکل سوار کے دیکھا دیکھی   وہی مزاج اپنا لیتے ہیں اور اپنی گاڑیوں کو موٹر سائیکل سوار کی طرح چلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

رکشہ والے کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ کہیں سے بھی نکال لے اور  وہ یہ ہمیشہ بھول جاتا ہے کہ رکشہ چلا رہا ہے نا کہ موٹر سائیکل۔ پہلےتو اسکوٹر  اور ویسپا بھی ہوتی تھیں لیکن  اب  چونکہ ‘میں تے ہونڈا ہی لیساں’ کا زمانہ ہے۔ اس طرح کی کوئی سواری مشکل سےہی  دکھائی دیتی ہے۔

 موٹر سائیکل کے اشتہار میں جیسےمرد کو فخر کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ پر اور عورت کو پیچھے بیٹھا دکھایا جاتا ہے اسی طرح کا مزاج  ہمارے مردوں میں بھی  پنپتا ہے اور شہر  کیا گاؤں کے مرد کے لئے بھی ایسا ہی اشتہار دکھایا جاتا ہے عورت کھانا لارہی ہے اور صاحب مونچھوں کو تاؤ دیے خاتون کو پیچھے بٹھاکر موٹرسائیکل اڑائے جا رہے ہیں۔

یہی مزاج  ہم اپنی سڑکوں پر  بھی دیکھتے ہیں، ہر کوئی اپنی مردانگی کا اظہار اپنی موٹرسائیکل چلا کر کر رہا ہوتا ہے، بپھرا ہوا اور اپنے سے آگےکچھ نا دیکھنے والا۔ کوئی قانون اور اصول جن  کے بنانے والے خود   اس کے پابند نہیں تو اس سر پھرے اور مردانگی کے چلتے پھرتے نمونے سے آپ کیا توقع کرسکتے ہیں۔

 وہ جب دیکھتا ہے کہ سڑک پر عورت گاڑی لے کر نکلی ہے تو مردانگی اور نام نہاد غیرت اسکے ایک ایک انگ سے پھوٹنے لگتی ہے۔

بھلے پڑھا لکھا ہو یا دو جماعتیں پاس یا پھر اسکی نئی نئی داڑھی اگی ہو  ۔ چاہے پہاڑوں سے اترا ہو یا پھر شہر کےپوش علاقے میں پلا بڑھا ہو، عورت کو گاڑی چلاتےدیکھ کر اسکے بھی اسکرو ڈھیلے ہوجاتے ہیں اور  اسے سمجھ نہیں آتا کہ یہ عورت بھی مجھ سے مقابلہ کرسکتی ہے ۔

یہ اور بات ہے کہ  اس عورت نےاپنی مستقل مزاجی، محنت اور جانفشانی سے آج اسے وہاں پہنچادیا ہے کہ وہاں تک پہنچنا اس کے بس میں بھی نہیں۔

اس لئے آج مذہب اور اقدار کو بہانہ بناکر عورت کو پھر نقاب اور چادر  اوڑھا کر اسے پیچھے دھکیلنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔اب تو اشتہار میں بھی نقاب پہنائے جارہے ہیں۔

یہ  آجکل  کےاقتصادی حالات کی مجبوری ہے  کہ مرد کی غیرت نے اسے اتنی اجازت دیدی ہے کہ وہ  اپنے گھر کی عورت سےنوکری بھی کرواتا ہے تاکہ وہ پیسے کماکر لائے اور گھر کے اخراجات میں  اپنا  حصہ بھی ڈالے ۔

لیکن پردے اور پابندیوں میں رہنے کی شرط پر۔کیونکہ معاشرہ بہت خراب ہے دوسری طرف بیٹے  ہیں جن کو کھلی چھوٹ ہے کہ وہ رات رات بھر موٹر سائیکلیں دوڑائیں اور صبح آکر بستر پر گریں ۔اور وہ کسی کو بھی جوابدہ نہیں ہوتے کہ  وہ توبیٹے ہیں۔

 ہمارے ہاں اگر کام کرنے والی عورت جو بہت محنت کے بعد اس لائق بنتی ہے کہ اسکے پاس بھی گاڑی ہو جس میں وہ آفس بھی جاتی ہے، اپنے بچوں کو اسکول بھی چھوڑتی ہے اور گھر کےبھی کئی کام کاج نمٹاتی ہے۔لیکن وہ ہمارے غیرت مند سپوتوں کو ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی۔

روز جو خواتین روڈ پر گاڑی لے آتی ہیں  وہ کتنی ہراسمنٹ  کا شکار ہوتی ہیں وہ انکو ہی معلوم ہے، چاہے شہر کے پسماندہ علاقے ہوں یا پھر نام نہاد  پوش علاقے، چاہے پڑھےلکھےہوں یا ان پڑھ ،  مائینڈسیٹ ایک ہی ہے بس  صرف انکے رویوں میں تھوڑا بہت فرق ہو سکتا ہے۔

 ہماری ایک ماسی جو نا صرف ہمارے لیکن اور کئی گھروں میں  دن رات کام کرتی تھی،  اس کاشوہر ایک بلڈنگ کی رکھوالی کرتا تھا اور  وہ لوگ اسی بلڈنگ کی چھت پر رہتے تھے۔

اس نے دن رات کام کر کے اتنے پیسے کمائے کہ شوہر کو موٹر سائیکل خرید  کردی۔ اب پتہ چلا کہ ‘باجی وہ مجھے موٹر سائیکل پر نہیں بٹھاتا ’ہم نے شوہر سے پوچھا کہ‘ کیوں بھئی اسے موٹر سائیکل پر کیوں نہیں بٹھاتے؟

  ’شوہر صاحب نے فرمایا ‘جی یہ تو عورت ہے اسے میں کیسے بٹھاسکتا ہوں!’ تو یہ مزاج ہر جگہ ہے  ہم صرف شہر کی باتیں کر رہے ہیں لیکن شہر سے باہر نکلیں تو لگے گا ابھی اور پیچھے چلے گئے ہیں، ہماری ہمسرجب سپر ہائی وے پر گاڑی ڈرائیو کرتی ہیں تو باقی حضرات کے رویے کے تو ہم عادی ہیں  ہی لیکن ان گاڑیوں میں بیٹھی خواتین بھی مڑ مڑ کر دیکھ رہی ہوتی ہیں۔

۔تصویر بشکریہ مصنف

ویسے ہماری ہمسر تو گاڑی نگر پارکر تک بھی ڈرائیو کر کے لے گئی ہیں ۔ باقی سندھ میں تو لوگ مڑ مڑ کے دیکھتے ہیں لیکن تھر میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں کہ عورت ڈرائیو کر رہی ہے۔ کیونکہ وہاں کی عورت بھی سارے  ہی کام کرتی ہے۔

ایک   بوڑھی عورت اپنی بیٹی کو اونٹ پر بٹھائے تھر کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں جاتی دکھائی دے گی یا پانی کے گھڑے لئے میلوں کا سفر کرنے والی خواتین کی تصاویر تو ہم فخر سے دیکھتے  بھی ہیں تو  چھاپتے بھی ہیں۔

 لیکن اب چلتے ہیں سرحد پار اپنے جڑواں بھائی  کے ہاں  کیونکہ موٹر سائیکل اور اسکوٹر وہاں بھی ہے، وہاں بھی بیٹیاں ہیں  ،لیکن وہ موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پر نہیں اگلی سیٹ پر بیٹھتی ہیں۔

تصویر بشکریہ مصنف۔

نگر پارکر کے بالکل دوسری طرف اودے پور ہے، وہی پہاڑی علاقہ جہاں کا  سنگ مرمر ساری دنیا میں جاتا ہے، اورساری دنیا اودےپور کی خوبصورتی دیکھنے وہاں آتی ہے، یہ اودے پور کا خوبصورت محل ہے، صبح سے دوپہر تک ہم محل کی سیر کرتے رہے، جیسے ہی باہر نکلے تو ہمارے پیچھے لڑکے اور لڑکیاں  خوبصورت یونیفارم پہنے نکلنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے لڑکے لڑکیاں اپنی اپنی اسکوٹی پر سوار گھروں کو روانہ ہونے لگے۔

معلوم ہوا یہ راجہ کا اسکول ہے جو سالوں سے محل  میں ہی چل رہا ہے۔

 لڑکیاں اپنی اپنی دوستوں کو بٹھائے اپنے گھروں کو روانہ ہور ہی ہیں۔

عورتیں دفاتر میں اپنی ہی موٹر سائیکل یا اسکوٹی پر جاتی ہیں ۔  روڈ پر بازار میں دیکھیں تو بیٹی اپنے باپ کو پیچھے بٹھائے دفتر لئے جارہی ہے یا کوئی ماں اپنی بیٹیوں کو اسکول چھوڑنے جارہی ہے، کسی کو کوئی مسئلہ نہیں، عورت  کو موٹر سائیکل چلاتے کسی کی غیرت پر حرف نہیں آتا۔

سب کام کر رہے ہیں، عورت اور مرد،  کوئی تفریق نہیں۔ وہاں موٹر سائیکل یا اسکوٹی کا  اشتہار بنتا ہے تو بیٹی   اماں یا ابا کو پیچھے بٹھاتی ہے اور اس پرفخر کرتی ہے۔

یہاں  بیٹی کو تو پیچھے بٹھانا  ہی ہے پھر اسے احسانمند بھی ہونا ہےاس تگڑے اور غیرتمند جوان کا جو لاکھوں میں ایک ہے، جس کی ساری غیرت مونچھوں میں چھپی ہے۔

یہاں بہت تگ و دو کرنے کے بعد عورت اس قابل ہوتی ہے کہ قرضے پر گاڑی  لے سکے ۔ لیکن ایسا ماحول اگر یہاں ہوتا تو نچلے طبقے کی خواتین کی بھی اپنی سواری ہوتی اور وہ  بھی دفاتر اور اسکولوں میں آرام سے آجاسکتیں، اس طرح بسوں کے دھکے نہیں کھاتیں اور پھر بسوں میں اپنے غیرت مند بھائیوں کے ہراسمنٹ کا شکار بھی نہیں ہوتیں۔

وہاں بچیاں  اسکول اور کالج سےاپنی اپنی سواریوں پرگھروں کو  روانہ ہوتی ہیں اور یہاں کالجوں اور اسکول کے باہر کوے  چیلیں اور گدھ منڈلا رہے ہوتے ہیں۔ پسماندہ علاقوں کی بچیاں اس لئے اسکول جانا چھوڑدیتی ہیں کے محلے کے ہیرو ان کا اسکول آنا جانا دو بھر کردیتے ہیں۔ اب تو لڑکیوں کے اسکول تباہ کرنے والے شہروں میں بھی نمودار ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

ریٹنگ کے اور پیسے بنانے کے چکر میں ساری ملٹی نیشنل کمپنیاں  اور چینلز جانے انجانے میں ملک کو پیچھے دھکیلنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔

 ڈھونڈھ  ڈھونڈھ کر بھانت بھانت  کے عالم قوم کی ذہنوں کی آبیاری کے لئے لے چھوٹی اسکرین پر بٹھادیئے  گئےہیں۔ ایک  اور غور طلب بات یہ ہے کہ جو بھی دہشتگردی کر رہاہے، چاہے شیعہ کو چن چن کے ما ررہا ہے یا ایئر فورس کے بیس پر حملہ آور  ہوا ہے وہ وردی میں ہی ہے۔

اور یہ وہی ہیں جنہوں  نے بنیادی تربیت کے طور پر لڑکیوں کے اسکول تباہ  کئے اور اب وہ اپنے اگلے ٹارگیٹس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور چینلز  بھی آجکل زمین میں بنیادی کھاد ڈالنے کی ذمے داری ادا کرہے ہیں ۔ جس  کی وجہ سےوہ وقت دور نہیں جو انہیں بھی پچھتانا پڑےگا، وردی والے تو پچھتا بھی رہے ہیں اور پریشان بھی ہیں۔


وژیول آرٹس میں مہارت رکھنے والے خدا بخش ابڑو بنیادی طور پر ایک سماجی کارکن ہیں۔ ان کے دلچسپی کے موضوعات انسانی حقوق سے لیکر آمرانہ حکومتوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ ڈان میں بطور الیسٹریٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

مووی ریویو: 'کک' صرف سلمان خان کی فلم نہیں

باصلاحیت اداکاروں کے ساتھ فلم بنا کر ساجد ناڈیا والا نے خود کو ایک قابل ڈائریکٹر منوا لیا ہے۔

عید پر انکو نہ بھولیں

رمضان میں انسانی ہمدردی کا جو جذبہ آپ کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے اسے محض وقتی ابال ثابت نہ ہونے دیں-

کراچی کی قدیم عید گاہیں

سمجھا یہ جاتا ہے کہ کراچی کی پہلی عید گاہ بندر روڈ پر جامع کلاتھ مارکیٹ کے بالمقابل ہے لیکن تاریخی حقائق کچھ اور ہیں

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے