03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت 18 ستمبر تک ملتوی

اس معاملے کو سمجھنے میں وقت لگے گا اس لئے چار سے چھ ہفتے کا وقت دیا جائے، وزیراعظم ۔ رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو سوئس حکام کو خط لکھنے کیلئے اٹھارہ ستمبر تک مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ہے۔

وزیراعظم آج این آر او عملدرآمد کیس میں توہین عدالت کے مقدمے میں پانچ رکنی بنچ کے سامنے پیش ہوئے۔

اس موقع پر وفاقی وزراء اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کے رہنماء بھی موجود تھے۔

سماعت کے دوران وزیر اعظم نے روسٹرم پر کھڑے ہوکرعدالت سے استدعا کی کہ انہیں معاملے کو سمجھنے میں وقت درکار ہے لہذا انہیں چار سے چھ ہفتے کا وقت دیا جائے۔

بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مسئلہ تین دن میں حل کیا جاسکتا ہے تاہم مثبت یقین دھانی کروانے پروہ وقت دینے کیلئے تیار ہیں۔

جس پر وزیراعظم نے مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ بطور وزیراعظم یہ مسئلہ حل ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہرحال میں عدلیہ کی عزت اور توقیر قائم کرنا چاہتے ہیں، اس کیس کی وجہ سے ملک میں بے یقینی کے کیفیت ہے، وہ مسئلہ حل کرنے کیلئے سنجیدہ ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس میں وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کا احترام کرتے ہیں، عدالت کسی کو بلائے تو اسے معیوب نہیں سمجھنا چاہئے۔

جسٹس کھوسہ نے وزیراعظم سے کہا کہ آپ کی موجودگی اور ذاتی دلچسپی سے معاملہ حل ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب، وفاقی وزیراطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ آئین کے تحت صدر مملکت کے خلاف سوئس کو خط نہیں لکھا جاسکتا۔

سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراطلاعات نے کہا کہ وہ عدالت کا احترام کرتے ہیں اور بہتری کی توقع لیکر سپریم کورٹ آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ذوالفقار بھٹو اور بینظیربھٹو کی لاشیں اٹھا سکتے ہیں تو جمہوریت کے لیے اور قربانیاں بھی دے سکتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

مناسب خوراک کی کمی اور تھکاوٹ انقلابیوں پر اثرانداز ہونے لگی

یہ بدقسمتی ہے کہ یہ احتجاجی مظاہرین اس طرح کے مضر صحت ماحول میں رہنے پر مجبور ہیں۔

زرغون گیس فیلڈ سے جزوی فراہمی شروع

گیس کے اس ذخیرے کی مقدار 77 ارب مکعب فٹ ہے، اور یہاں سے پندرہ سال تک دو کروڑ مکعب فٹ کی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔

برطانیہ کا شہریوں کو پاکستان کے سفر پر انتباہ

سفارت کار، سرکاری وفود اور شہریپاکستان کے اپنے سفر پر نظرثانی کریں، دفتر خارجہ و کامن ویلتھ۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

نادیہ خان
27 اگست, 2012 06:23
نہ آپ مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں اور نہ وہ. کیونکہ یہ مسئلہ حل ہوگیا تو آپ کو حقیقی مسائل کی طرف توجہ دینی پڑ جائے گی.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔