18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

شیعوں کے قتل عام پہ الطاف حسین کی تشویش

ایم کیوٓایم کے قائد الطاف حسین کا کہنا تھا کہ آزاد عدلیہ کا یہ مطلب نہیں کہ قاتلوں کو عدم ثبوت پر بری کر دیا جائے۔۔ فائل فوٹو

کراچی: ملک میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شعیہ اور سنی علماء ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں کیونکہ یہ باتوں کا نہیں عمل کا وقت ہے۔

انکا کہنا تھا کہ آزاد عدلیہ کا یہ مطلب نہیں کہ قاتلوں کو عدم ثبوت پر بری کر دیا جائے۔

ہفتہ کہ روزکراچی میں اتحاد بین المسلمین کانفرنس سے خطاب میں الطاف حسین نے مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ منافقت سے کام لینے کا وقت نہیں ہے۔

الطاف حسین نے علمائے کرام کو ملکی حالت پر دعوت فکر دیتے ہوئے کہا کہ اپنی ذمہ داریاں دوسروں کےکاندھوں پرنہیں ڈالی جاسکتیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بےگناہ افراد قتل ہو رہے ہیں جبکہ حساس ادارے اور حکومت کہیں دکھائی نہیں دیتے۔

عدالتی نظام پہ تنقید کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے قائد کا کہنا تھا کہ آزاد عدلیہ کا مطلب یہ نہیں کہ مجرم عدم ثبوت کے بنا پر بری کردیے جائیں۔

کانفرنس میں شریک علما کرام نے کہا کہ وہ فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ جانے والوں کے گھر جائیں گے۔ جبکہ الطاف حسین کی تجویز پر مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام  پر مشتمل چودہ رکنی فورم بھی تشکیل دیا گیا۔ یہ فورم متحدہ اتحاد بین المسلمین کے نام سے کام کرے گا۔

اس حصے سے مزید

خیبرپختونخوا میں پولیو مہم فوج کے سپرد

وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر خیبر پختونخوا میں پولیو کے خاتمے کی مہم پاک فوج کے سپرد کردی گئی۔

خیبر ایجنسی: شدت پسندوں کا ایف سی قلعے پر حملہ

دونوں جانب سے ہلکےاور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی, تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی طلاع نہیں ملی۔

چیئرمین پیمرا، واپڈا عہدوں سے فارغ

وزیراعظم نے چیئرمین واپڈا سے استعفیٰ لیکر ظفر محمود کو نیا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے