24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

پی پی، ایم کیو ایم بلدیاتی نظام کے فارمولے پر متفق

صدر زرداری بلاول ہاؤس میں ایم کیو ایم کے ساتھ میٹنگ کے دوران۔ پی پی آئی فوٹو

اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری کی مداخلت پر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے فارمولے پر متفق ہوگئے ہیں۔ جبکہ سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس دوہزار بارہ کا اجراء آج کی کسی بھی وقت متوقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس دوہزار بارہ کے نام سے تیار کیا جانے والا مسودہ تیار کیا جارہا ہے۔

نیا بلدیاتی نظام کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، لاڑکانہ اورسکھر میں نافذ العمل ہوگا۔

ایڈمنسٹریٹر کی تقرری سیاسی بنیادوں  پر ہوگی۔

کمشنر کے ساتھ ساتھ ڈویژن میں ڈی سی اوز بھی تعینات ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لوکل گورنمنٹ دوہزار کا نظام لوکل گورنمنٹ دوہزاردس کا ہی نئے نام سے اعادہ ہے۔

پیپلز پارٹی ار ایم کیو ایم میں اس نظام پر گذشتہ کئی سال سے اختلافات برقرار تھے جبکہ کسی متفقہ حل تک پہنچنے کیلیےدرجنوں اجلاس بھی ہوئے۔

تاہم حال ہی میں صدر زرداری کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کی تیاری کی ہدایت کے بعد اتحادیوں کانئے بلدیاتی نظام پر اتفاق ہوا اور اس کا اجراء آج ہی متوقع ہے۔

اس حصے سے مزید

وفاقی حکومت نے آزادی تقریبات کا اعلان کر دیا

تقریبات کا اعلان کرتے ہوئے سعد رفیق نے تحریک انصاف کے مارچ کے حوالے سے سوال کا جواب دینے سے معذرت کر لی۔

سرحدی دراندازی کے ہندوستانی الزامات مسترد

سیکریٹری سطح کے مذاکرات میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تمام معاملات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا، اعزاز چوہدری

افتخار چوہدری کا عمران خان کو ہتک عزت کا نوٹس

سابق چیف جسٹس نے نوٹس میں عمران خان کی جانب سے معافی نہ مانگنے کی صورت میں 20 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-