30 ستمبر, 2014 | 4 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

امریکی قونصلیٹ کی گاڑی پر 'خود کش' حملہ، دو ہلاک

پشاور: دھماکے کے بعد سیکورٹی اہلکار علاقے کا محاصرہ کر رہے ہیں۔ — اے ایف پی

پشاور: صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں امریکی قونصلیٹ کی گاڑی پر مبینہ خود کش حملے میں دو مقامی افراد ہلاک جبکہ غیر ملکیوں سمیت انیس زخمی ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق آبدرہ روڈ پر پیش آنے والے اس حملے میں خود کش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی امریکن قونصلیٹ کی گاڑی سے ٹکرا دی ۔

سی سی پی او پشاور الطاف امتیاز نے بتایا کہ  حملے میں ایک سو دس کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

دھماکہ کے نتیجے میں پانچ سے چھ مکانوں کے علاوہ متعد گاڑیوںکو بھی نقصان پہنچا۔

خبر رساں ادارے اے پی نے مقامی پولیس افسر پرویز خان کے حوالے سے بتایا کہ اقوام متحدہ کے زیر استعمال عمارت کے قریب، گاڑی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ قونصلیٹ دفتر سے روانہ ہوئی۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے مطابق حملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی۔

امریکی سفارت خانے کے ایک عہدے دار نے ان خبروں کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ دھماکے میں دو امریکی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا۔

اس حصے سے مزید

وادیِ تیراہ میں ریمورٹ کنٹرول بم دھماکا، پانچ افراد ہلاک

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکا تیراہ میں شدت پسند گروپ لشکر اسلام کی بیس میں ہوا۔

ہنگو: متاثرین کے کیمپ میں دھماکا، سات افراد ہلاک

ہنگو میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے آںے والوں کے متاثرین کے کیمپ میں دھماکے سے سات افراد ہلاک ہو گئے۔

فاٹا میں فضائی کارروائی اور جھڑپ میں 21 شدت پسند ہلاک

حکام کے مطابق شوال اور خیبر میں فضائی کارروائی اور جھڑپ میں غیرملکیوں سمیت 21 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Mohammad jehangir
03 ستمبر, 2012 10:15
اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے اس پر سب متفق ہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان،لشکر جھنگوی اور دوسری کالعدم جماعتیں اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں اور اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ طالبان کا یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گیا ہے اور طالبان دائین بائیں صرف مسلمانوں کو ہی مار رہے ہیں۔اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔ بچوں اور بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔طالبان انسان کہلانے کے بھی مستحق نہ ہیں۔ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲) دہشت گرد اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں اور ان کو مسلمان تو کجا انسان کہنا بھی درست نہ ہے اور یہ لوگ جماعت سے باہر ہیں۔ ہمیں ان سب کا مل کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ یہ بزدل قاتل اور ٹھگ ہیں اور بزدلوں کی طرح نہتے معصوم لوگوں پر اور مسجدوں میں نمازیوں پر آ گ اور بارود برساتے ہیں اور مسجدوں کے تقدس کو پامال کرتے ہیں۔ اس طرح یہ پاکستان کے دشمنوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ …………………………………………………… اقبال جہانگیر کا تازہ ترین بلاگ : جنونیت و قتل و غارت گری بند کی جائے http://www.awazepakistan.wordpress.com
سروے
مقبول ترین
قلم کار

فائرنگ کی زد میں

پولیس کی قیادت کو ادراک ہوا ہے کہ اسے صاحب اختیار لوگوں کے غیر قانونی مطالبات کو نا کہنے کی ہمت دکھانے کی ضرورت ہے.

پالیسی سازی کا فن

پنجاب میں باربارآنے والے سیلاب نے فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کے درمیان خلا کو بےنقاب کردیا ہے۔

بلاگ

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟

مووی ریویو: دی پرنس — انسپائر کرنے میں ناکام

مجموعی طور پر روبوٹ جیسی پرفارمنسز اور کمزور پلاٹ کی وجہ سے یہ فلم ناظرین کی دلچسپی قائم رکھنے میں ناکام رہی-

مخلص سیاستدانوں کے سچے بیانات

جب سے دھرنے جاری ہیں، تب سے ہم نے سیاستدانوں سے طرح طرح کی باتیں سنی ہیں جن میں سے کچھ پیش خدمت ہیں۔