24 ستمبر, 2014 | 28 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت 18 ستمبر تک ملتوی

اس معاملے کو سمجھنے میں وقت لگے گا اس لئے چار سے چھ ہفتے کا وقت دیا جائے، وزیراعظم ۔ رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو سوئس حکام کو خط لکھنے کیلئے اٹھارہ ستمبر تک مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ہے۔

وزیراعظم آج این آر او عملدرآمد کیس میں توہین عدالت کے مقدمے میں پانچ رکنی بنچ کے سامنے پیش ہوئے۔

اس موقع پر وفاقی وزراء اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کے رہنماء بھی موجود تھے۔

سماعت کے دوران وزیر اعظم نے روسٹرم پر کھڑے ہوکرعدالت سے استدعا کی کہ انہیں معاملے کو سمجھنے میں وقت درکار ہے لہذا انہیں چار سے چھ ہفتے کا وقت دیا جائے۔

بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مسئلہ تین دن میں حل کیا جاسکتا ہے تاہم مثبت یقین دھانی کروانے پروہ وقت دینے کیلئے تیار ہیں۔

جس پر وزیراعظم نے مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ بطور وزیراعظم یہ مسئلہ حل ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہرحال میں عدلیہ کی عزت اور توقیر قائم کرنا چاہتے ہیں، اس کیس کی وجہ سے ملک میں بے یقینی کے کیفیت ہے، وہ مسئلہ حل کرنے کیلئے سنجیدہ ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس میں وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کا احترام کرتے ہیں، عدالت کسی کو بلائے تو اسے معیوب نہیں سمجھنا چاہئے۔

جسٹس کھوسہ نے وزیراعظم سے کہا کہ آپ کی موجودگی اور ذاتی دلچسپی سے معاملہ حل ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب، وفاقی وزیراطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ آئین کے تحت صدر مملکت کے خلاف سوئس کو خط نہیں لکھا جاسکتا۔

سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراطلاعات نے کہا کہ وہ عدالت کا احترام کرتے ہیں اور بہتری کی توقع لیکر سپریم کورٹ آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ذوالفقار بھٹو اور بینظیربھٹو کی لاشیں اٹھا سکتے ہیں تو جمہوریت کے لیے اور قربانیاں بھی دے سکتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

سرکاری ملازمین کے ہاﺅسنگ الاﺅنس میں دوگنا اضافے کی تجویز

اس تجویز کی سمری منظوری کے لیے وزیراعظم کو بھجوا دی گئی ہے۔

عوامی تحریک کے دھرنے میں شریک گھر واپسی کے لیے بے تاب

سینکڑوں خاندان اور لڑکیاں واپس جاچکے ہیں، جبکہ مزید درجنوں خواتین اپنے علاقوں کو جلد از جلد واپس جانا چاہتی ہیں۔

چھ بڑے شہروں میں پولیو مہم کی ناکامی کا انکشاف

لاہور، راولپنڈی، کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ اور جیکب آباد میں پولیو وائرس کے خاتمے کی مہم ناکام رہی ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

نادیہ خان
27 اگست, 2012 06:23
نہ آپ مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں اور نہ وہ. کیونکہ یہ مسئلہ حل ہوگیا تو آپ کو حقیقی مسائل کی طرف توجہ دینی پڑ جائے گی.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

سوشلزم کیوں؟

اگر ہم مسلسل بحث کرسکتے ہیں کہ جمہوریت کیوں نہیں، شریعت کیوں نہیں، تو اس سوال پر بھی بحث ضروری ہے کہ سوشلزم کیوں نہیں؟

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

بلاگ

مووی ریویو: 'خوبصورت' - فواد اور سونم کی خوبصورت کہانی

اپنے پُر مزاح کرداروں کے باوجود فلم شوخ اور رومانٹک ڈرامہ ہے، جسے آپ باآسانی ڈزنی کی طلسماتی کہانی کہہ سکتے ہیں-

کراچی میں بجلی کا مسئلہ اور نیپرا کا منفی کردار

اپنی نااہلی کی وجہ سے نیپرا نے بیرونی سرمایہ کاروں کو مشکل میں ڈال رکھا ہے، جن میں سے کچھ تو کام شروع کرنے کو تیار ہیں۔

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔