01 اکتوبر, 2014 | 5 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت 18 ستمبر تک ملتوی

اس معاملے کو سمجھنے میں وقت لگے گا اس لئے چار سے چھ ہفتے کا وقت دیا جائے، وزیراعظم ۔ رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو سوئس حکام کو خط لکھنے کیلئے اٹھارہ ستمبر تک مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ہے۔

وزیراعظم آج این آر او عملدرآمد کیس میں توہین عدالت کے مقدمے میں پانچ رکنی بنچ کے سامنے پیش ہوئے۔

اس موقع پر وفاقی وزراء اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کے رہنماء بھی موجود تھے۔

سماعت کے دوران وزیر اعظم نے روسٹرم پر کھڑے ہوکرعدالت سے استدعا کی کہ انہیں معاملے کو سمجھنے میں وقت درکار ہے لہذا انہیں چار سے چھ ہفتے کا وقت دیا جائے۔

بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مسئلہ تین دن میں حل کیا جاسکتا ہے تاہم مثبت یقین دھانی کروانے پروہ وقت دینے کیلئے تیار ہیں۔

جس پر وزیراعظم نے مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ بطور وزیراعظم یہ مسئلہ حل ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہرحال میں عدلیہ کی عزت اور توقیر قائم کرنا چاہتے ہیں، اس کیس کی وجہ سے ملک میں بے یقینی کے کیفیت ہے، وہ مسئلہ حل کرنے کیلئے سنجیدہ ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس میں وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کا احترام کرتے ہیں، عدالت کسی کو بلائے تو اسے معیوب نہیں سمجھنا چاہئے۔

جسٹس کھوسہ نے وزیراعظم سے کہا کہ آپ کی موجودگی اور ذاتی دلچسپی سے معاملہ حل ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب، وفاقی وزیراطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ آئین کے تحت صدر مملکت کے خلاف سوئس کو خط نہیں لکھا جاسکتا۔

سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراطلاعات نے کہا کہ وہ عدالت کا احترام کرتے ہیں اور بہتری کی توقع لیکر سپریم کورٹ آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ذوالفقار بھٹو اور بینظیربھٹو کی لاشیں اٹھا سکتے ہیں تو جمہوریت کے لیے اور قربانیاں بھی دے سکتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

آرمی چیف کی صدارت میں کور کمانڈرز کانفرنس جاری

ذرائع کے مطابق کورکمانڈرز نے آپریشن ضرب عضب میں ہونے والی پیشرفت پر اظہار اطمینان کیا ہے۔

وزیراعظم کی امریکی سفیر رچرڈ اولسن سے ملاقات

سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ اس ملاقات میں پاک امریکا تعلقات کے فروغ اور خطے کی موجودہ صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

ڈھائی ہزار پولیس اہلکار آج گھر واپس لوٹ جائیں گے

اسلام آباد میں تعینات پنجاب پولیس کے گیارہ ہزار اہلکاروں میں سے ڈھائی ہزار کو وفاقی حکومت واپس بھیجنے پر تیار ہوئی ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

نادیہ خان
27 اگست, 2012 06:23
نہ آپ مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں اور نہ وہ. کیونکہ یہ مسئلہ حل ہوگیا تو آپ کو حقیقی مسائل کی طرف توجہ دینی پڑ جائے گی.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

فائرنگ کی زد میں

پولیس کی قیادت کو ادراک ہوا ہے کہ اسے صاحب اختیار لوگوں کے غیر قانونی مطالبات کو نا کہنے کی ہمت دکھانے کی ضرورت ہے.

پالیسی سازی کا فن

پنجاب میں باربارآنے والے سیلاب نے فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کے درمیان خلا کو بےنقاب کردیا ہے۔

بلاگ

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟

مووی ریویو: دی پرنس — انسپائر کرنے میں ناکام

مجموعی طور پر روبوٹ جیسی پرفارمنسز اور کمزور پلاٹ کی وجہ سے یہ فلم ناظرین کی دلچسپی قائم رکھنے میں ناکام رہی-

مخلص سیاستدانوں کے سچے بیانات

جب سے دھرنے جاری ہیں، تب سے ہم نے سیاستدانوں سے طرح طرح کی باتیں سنی ہیں جن میں سے کچھ پیش خدمت ہیں۔