20 اگست, 2014 | 23 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشا کے جوڈيشل ريمانڈ ميں توسيع

پولیس کی تفتیش مکمل نہ ہونے کی وجہ سے عدالت نے رمشا کے ريمانڈ ميں مزيد چودہ دن کی توسيع کردی۔ اے پی فوٹو

اسلام آباد: اسلام آباد کی ایک عدالت نے توہین مذہب کیس میں گرفتار عیسائی لڑکی رمشا کے عدالتی ريمانڈ ميں چودہ دن کی توسيع کردی ہے۔

 رمشا پر الزام ہے کہ اس نے قرآنی آیات پر مشتمل اوراق کو نذر آتش کیا تھا۔

 جمعہ کے روز رمشا کو جوڈيشل مجسٹريٹ اسلام آباد انعام اللہ خان کی عدالت ميں پيش کيا گيا۔

پولیس نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ تفتيش مکمل نہيں ہو سکی لہذا چالان کیلئے مہلت دی جائے جس پر ملزمہ کے ريمانڈ ميں مزيد چودہ دن کی توسيع کردی گئی۔

 اس موقع پر عدالت نے پوليس کو ہدايت کی کہ کيس کی تفتيش جلد از جلد مکمل کرکے چالان پيش کيا جائے۔

 واضع رہے کہ دو روز قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کميٹی برائے انسانی حقوق نے ذہنی مرض میں مبتلا رمشا کے علاج کی ہدایات جاری کی تھیں۔

 کميٹی نے وزارت انسانی حقوق کو بچی کے گھر جا کر حقائق جمع کرنے اور عيسائی برادری کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا بھی حکم ديا تھا۔

اس حصے سے مزید

فوج کا بامقصد مذاکرات کے ذریعے معاملات کے حل پر زور

ترجمان آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہاہے کہ ریڈزون کی عمارتیں ریاست کی علامت ہیں جن کی حفاظت فوج کر رہی ہے۔

سابق فوجیوں کی جانب سے اسمبلیوں کی تحلیل کی حمایت

سابق فوجی افسران کا کہنا ہے کہ سیاسی رہنما ملکی مفادات کے لیے اپنی پارٹی وابستگیوں سے بلند ہونے میں ناکام ہوچکے ہیں۔

پی ٹی آئی کے دو اراکین کا سول نافرمانی کی کال پر اعتراض

قومی اسمبلی کے لیے پی ٹی آئی کے ایک امیدوار نے عمران خان کے نام اپنے خط میں کہا ہے کہ سول نافرمانی سے انتشار پیدا ہوگا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

نمبروں کی غلط فہمی

یہ ایک افسوسناک بات ہے کہ سوئس بینک میں رقم کے بارے میں ایک بالکل بے تکا اندازہ اتنے عرصے سے خبروں میں گردش کررہا ہے۔

اگر مگر سے کام نہ لیں

مسلم لیگ ن کے پاس کھونے کے لیے سب سے زیادہ چیزیں ہیں، اس لیے امید ہے کہ دانشمندی سے کام لیا جائے گا۔

بلاگ

انقلاب کو میرے لان سے ہٹاؤ

اسلام آباد کے رہائشی اس بات کو قبول نہیں کریں گے، کہ انقلابی ان کے لان میں ڈیرے ڈال کر بیٹھ جائیں۔

انقلاب کا ترپ پتّہ

اگر اسمبلی یا وزیراعظم ہاؤس میں چند ہزار کارکن گھسا کر ہی حکومت میں آنا ہے تو پھر ملک میں انتخابات کروانے کا کیا فائدہ

تماشا، تماشائی اور مداری

ہم مڈل کلاس لوگ بھی عجیب ہیں، بڑے ہی نہیں ہوتے، ہوبھی جایئں تو کھلونوں سے بہل جاتے ہیں۔ یونہی تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔

مووی ریویو: '‫سنگھم ریٹرنز' کا جادو سنگھم جیسا نہیں

ایک ڈائریکٹر کی حیثیت سے روہت شیٹھی نے خاصا معقول کام کیا ہے اور ناظرین کو مراٹھی ڈائیلاگز و اسٹائل سے محظوظ کرایا ہے۔