30 اگست, 2014 | 3 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشا کمسن ہے، طبی رپورٹ

اسلام آباد: طاہر نوید چوہدری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے۔ — اے پی

اسلام آباد: توہین مذہب کے الزامات کا سامنا کرنے والی عیسائی لڑکی رمشا کے وکیل کے مطابق طبی معائنے کے بعد ثابت ہوا ہے کہ وہ ابھی کمسن ہے۔

طاہر نوید چوہدری کے مطابق، رمشا کی ذہنی صحت اور اس کی اصل عمر کا تعین کرنے کے لیے قائم میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں بچی کی عمر تیرہ سے چودہ سال ہے۔

چوہدری نے بتایا کہ کمسن ہونے کی وجہ سے رمشا کا مقدمہ پاکستان میں بچوں کے لیے موجود قوانین کے تحت چلے گا۔

وکیل نے مزید بتایا کہ رپورٹ کے مطابق رمشا کی ذہنی حالت اس کی عمر سے مطابقت نہیں رکھتی۔

تاہم اس سے یہ واضع نہیں کہ آیا وہ ذہنی طور پر معذور سمجھی جائے گی۔

رمشا پر الزام ہے کہ اس نے قرآنی آیات پر مشتمل اوراق کو نذر آتش کیا تھا۔

اس حصے سے مزید

آئی ایس پی آرکابیان حکومتی منظوری سے جاری ہوا، وفاقی وزیر داخلہ

چوہدری نثارنےکہاہےکہ حکومت نےکسی کو ضامن اور ثالث نہیں بنایا,آئی ایس پی آرکابیان وزیراعظم کودیکھانے کےبعدجاری کیاگیا۔

نواز شریف نے آرمی چیف سے 'معاونت' مانگی، آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حکومت نےآرمی چیف سے موجودہ صورتحال کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا کہا تھا۔

عمران خان کا کراچی،لاہور،فیصل آباد اور ملتان میں مظاہروں کا اعلان

آئی ایس پی آر کے بیان کے بعد چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ایک اور جھوٹ بولنے پر قوم سے معافی مانگیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت

حکومت نےکس قدر عجلت میں مذاکرات کا فیصلہ کیا، اس سے معاملات کے اوپر جی ایچ کیو کی گرفت کا اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے۔

بلاگ

اجتماعی سیاسی قبر

فوج کو سیاسی معاملات میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاستدان سیاسی معاملات سے نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

مووی ریویو: مردانی - پاورفل کہانی، بہترین پرفارمنس

بولی وڈ اداکار رانی مکھرجی اور طاہر بھاسن دونوں ہی اپنی بولڈ پرفارمنس کے لئے تعریف کے لائق ہیں۔

عظیم مقاصد، پر راستہ؟

اس طوفان کے نتیجے میں ان چاہی افرا تفری پھیل سکتی ہے، اسلیے اچھے مقاصد کے لیے ایسے راستے اختیار نہیں کیے جانے چاہییں۔

انقلاب معافی چاہتا ہے

ڈی چوک وہ سیاسی چراغ ہے جس کو اگر ضدی شہزادے کافی حد تک رگڑ دیں تو کچھ پتا نہیں اس میں سے انقلاب کا جن نکل ہی آئے۔