31 جولائ, 2014 | 3 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

دین گاہ اور میدان جنگ

ریل کی سیٹی

ہندوستان کی سر زمین پہ سولہ اپریل ۱۸۵۳ کے دن پہلی بار ریل چلی تھی۔ جس طرح پل بنانے والے نے دریا کے اس پار کا سچ اس پار کے حوالے کیا ، اسی طرح ریل کے انجن نے فاصلوں کو نیا مفہوم عطا کیا۔ اباسین ایکسپریس ، کلکتہ میل اور خیبر میل صرف ریل گاڑیوں کے نام نہیں بلکہ ہجر، فراق اور وصل کے روشن استعارے تھے۔

اب جب باؤ ٹرین جل چکی ہے ا ور شالیمار ایکسپریس بھی مغلپورہ ورکشاپ کے مرقد میں ہے، میرے ذہن کے لوکوموٹیو شید میں کچھ یادیں بار بار آگے پیچھے شنٹ کر رہی ہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جو میں نے ریل میں بیٹھ کر تو کبھی دروازے میں کھڑے ہو کر خود سے کی ہیں۔وائی فائی اور کلاؤڈ کے اس دور میں، میں امید کرتا ہوں میرے یہ مکالمے آپ کو پسند آئیں گے۔


تصویری خاکہ ۔ — ماہ جبیں منکانی / ڈان۔ کام

لالہ موسیٰ کا ریلوے اسٹیشن ہو، لاہور کا ڈایؤو ٹرمینل یا ہیتھرو کا ائیر پورٹ، اداسی اور جدائی ہر جگہ اپنا رنگ دکھاتی ہے۔

ملنے بچھڑنے کی دھوپ چھاؤں میں سو طرح کے خیال اور خدشے دل پر اپنا سایہ ڈالتے ہیں۔ بیٹے کا پردیس جا کر کمائی کرنا اور چیز ہے، بیٹی کا رخصت ہو کر سسرال جانا اور بات ہے۔

شوہر کی ملازمت کا سفر اور ہے بچوں کی تعلیم کا سفر اور۔ مگر ہجر فراق کے اس ساون بھادوں سے پرے، ٹکٹ بابو، اسٹیشن ماسٹر، بکنگ کلرک، کنڈکٹر ، جہاز کا عملہ اور سوہن حلوہ، سندھی اجرک، پرانے ناول، ٹھنڈے جوس،یخ بوتلیں اور باسی اخبار بیچنے والے اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔

آنسوؤں اور نیک تمناؤں سے بے نیاز یہ طبقہ جذبات کے سمندر میں الگ تھلگ جزیرے کی مانند ، خشک اور لاتعلق رہتا ہے۔

ان مسافروں کے جذبات کی پرواہ صرف خیرات لے کر خیر کی دعا دینے والے مستقل فقیر کرتے ہیں۔

لالہ موسیٰ ایک جنکشن ہے جہاں سے دو پٹڑیاں نکلتی ہیں۔ ایک ڈنگہ، منڈی بہاؤالدین، خوشاب، میانوالی اور سرگودھا کو نکل جاتی ہے، دوسری بھمبھر نالہ اتر کر گجرا ت اور سیالکوٹ کا رخ کرتی ہے۔

اس جنکشن پر ریل گومگو کا شکار ہے، سکندر کے مونگ کی طرف جائے یا ایشیا کے یونان کی طرف، گجرات کی مغل تاریخ میں غرقاب ہو یا سکھوں کے آخری میدان جنگ چیلیانوالہ باغ میں ٹھہرے، انور مسعود کی امبڑی سنے یا شریف کنجاہی کے جگ راتے، ایک راستے پر زمیندارہ کالج ہے اور دوسرے راستے پر پی اے ایف کالج ۔

غالباً یہ آباد کاری کا فیض ہے یا بس ایسے ہی کوئی دو شہر ایک دوسرے کا دامن تھام لیتے ہیں، وجہ بہر حال جو بھی ہو ، گجرات اور سرگودھا میں کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہے۔

بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے ننھیال سرگودھا میں اور دودھیال گجرات میں ہیں۔ بہت سی دولہنیں ایسی ہیں کہ بستی سرگودھا میں ہیں اور بارش کی دعا گجرات کے لئے مانگتی ہیں۔

جب فیصلے مشکل ہوں تو دل کی مان لینی چاہئے اور دل والوں کے لئے سوہنی کی تقدیس ہی بہت ہے، سو میں نے گجرات کا رخ کیا۔

لالہ موسیٰ سے گجرات جاتے ہوئے چیلیانوالہ کو نظرانداز کرنا تاریخ سے روگردانی ہے۔ اس تاریخی ریلوے اسٹیشن پر پہنچنے سے پہلے ریل دین گاہ جاتی ہے۔

کہتے ہیں جب شہر نیا نیا آباد ہوا تو اس کا نام دین گاہ رکھا گیا۔ چیلیانوالہ کے بعد جب پنجاب پنجابیوں کا نہ رہا تو انگریزوں نے دین گاہ کو بھی ڈنگہ لکھنا اور بلانا شروع کر دیا۔

پہلے یہاں ایک گرودوارہ تھا جسے لوگ نانک سر کہتے تھے۔ شہر میں ایک بہت عمدہ مدرسہ بھی تھا اور ریلوے اسٹیشن کے ساتھ ایک مسجد بھی آباد تھی۔

لوگ گرودوارے اور مسجد امن آشتی کے لئے آتے تھے۔ ابھی کیلگری اور وسکانسن میں گرودوارے آباد نہیں ہوئے تھے اور واشنگٹن اور اونٹاریو کی مساجد بھی خواب و خیال ہی تھیں۔

ڈنگہ میں سردار حاکم سنگھ کا سکول بھی تھا اور سبل خاندان کی کہانیاں بھی۔ سردار حاکم سنگھ کا خاندان جالندھر جا بسا اور سبلوں والی گلی میں بسنے والے سبل بریلی، جالندھر کے بعد اب پورے دنیا میں آباد ہیں۔

ہندوستان کے وزیر تعلیم کپل سبل اسی خاندان کے سپوت ہیں۔ مگر ڈنگہ میں سب سے مشہور سبل، سندر داس سبل تھے جن کا سندر محل آج بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

دین کے نام پر آباد اس شہر میں مسجد، مدرسے کی ساتھ ساتھ مند ر اور گرودوارہ بھی تھا اور سارا شہر سندر داس کو بھلا آدمی مانتا تھا۔

وقت کا گزرنا عافیت ہی ہوا ورنہ پہلے مندر جلتا پھر سندر داس یاترا کو جاتے اور کبھی واپس نہ آتے۔

کہیں بھمبھر نالے کے دوسری طرف ایک رام پیاری کا محل بھی ہے جو اسی سندر داس کی دوسری بیوی تھی، مگر وہ کہانی بعد میں ، فی الحال صرف اتنا ہی کہ دنیا کی بالکل دوسری طرف رومانیہ میں بھی ایک ڈنگہ آباد ہے۔

سندر محل اور سبل خاندان کے علاوہ ڈنگہ کی میٹھی سونف بھی بہت مشہور ہے۔

گاڑی چلے تو یہ سب مقام فراٹے بھرتے گزر جاتے ہیں، وقت رکے تو یہاں صدیاں بیت جاتی ہیں۔ اگلا اسٹیشن چیلیانوالہ باغ کا ہے۔

اگر چناب کنارے اس گاؤں کی تاریخ سے جنوری کا مہینہ، ۱۸۴۹ کا سن اور سکھ فوج نکل جائے تو یہاں سوائے آبادی، مویشیوں اور فصلوں کے کچھ نہیں بچتا۔

رنجیت سنگھ کے انتقال کے بعد پنجاب کی قسمت کا فیصلہ چند سکھ جرنیلوں اور مہارانی جنداں کے ہاتھ آ گیا۔ چوں کہ جرنیل اور حکمران عورت عموما عوام کو تحقیر کی نظر تکتے ہیں، لہذا انہوں نے اپنی سوجھ بوجھ اور عظیم تر قومی مفاد میں پنجاب کا فیصلہ کیا۔

اس سلسلے میں پہلی جنگ ۱۸۴۶ میں لڑی گئی جس میں سکھ دربار کا بڑا حصہ انگریزوں کے قبضے میں آ گیا۔ دوسری جنگ ۱۸۴۹ میں چیلیانوالہ میں لڑی گئی۔

اس جنگ کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں فوجیں آج بھی اپنے آپ کو فاتح مانتی ہیں۔

انگریز سپاہ اپنے وقت کے بہترین ہتھیاروں سے مزین تھی اور خالصہ پنتھ کے پاس وہی وسائل تھے جو آزادی اور ناموس کی خاطر لڑنے والوں کے پاس ہوا کرتے ہیں۔

ایک طرف جنرل گوو اور دوسری طرف شیر سنگھ اٹاری والہ۔

فرانسیسی توپخانہ اور پنجابی جرات سے لیس سکھوں نے تین دن میں انگریز بہادری کا پول کھول دیا مگر پھر بارش ہو گئی اور طرفین پیچھے ہٹ گئے۔

فتح دونوں فوجوں کے حصے آئی اور شکست بارشوں کے نام لکھی گئی۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ بعد میں جب انگریزوں نے پنجاب پر اپنا جھنڈا لہرا دیا تو یہاں ایک لاٹ نصب کی گئی جس پر ان سپاہیوں کے نام کندہ ہوئے جنہوں نے اس جنگ میں جان کے نذرانے پیش کئے۔

ان ناموں میں سکھ فوج کا کوئی نام نہیں ہے کیونکہ تاریخ ہمیشہ فاتح کی تحریر ہوا کرتی ہے۔

چیلیانوالہ اب ایک گمنام سا گاؤں ہے۔ انگریزوں کا خیال تھا کہ وہ ہمیشہ یہاں رہیں گے سو انہوں نے فتح کی یادگار بھی تعمیر کی اور آنے جانے کے لئے ریلوے اسٹیشن بھی، مگر اب یہاں مسافر بھی نہیں آتے۔

ہر اسٹیشن کی طرح یہاں بھی ایک بوڑھا پیڑ ہے اور چند بنچ۔ میدان جنگ میں خاک اڑتی ہے اور ریلوے اسٹیشن پر خاموشی کا پہرہ ہے۔

شام ڈھلے، چیلیانوالہ باغ میں سکھ سپاہیوں کی روحیں ایک دوسرے سے پوچھتی ہیں کہ اگر ان کے بچوں نے کینیڈا اور برطانیہ جا کر بسنا تھا تو اتنی جنگوں کی کیا ضرورت تھی۔

تاریخی لاٹ سے گرو کی بانی بلند ہوتی ہے۔سکھ سپاہی ایک دوسرے کو حیرت سے تکتے ہیں۔ صلیب کے عین نیچے سے ایک انگریز سپاہی لنگڑاتا ہوا ان کے پاس آ کر بیٹھ جاتا ہے اور بتاتا ہے کہ کس طرح اب پنجابی بھی کیمبرج نصاب کا حصہ ہے اور پورے برطانیہ میں پڑھی لکھی اور بولی سمجھی جاتی ہے۔

کچھ دیر دونوں گئے وقتوں کو یاد کرتے ہیں جب لوگ عادتیں بدل لیتے تھے مگر شہر اور دوست نہیں بدلتے تھے۔

اب تو ٹھہرنا ممکن ہی نہیں رہا۔ اتنے میں دور سے ریل کی سیٹی سنائی دیتی ہے، انگریز سپاہی اٹھتا ہے اور آہستہ آہستہ بانی پڑھتا صلیب کی اوٹ میں غائب ہو جاتا ہے۔

دس انتر بھوئے، انتر نہیں بھوئے وہ جو دیس پردیس گھومتا ہے، اپنے اندر مگر نہیں دیکھتا (گرو امر داس ۱۰۶۰ : ۶)


مصنف وفاقی ملازم ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

فریحہ فاروق
28 اگست, 2012 12:29
بہت عمدہ تحریر
انور امجد
29 اگست, 2012 23:51
بہت اچھا مضمون ہے۔ پاکستان ریلوے کی تاریخ 13 مئ 1861 سے شروع ہوی جب کراچی سے کوٹری تک 105 میل لمبی ریل کی سروس شروع ہوی۔
مقبول ترین
بلاگ

پکوان کہانی: کابلی پلاؤ - شمال کی شان

گوشت میں پکے چاول اس خطے کے جنگجوؤں کی ذہنی مطابقت اور جسمانی ساخت کے لیے موزوں تھے۔

ایک پاکستانی صحافی کی امریکا یاترا

میں نے جب یہ پوچھا کے کیا وہ پاکستان جانا چاہے گا تو اس کا کہنا تھا کے ہاں مجھے پاکستان جانے کا بہت شوق ہے۔

مووی ریویو: 'کک' صرف سلمان خان کی فلم نہیں

باصلاحیت اداکاروں کے ساتھ فلم بنا کر ساجد ناڈیا والا نے خود کو ایک قابل ڈائریکٹر منوا لیا ہے۔

عید پر انکو نہ بھولیں

رمضان میں انسانی ہمدردی کا جو جذبہ آپ کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے اسے محض وقتی ابال ثابت نہ ہونے دیں-