02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

شیعوں کے قتل عام پہ الطاف حسین کی تشویش

ایم کیوٓایم کے قائد الطاف حسین کا کہنا تھا کہ آزاد عدلیہ کا یہ مطلب نہیں کہ قاتلوں کو عدم ثبوت پر بری کر دیا جائے۔۔ فائل فوٹو

کراچی: ملک میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شعیہ اور سنی علماء ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں کیونکہ یہ باتوں کا نہیں عمل کا وقت ہے۔

انکا کہنا تھا کہ آزاد عدلیہ کا یہ مطلب نہیں کہ قاتلوں کو عدم ثبوت پر بری کر دیا جائے۔

ہفتہ کہ روزکراچی میں اتحاد بین المسلمین کانفرنس سے خطاب میں الطاف حسین نے مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ منافقت سے کام لینے کا وقت نہیں ہے۔

الطاف حسین نے علمائے کرام کو ملکی حالت پر دعوت فکر دیتے ہوئے کہا کہ اپنی ذمہ داریاں دوسروں کےکاندھوں پرنہیں ڈالی جاسکتیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بےگناہ افراد قتل ہو رہے ہیں جبکہ حساس ادارے اور حکومت کہیں دکھائی نہیں دیتے۔

عدالتی نظام پہ تنقید کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے قائد کا کہنا تھا کہ آزاد عدلیہ کا مطلب یہ نہیں کہ مجرم عدم ثبوت کے بنا پر بری کردیے جائیں۔

کانفرنس میں شریک علما کرام نے کہا کہ وہ فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ جانے والوں کے گھر جائیں گے۔ جبکہ الطاف حسین کی تجویز پر مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام  پر مشتمل چودہ رکنی فورم بھی تشکیل دیا گیا۔ یہ فورم متحدہ اتحاد بین المسلمین کے نام سے کام کرے گا۔

اس حصے سے مزید

'وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے'

لاہور ہائی کورٹ نے اس درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے۔

پشاور: کوہاٹ روڈ پر دھماکا، سات افراد ہلاک

دھماکے میں 11 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے چار کی حالات تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

اسلام آباد: مشترکہ آپریشن کے دوران تین مشتبہ ملزمان گرفتار

بنی گالہ میں سیکورٹی فورسز،رینجرز اور پولیس کمانڈوزکے مشترکہ آپریشن کےدوران ملزمان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟