17 ستمبر, 2014 | 21 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

امریکی قونصلیٹ کی گاڑی پر 'خود کش' حملہ، دو ہلاک

پشاور: دھماکے کے بعد سیکورٹی اہلکار علاقے کا محاصرہ کر رہے ہیں۔ — اے ایف پی

پشاور: صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں امریکی قونصلیٹ کی گاڑی پر مبینہ خود کش حملے میں دو مقامی افراد ہلاک جبکہ غیر ملکیوں سمیت انیس زخمی ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق آبدرہ روڈ پر پیش آنے والے اس حملے میں خود کش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی امریکن قونصلیٹ کی گاڑی سے ٹکرا دی ۔

سی سی پی او پشاور الطاف امتیاز نے بتایا کہ  حملے میں ایک سو دس کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

دھماکہ کے نتیجے میں پانچ سے چھ مکانوں کے علاوہ متعد گاڑیوںکو بھی نقصان پہنچا۔

خبر رساں ادارے اے پی نے مقامی پولیس افسر پرویز خان کے حوالے سے بتایا کہ اقوام متحدہ کے زیر استعمال عمارت کے قریب، گاڑی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ قونصلیٹ دفتر سے روانہ ہوئی۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے مطابق حملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی۔

امریکی سفارت خانے کے ایک عہدے دار نے ان خبروں کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ دھماکے میں دو امریکی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا۔

اس حصے سے مزید

شمالی وزیرستان: فورسز کی چوکی پر حملہ ناکام، گیارہ شدت پسند ہلاک

ذرائع کے مطابق افغان سرحد کی جانب سے کیے گئے اس دہشت گرد حملے میں تین ایف سی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

خیبر ایجنسی: فضائی کارروائی میں 20 مبینہ دہشت گردہلاک، 5 ٹھکانے تباہ

سرکاری ذرائع نے بھی وادی تیراہ، جتوئی اور راجگل میں فضائی کارروائی میں مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کسی صورت اسمبلی تحلیل نہ کرنے کا اعلان

میں نے اسمبلی کے اراکین سے وعدہ کیا ہے کہ میں مستعفی تو ہوسکتا ہوں مگر اسمبلی تحلیل نہیں کروں گا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Mohammad jehangir
03 ستمبر, 2012 10:15
اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے اس پر سب متفق ہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان،لشکر جھنگوی اور دوسری کالعدم جماعتیں اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں اور اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ طالبان کا یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گیا ہے اور طالبان دائین بائیں صرف مسلمانوں کو ہی مار رہے ہیں۔اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔ بچوں اور بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔طالبان انسان کہلانے کے بھی مستحق نہ ہیں۔ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲) دہشت گرد اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں اور ان کو مسلمان تو کجا انسان کہنا بھی درست نہ ہے اور یہ لوگ جماعت سے باہر ہیں۔ ہمیں ان سب کا مل کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ یہ بزدل قاتل اور ٹھگ ہیں اور بزدلوں کی طرح نہتے معصوم لوگوں پر اور مسجدوں میں نمازیوں پر آ گ اور بارود برساتے ہیں اور مسجدوں کے تقدس کو پامال کرتے ہیں۔ اس طرح یہ پاکستان کے دشمنوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ …………………………………………………… اقبال جہانگیر کا تازہ ترین بلاگ : جنونیت و قتل و غارت گری بند کی جائے http://www.awazepakistan.wordpress.com
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ڈیم، کینال، بیراج، اور ماحول

ہندوستانی پنجاب میں زیادہ بارشیں ہوئیں، جسکی وجہ سے اپ سٹریم کا پانی پاکستانی چناب اور جہلم میں بہہ آیا ہے

انتخابی اصلاحات: اگلا قدم

بحیثیت قوم ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا، کہ اس معاملے میں سچ سب کے سامنے آئے، اور کوئی شک شبہہ باقی نا رہے۔

بلاگ

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔

کریچر - تھری ڈی: گوڈزیلا یا ڈیوی جونز کا کزن؟

یہ کہنا غلط نہ ہوگا بپاشا ہارر تھرلرز تک محدود ہوگئی ہیں جبکہ عمران عبّاس نے انکے گرد چکر کاٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔

جب خاموشی بہتر سمجھی جائے

اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ برطانوی پاکستانیوں کے پاس جنسی استحصال پر بات کرنے کے لیے آزادی نہیں ہے۔

نائنٹیز کا پاکستان - 6

اندازے کے مطابق اس دور میں پاکستانی فوج ہر ماہ اوسط ساڑھے سات کروڑ ڈالر ’مجاہدین‘ پر خرچ کر رہی تھی۔