23 اگست, 2014 | 26 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

پی پی، ایم کیو ایم بلدیاتی نظام کے فارمولے پر متفق

صدر زرداری بلاول ہاؤس میں ایم کیو ایم کے ساتھ میٹنگ کے دوران۔ پی پی آئی فوٹو

اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری کی مداخلت پر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے فارمولے پر متفق ہوگئے ہیں۔ جبکہ سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس دوہزار بارہ کا اجراء آج کی کسی بھی وقت متوقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس دوہزار بارہ کے نام سے تیار کیا جانے والا مسودہ تیار کیا جارہا ہے۔

نیا بلدیاتی نظام کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، لاڑکانہ اورسکھر میں نافذ العمل ہوگا۔

ایڈمنسٹریٹر کی تقرری سیاسی بنیادوں  پر ہوگی۔

کمشنر کے ساتھ ساتھ ڈویژن میں ڈی سی اوز بھی تعینات ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لوکل گورنمنٹ دوہزار کا نظام لوکل گورنمنٹ دوہزاردس کا ہی نئے نام سے اعادہ ہے۔

پیپلز پارٹی ار ایم کیو ایم میں اس نظام پر گذشتہ کئی سال سے اختلافات برقرار تھے جبکہ کسی متفقہ حل تک پہنچنے کیلیےدرجنوں اجلاس بھی ہوئے۔

تاہم حال ہی میں صدر زرداری کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کی تیاری کی ہدایت کے بعد اتحادیوں کانئے بلدیاتی نظام پر اتفاق ہوا اور اس کا اجراء آج ہی متوقع ہے۔

اس حصے سے مزید

دسواں دن:تحریک انصاف اورحکومتی ٹیم میں مذاکرات ختم، ڈیڈلاک برقرار

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے باعث موجودہ سیاسی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔

عمران خان کا نواز شریف سے ایک ماہ کیلئے استعفی کا مطالبہ

پی ٹی آئی کے دھرنے سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف ایک ماہ کے لیے بھی کرسی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ایل او سی خلاف ورزی: ہندوستان کو ڈی جی ایم اوز کی ملاقات کی تجویز

قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا کہ اگر ہندوستان کے پاس سرحد پر دراندازی کے ثبوت ہیں تو پیش کرے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ڈرامے کی آخری قسط

اب اس آخری میلوڈرامہ کا جو بھی انجام ہو- اس نے پاکستانیوں کی آخری ہلکی سی امید کوبھی ریزہ ریزہ کردیا ہے-

پی ٹی آئی کی خالی دھمکیاں

جو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، وہ حقیقت سے دور ہیں۔ ایسا کوئی راستہ موجود نہیں، جس سے پارٹی اپنی ان دھمکیوں پر عمل کر سکے۔

بلاگ

سیاست میں شک کی گنجائش

شکوک کے ساتھ ساتھ ان افواہوں کو بھی تقویت مل رہی ہے کہ عمران خان اور طاہرالقادری اصل میں اسٹیبلشمنٹ کے مہرے ہیں۔

پکوان کہانی : شاہی قورمہ

جو اکبر اعظم کے شاہی باورچی خانے کی نگرانی میں راجپوت خانساماؤں کے تجربات کا نتیجہ ہے۔

دفاعی حکمت عملی کے نقصانات

مصباح کے دفاعی انداز کے اثرات ہمارے جارحانہ انداز رکھنے والے بیٹسمینوں پر بھی پڑے ہیں

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔