25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

امریکی قونصلیٹ کی گاڑی پر 'خود کش' حملہ، دو ہلاک

پشاور: دھماکے کے بعد سیکورٹی اہلکار علاقے کا محاصرہ کر رہے ہیں۔ — اے ایف پی

پشاور: صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں امریکی قونصلیٹ کی گاڑی پر مبینہ خود کش حملے میں دو مقامی افراد ہلاک جبکہ غیر ملکیوں سمیت انیس زخمی ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق آبدرہ روڈ پر پیش آنے والے اس حملے میں خود کش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی امریکن قونصلیٹ کی گاڑی سے ٹکرا دی ۔

سی سی پی او پشاور الطاف امتیاز نے بتایا کہ  حملے میں ایک سو دس کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

دھماکہ کے نتیجے میں پانچ سے چھ مکانوں کے علاوہ متعد گاڑیوںکو بھی نقصان پہنچا۔

خبر رساں ادارے اے پی نے مقامی پولیس افسر پرویز خان کے حوالے سے بتایا کہ اقوام متحدہ کے زیر استعمال عمارت کے قریب، گاڑی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ قونصلیٹ دفتر سے روانہ ہوئی۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے مطابق حملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی۔

امریکی سفارت خانے کے ایک عہدے دار نے ان خبروں کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ دھماکے میں دو امریکی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا۔

اس حصے سے مزید

پشاور: سڑک کنارے نصب دھماکا، دو افراد ہلاک

دوسری جانب جنداللہ بازار کے علاقے میں ایک ایف سی اہلکار کو نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔

اورکزئی: مکان میں دھماکا، کمانڈر سمیت 5 جنگجو ہلاک

آوٹ میلہ کے ایک گھر میں دھماکے سے وہاں موجود پانچ مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے، سرکاری ذرائع۔

پشاور میں فائرنگ، سابق رکن قومی اسمبلی کا پرسنل سیکرٹری ہلاک

مقتول بسم اللہ کو نامعلوم افراد نے رنگ روڈ تاج آباد کے علاقے میں گولیوں کا نشانہ بنایا، پولیس۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Mohammad jehangir
03 ستمبر, 2012 10:15
اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے اس پر سب متفق ہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان،لشکر جھنگوی اور دوسری کالعدم جماعتیں اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں اور اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ طالبان کا یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گیا ہے اور طالبان دائین بائیں صرف مسلمانوں کو ہی مار رہے ہیں۔اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔ بچوں اور بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔طالبان انسان کہلانے کے بھی مستحق نہ ہیں۔ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲) دہشت گرد اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں اور ان کو مسلمان تو کجا انسان کہنا بھی درست نہ ہے اور یہ لوگ جماعت سے باہر ہیں۔ ہمیں ان سب کا مل کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ یہ بزدل قاتل اور ٹھگ ہیں اور بزدلوں کی طرح نہتے معصوم لوگوں پر اور مسجدوں میں نمازیوں پر آ گ اور بارود برساتے ہیں اور مسجدوں کے تقدس کو پامال کرتے ہیں۔ اس طرح یہ پاکستان کے دشمنوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ …………………………………………………… اقبال جہانگیر کا تازہ ترین بلاگ : جنونیت و قتل و غارت گری بند کی جائے http://www.awazepakistan.wordpress.com
سروے
مقبول ترین
قلم کار

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بلاگ

گھریلو تشدد: پاکستانی 'کلچر' - حقیقت کیا ہے؟

پاکستانی سماج میں عورت مرد کی جائداد اور اس سے کمتر ہے چناچہ اس کے ساتھ کسی قسم کا سلوک روا رکھنا مرد کا پیدائشی حق ہے-

ریاستی تنہائی اور اجتماعی مہاجرت

جب تک سوچنے اور سوچ کے اظہار کے لیے ممکنہ حد تک ازادی موجود نہ ہو تب تک سماج میں تکثیریت پروان نہیں چڑھ سکتی

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔