30 اگست, 2014 | 3 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

شیعوں کے قتل عام پہ الطاف حسین کی تشویش

ایم کیوٓایم کے قائد الطاف حسین کا کہنا تھا کہ آزاد عدلیہ کا یہ مطلب نہیں کہ قاتلوں کو عدم ثبوت پر بری کر دیا جائے۔۔ فائل فوٹو

کراچی: ملک میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شعیہ اور سنی علماء ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں کیونکہ یہ باتوں کا نہیں عمل کا وقت ہے۔

انکا کہنا تھا کہ آزاد عدلیہ کا یہ مطلب نہیں کہ قاتلوں کو عدم ثبوت پر بری کر دیا جائے۔

ہفتہ کہ روزکراچی میں اتحاد بین المسلمین کانفرنس سے خطاب میں الطاف حسین نے مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ منافقت سے کام لینے کا وقت نہیں ہے۔

الطاف حسین نے علمائے کرام کو ملکی حالت پر دعوت فکر دیتے ہوئے کہا کہ اپنی ذمہ داریاں دوسروں کےکاندھوں پرنہیں ڈالی جاسکتیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بےگناہ افراد قتل ہو رہے ہیں جبکہ حساس ادارے اور حکومت کہیں دکھائی نہیں دیتے۔

عدالتی نظام پہ تنقید کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے قائد کا کہنا تھا کہ آزاد عدلیہ کا مطلب یہ نہیں کہ مجرم عدم ثبوت کے بنا پر بری کردیے جائیں۔

کانفرنس میں شریک علما کرام نے کہا کہ وہ فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ جانے والوں کے گھر جائیں گے۔ جبکہ الطاف حسین کی تجویز پر مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام  پر مشتمل چودہ رکنی فورم بھی تشکیل دیا گیا۔ یہ فورم متحدہ اتحاد بین المسلمین کے نام سے کام کرے گا۔

اس حصے سے مزید

شیخ رشید، جمشید دستی بھی استعفے دیں، پی ٹی آئی اراکین کی شکایت

عمران خان شیخ رشید کو استعفے پر قائل کرنے میں ناکام رہے، ذرائع تحریک انصاف۔

نواز شریف نے آرمی چیف سے 'معاونت' مانگی، آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حکومت نےآرمی چیف سے موجودہ صورتحال کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا کہا تھا۔

آئی ایس پی آرکابیان حکومتی منظوری سے جاری ہوا، وفاقی وزیر داخلہ

چوہدری نثارنےکہاہےکہ حکومت نےکسی کو ضامن اور ثالث نہیں بنایا,آئی ایس پی آرکابیان وزیراعظم کودیکھانے کےبعدجاری کیاگیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت

حکومت نےکس قدر عجلت میں مذاکرات کا فیصلہ کیا، اس سے معاملات کے اوپر جی ایچ کیو کی گرفت کا اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے۔

بلاگ

اجتماعی سیاسی قبر

فوج کو سیاسی معاملات میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاستدان سیاسی معاملات سے نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

مووی ریویو: مردانی - پاورفل کہانی، بہترین پرفارمنس

بولی وڈ اداکار رانی مکھرجی اور طاہر بھاسن دونوں ہی اپنی بولڈ پرفارمنس کے لئے تعریف کے لائق ہیں۔

عظیم مقاصد، پر راستہ؟

اس طوفان کے نتیجے میں ان چاہی افرا تفری پھیل سکتی ہے، اسلیے اچھے مقاصد کے لیے ایسے راستے اختیار نہیں کیے جانے چاہییں۔

انقلاب معافی چاہتا ہے

ڈی چوک وہ سیاسی چراغ ہے جس کو اگر ضدی شہزادے کافی حد تک رگڑ دیں تو کچھ پتا نہیں اس میں سے انقلاب کا جن نکل ہی آئے۔