23 ستمبر, 2014 | 27 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

انوکھا لاڈلا

۔ — تصویری خاکہ بشکریہ مصنف

جو انوکھا لاڈلا پہلے کھیلن کو چاند مانگتا تھا اب وہ کھیلن کو ہتھیار مانگتا ہے۔

اگر نہیں بھی مانگتا تو اسکے  والدین جن کی نئے اسلام سے نئی نئی آشنائی ہوئی ہے وہ اپنے بچوں اور بچیوں کو  کھلونے ہتھیار پکڑا کر جلسے جلوسوں میں لاتے ہیں اور  دنیا کے سب سے بڑے اصلی ہتھیار بنانے اور بیچنے والے ملک جس نے دنیا بھرمیں امن قائم کرنے کا ٹھیکہ بھی خود ہی لے رکھا ہے۔

اسکو ڈرانے اور دھمکانے کے لیے ان بچوں اور بچیوں کے ہاتھ میں ہتھیار نما کھلونے دیکر نعرے بھی لگواتے ہیں تو اسے یہ بتانے کی کوشش  بھی کرتے ہیں  کہ بیٹا اب تیری خیر نہیں ، اب ہماری نئی نسلیں جاگ اٹھی ہیں اور ایک دن ہم ضرور آزادی کے مجسمے کی جگہ اتنا ہی لمبا مینار کھڑا کرینگے اور اس پر ہرا جھنڈا بھی لہرائیں گے۔

یہ اور بات ہے کہ جو دہلی کے لال قلعے پر جھنڈے گاڑنے کے خواب  دکھائے تھے وہ بھی  ابھی پورے نہیں ہوئے۔

ویسے ہمارے  بچوں نے تو کیا بڑوں نے بھی مردِ مومن کی آمد سے قبل ہتھیار نہیں دیکھا تھا، گلی محلے کے سب سے بڑے غنڈے کے پاس بھی کلپ ہوتا تھا یا زیادہ سے زیادہ چاقو باقی اگر ہتھیار بنتے یا بکتے تو وہ بھی پہاڑی علاقوں میں جہاں ہتھیار رکھنا انکی  شان اور شوکت کا حصہ تھا۔

باقی سرحد کے اس پار جب سوویت یونین نے جھنڈے گاڑے تو ادھر سے اصلی تے وڈے سپر پاور نے  مردِ مومن  اور مومنین بھائیوں کے سہارے پاکستان کو ہتھیاروں اور بارود کا ڈھیر بنا دیا۔

ایک طرف مومنین کے جیبوں میں ڈالر آنے شروع ہوئے تو دوسری جانب ہیروئن اور پوست کا کاروبار بھی پھلنے پھولنے لگا۔

کلاشنکوف بنانے والے نے تو سوچا بھی نہیں ہوگا جو ہتھیار وہ اپنے ملک کے لیے بنا رہا ہے اسےساری دنیا میں امریکہ ہی  پھیلائے گا۔ جہاد، جہادی تنظیمیں، ہیروئن اور ہتھیار سب ساتھ ساتھ پھلنے پھولنے لگے۔

ہمارے معصوم لوگ بھی کلاشنکوف سے متعارف ہوئے اور پھر اس نے گھر گھر کا راستہ دیکھ لیا۔ دنیا بھر سے آئے مجاہدین کی تربیت  کی ذمہ داری بھی آئی ایس آئی اور سی آئی اے نے مل جل  کرپوری کی اور انکی ملی جلی کوششوں سے، اپنے مومنینِ کرام نے روسیوں کو بھگا کے دم لیا۔

اب ایک طرف روسی بھاگ نکلے تو دوسری جانب امریکیوں نے بھی راہِ فرار اختیار کی اور ہمیں جو ہمیشہ سے بھاڑے پہ کام کرتے آئےہیں بیچ منجھدار میں اکیلا چھوڑدیا۔

بہرحال بعد میں تو وہی پچھتائے جنہوں نے بیچ منجھدار میں چھوڑا، ہمارے پاس تو ہتھیار تھے، تربیت یافتہ لشکر اور ڈالر تھے ہم  نےاس سے بھی آگے دیکھنا شروع کیا۔

اب کشمیر کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کا وقت قریب نظر آرہا تھا۔ تو دوسری طرف اپنی سرحدوں کے اندر اور باہر بھی جہاد کے سلسلے شروع ہوئے، لشکر وسپاہ  بنے، فرقے پہلے بھی بہت تھے اور بھی بٹوارے ہوئے۔

سیاسی جماعتیں ایک میں سے دو، دو سے تین، تین سے چار، چار سے پانچ، پانچ سے چھ، بس بنتی ہی چلی گئیں۔ کوئی دین کے نام پہ تو کوئی قومیت کے نام پہ لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کرتا گیا۔

ہتھیار جو ہم نے نا دیکھے نا سنے ،اس طرح ہماری زندگیوں میں داخل ہوئے کہ ہمیں برابر والے سے بھی خوف آنے لگا۔ پھر جو نوگیارہ  ہوا تو  ہماری دنیا ہی بدل گئی۔

اب ساری دنیا ہماری طرف دیکھنے لگی اور جو بیچ منجھدار میں ہمیں اکیلا چھوڑ کر بھول چکا تھا اسے بھی معلوم ہوا کہ اس نے کتنی بڑی غلطی کی ہے۔ اسکے ہی ڈالروں پر پلے بڑھے اس کے ہی سامنے کھڑے تھے، اگر ہم روسیوں کو بھگا سکتے ہیں تو امریکہ کیا چیز ہے۔

بس  یہیں سے کہانی شروع ہے۔ ہم اور آپ جو ابھی تک خاموش اکثریت کی چادر اوڑھے بیٹھے ہیں ، نہ آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں، نا ہی کانوں سےسننا پسند کرتے ہیں اور بولنے کی ذمہ داری بھی دوسرے  ہی نباہ رہے ہیں۔

ہم اپنی ہی دنیا میں مست ہیں۔ لڑنے والے، تباہی پھیلانے والے کس کی جنگ لڑ رہے ہیں کیوں لڑ رہے ہیں، کس لیے لڑ رہے ہیں، اس  میں آپکا اور میرا کیا جاتا ہے۔

ہتھیار اگر میرے گھر میں نہیں تو برابر والے کے پاس تو ہیں۔ یہ جو چاند کی خوشی میں گولیاں چلیں وہ تو آپ نے بھی سنی ہونگی، لگ رہا تھا اپنا ہی آنگن جنگ کا میدان بنا ہوا ہے۔

ہم بارود کے ڈھیر پر بیٹھ کر خوشیاں منا رہے ہیں وہ بھی صرف ٹی وی پر۔ ہمارے بچے عیدی لیکر ہتھیار خریدتے ہیں اور سارا دن ایک دوسرے سے مقابلے میں گذارتے ہیں۔ امیروں کے گھروں میں تو روز ہی عیدی ملتی ہے ۔

لیکن یہ بچے جن بےچاروں کو عید کے دن ہی عیدی ملتی ہے  وہ تو اب سیدھا جاکے ہتھیار خریدتا ہے، اب اسے بھی معلوم ہے کے کلاشنکوف چاہیئے یا اوزی یا پھرپستول ۔ اب وہ چور سپاہی نہیں، کوئی اورہی کھیل کھیلتا ہے۔ یہ  تصویر میں نے عید کے دن لی ہے،  بیٹیاں جھولے میں جھول رہی ہیں اور بیٹا پستول تانے کھڑا ہے، بیٹے کی عمر کا اندازہ آپ لگائیں، یہ آپ کا اور میرا مستقبل ہے۔

کتاب، قلم یا ساز تو ہم نے کب  سے اس کو دینا ترک کردیا ۔

اب اس کے ہاتھ میں بھی ہتھیار ہے، جس کی گونج میں وہ پیدا ہوا ہے اور جس کی گونج میں چاند رات منائی اور عید کے دن اپنی ہی عیدی سے لیے ہوئے ہتھیار سے اپنے ہی بھائی کا نشانہ باندھ رہا ہے۔ تصاویر بشکریہ مصنف

 


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

مووی ریویو: 'خوبصورت' - فواد اور سونم کی خوبصورت کہانی

اپنے مزاحیہ خیز کرداروں کے باوجود فلم شوخ اور رومانٹک ڈرامہ ہے، جسے آپ باآسانی ڈزنی کی طلسماتی کہانی کہہ سکتے ہیں-

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

سروے