20 اپريل, 2014 | 19 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت 18 ستمبر تک ملتوی

اس معاملے کو سمجھنے میں وقت لگے گا اس لئے چار سے چھ ہفتے کا وقت دیا جائے، وزیراعظم ۔ رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو سوئس حکام کو خط لکھنے کیلئے اٹھارہ ستمبر تک مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ہے۔

وزیراعظم آج این آر او عملدرآمد کیس میں توہین عدالت کے مقدمے میں پانچ رکنی بنچ کے سامنے پیش ہوئے۔

اس موقع پر وفاقی وزراء اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کے رہنماء بھی موجود تھے۔

سماعت کے دوران وزیر اعظم نے روسٹرم پر کھڑے ہوکرعدالت سے استدعا کی کہ انہیں معاملے کو سمجھنے میں وقت درکار ہے لہذا انہیں چار سے چھ ہفتے کا وقت دیا جائے۔

بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مسئلہ تین دن میں حل کیا جاسکتا ہے تاہم مثبت یقین دھانی کروانے پروہ وقت دینے کیلئے تیار ہیں۔

جس پر وزیراعظم نے مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ بطور وزیراعظم یہ مسئلہ حل ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہرحال میں عدلیہ کی عزت اور توقیر قائم کرنا چاہتے ہیں، اس کیس کی وجہ سے ملک میں بے یقینی کے کیفیت ہے، وہ مسئلہ حل کرنے کیلئے سنجیدہ ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس میں وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کا احترام کرتے ہیں، عدالت کسی کو بلائے تو اسے معیوب نہیں سمجھنا چاہئے۔

جسٹس کھوسہ نے وزیراعظم سے کہا کہ آپ کی موجودگی اور ذاتی دلچسپی سے معاملہ حل ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب، وفاقی وزیراطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ آئین کے تحت صدر مملکت کے خلاف سوئس کو خط نہیں لکھا جاسکتا۔

سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراطلاعات نے کہا کہ وہ عدالت کا احترام کرتے ہیں اور بہتری کی توقع لیکر سپریم کورٹ آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ذوالفقار بھٹو اور بینظیربھٹو کی لاشیں اٹھا سکتے ہیں تو جمہوریت کے لیے اور قربانیاں بھی دے سکتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

وزیرِ اعظم نے حامد میر حملے کی جوڈیشل تحقیقات کا حکم دیدیا

کمیشن کیلئے سپریم کورٹ سے درخواست کی جائے گی، قاتلوں کی اطلاع پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان۔

پرویز مشرف کراچی پہنچ گئے

پرویز مشرف کا طیارہ کراچی ایئرپورٹ لینڈ کرگیا جہاں ان کی آمد کے پیش نظر سخت سیکورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔

'دہشت گردی ختم کیے بغیر مضبوط دفاع کا قیام ناممکن'

مضبوط معیشت اور دہشت گردی ختم کیے بغیر ملکی دفاع کا قیام ناممکن ہے،وزیر اعظم کا کاکول اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

نادیہ خان
27 اگست, 2012 06:23
نہ آپ مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں اور نہ وہ. کیونکہ یہ مسئلہ حل ہوگیا تو آپ کو حقیقی مسائل کی طرف توجہ دینی پڑ جائے گی.
مقبول ترین
بلاگ

دنیاۓ صحافت: داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

ایک فوجی کی طرح صحافی کو بھی ہرگز اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، یہ سوچنا کہ یہ ہماری جنگ نہیں، سراسر حماقت ہے-

2 - پاکستان کی شہری تاریخ ... ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا

بھٹو حکومت کے ابتدائی سالوں میں قوم کا مزاج یکسر تبدیل ہو گیا تھا، کیونکہ ملک ایک نئے پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا-

سچ، گولی اور بے بس جرنلسٹ

حامد میر پر حملہ ایک بار پھر صحافی برادری کی بے بسی کی طرف اشارہ کرتا ہے

دو قومی نظریہ اور ہندوستانی اقلیتیں

دو قومی نظریہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں تو تفریق کرتا ہے لیکن دیگر اقلیتوں، خاص کر دلتوں کو یکسر فراموش کرتا ہے۔