18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

پی پی، ایم کیو ایم بلدیاتی نظام کے فارمولے پر متفق

صدر زرداری بلاول ہاؤس میں ایم کیو ایم کے ساتھ میٹنگ کے دوران۔ پی پی آئی فوٹو

اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری کی مداخلت پر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے فارمولے پر متفق ہوگئے ہیں۔ جبکہ سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس دوہزار بارہ کا اجراء آج کی کسی بھی وقت متوقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس دوہزار بارہ کے نام سے تیار کیا جانے والا مسودہ تیار کیا جارہا ہے۔

نیا بلدیاتی نظام کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، لاڑکانہ اورسکھر میں نافذ العمل ہوگا۔

ایڈمنسٹریٹر کی تقرری سیاسی بنیادوں  پر ہوگی۔

کمشنر کے ساتھ ساتھ ڈویژن میں ڈی سی اوز بھی تعینات ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لوکل گورنمنٹ دوہزار کا نظام لوکل گورنمنٹ دوہزاردس کا ہی نئے نام سے اعادہ ہے۔

پیپلز پارٹی ار ایم کیو ایم میں اس نظام پر گذشتہ کئی سال سے اختلافات برقرار تھے جبکہ کسی متفقہ حل تک پہنچنے کیلیےدرجنوں اجلاس بھی ہوئے۔

تاہم حال ہی میں صدر زرداری کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کی تیاری کی ہدایت کے بعد اتحادیوں کانئے بلدیاتی نظام پر اتفاق ہوا اور اس کا اجراء آج ہی متوقع ہے۔

اس حصے سے مزید

چیئرمین پیمرا، واپڈا عہدوں سے فارغ

وزیراعظم نے چیئرمین واپڈا سے استعفیٰ لیکر ظفر محمود کو نیا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔

فیصل رضا عابدی کا استعفیٰ منظور

سینیٹ کے اجلاس میں فیصل نے استعفیٰ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو پیش کیا جسے منظور کرلیا گیا ہے۔

تھری، فور جی نیلامی کے لیے چاروں کمپنیاں اہل قرار

دوسری جانب، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ذیلی کمیٹی نے پی ٹی اے اور حکومت کو نیلامی سے روک دیا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے