25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشا کمسن ہے، طبی رپورٹ

اسلام آباد: طاہر نوید چوہدری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے۔ — اے پی

اسلام آباد: توہین مذہب کے الزامات کا سامنا کرنے والی عیسائی لڑکی رمشا کے وکیل کے مطابق طبی معائنے کے بعد ثابت ہوا ہے کہ وہ ابھی کمسن ہے۔

طاہر نوید چوہدری کے مطابق، رمشا کی ذہنی صحت اور اس کی اصل عمر کا تعین کرنے کے لیے قائم میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں بچی کی عمر تیرہ سے چودہ سال ہے۔

چوہدری نے بتایا کہ کمسن ہونے کی وجہ سے رمشا کا مقدمہ پاکستان میں بچوں کے لیے موجود قوانین کے تحت چلے گا۔

وکیل نے مزید بتایا کہ رپورٹ کے مطابق رمشا کی ذہنی حالت اس کی عمر سے مطابقت نہیں رکھتی۔

تاہم اس سے یہ واضع نہیں کہ آیا وہ ذہنی طور پر معذور سمجھی جائے گی۔

رمشا پر الزام ہے کہ اس نے قرآنی آیات پر مشتمل اوراق کو نذر آتش کیا تھا۔

اس حصے سے مزید

انتخابی اصلاحات کے حوالے سے 33رکنی کمیٹی تشکیل

پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام جماعتوں کے ارکان شامل ہیں، سینیٹ سے11 اور قومی اسمبلی سے 22 ارکان کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔

اسلام آباد کو تین ماہ کیلئے فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد کو آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت یکم اگست سے تین ماہ کے لیے فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا، چوہدری نثار۔

پنڈی والوں کی ناراضگی کا ڈر

نواز شریف کسی بھی ایسے مسئلے کو طول دینے کے حق میں نہیں ہیں، جو پنڈی والوں کی ناراضگی کا سبب بن سکتا ہو۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بلاگ

گھریلو تشدد: پاکستانی 'کلچر' - حقیقت کیا ہے؟

پاکستانی سماج میں عورت مرد کی جائداد اور اس سے کمتر ہے چناچہ اس کے ساتھ کسی قسم کا سلوک روا رکھنا مرد کا پیدائشی حق ہے-

ریاستی تنہائی اور اجتماعی مہاجرت

جب تک سوچنے اور سوچ کے اظہار کے لیے ممکنہ حد تک ازادی موجود نہ ہو تب تک سماج میں تکثیریت پروان نہیں چڑھ سکتی

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔