29 اگست, 2014 | 2 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'بلوچستان میں 426 افراد کی لاشیں ملیں'

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ۔ فوٹو آن لائن

اسلام آباد: بلوچستان حکومت نے صوبے میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے ایک رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی ہے۔

 منگل کے روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

 چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں جاری سماعت کے دوران کہا کہ بلوچستان میں چار سو چھبیس افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چھ ماہ کے دوران چھیالیس شیعہ مسلمان ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے جبکہ بیس سنی علماء بھی قتل کیے گیے۔

 انہوں نے نواب اکبربگٹی کے قتل کو پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی غلطی قرار دیا۔

 چیف جسٹس نے بلوچستان میں تبادلے منسوخ کروانے والے افسران کو ہر صورت صوبے آنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک ہفتے میں صوبائی حکومت کو رپورٹ کریں۔

 افتخار چوہدری کا کہنا تھا کہ گریڈ انیس پولیس افسران کو اس وقت تک گریڈ بیس میں ترقی نہیں دی جائے گی جب تک وہ کم از کم تین سال بلوچستان میں فرائض سر انجام نہیں دیتے۔

 ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ بگٹی کا مسئلہ حل ہونے تک بلوچستان میں امن و امان کا مسئلہ بر قرار رہے گا۔

 اس موقع پر اکبربگٹی کے بیٹے طلال بگٹی نے کہا کہ ایف سی کی موجودگی میں ڈیرہ بگٹی جانا خودکشی کے مترادف ہوگا۔

 چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک اٹارنی جنرل خود پیش نہیں ہوتے، وفاقی سیکرٹریز کو روزانہ بلائیں گے۔

 جسٹس افتخار نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر تمام متعلقہ سیکرٹریز حاضر ہوں۔

اس حصے سے مزید

آواران: فائرنگ سے چھ افراد ہلاک

حکام کے مطابق مسلح افراد نے ذکری فرقے سے تعلق والے افراد پر اس وقت فائرنگ کردی جب وہ ایک عبادت گاہ میں موجود تھے۔

کوئٹہ: دوصحافیوں سمیت تین افراد قتل

نیوز ایجنسی کے دفتر میں نامعلوم مسلح افراد داخل ہوئے اور بیورو،رپورٹر اور اکائونٹنٹ کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔

مستونگ: نیٹو ٹینکرز پر حملہ

پولیس کے مطابق مسلح افراد کی فائرنگ سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا تاہم آئل ٹینکرز میں آگ لگ گئی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت

حکومت نےکس قدر عجلت میں مذاکرات کا فیصلہ کیا، اس سے معاملات کے اوپر جی ایچ کیو کی گرفت کا اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے۔

بلاگ

عظیم مقاصد، پر راستہ؟

اس طوفان کے نتیجے میں ان چاہی افرا تفری پھیل سکتی ہے، اسلیے اچھے مقاصد کے لیے ایسے راستے اختیار نہیں کیے جانے چاہییں۔

انقلاب معافی چاہتا ہے

ڈی چوک وہ سیاسی چراغ ہے جس کو اگر ضدی شہزادے کافی حد تک رگڑ دیں تو کچھ پتا نہیں اس میں سے انقلاب کا جن نکل ہی آئے۔

پاکستان کی نوجوان نسل اور غیرت بریگیڈ

"فحاشی" ایک دماغی بیماری ہے جس کا شکار ذہن عورت کو گھر کی دہلیز سے باہر دیکھ کر شدید 'صدمے' کا شکار ہو جاتا ہے۔

ڈی چوک، گدھا اور نا تجربہ کار حجام

آپ کے لیڈر رہیں یا چلے جائیں، یا رسی سے گدھا بندھا ہو یا نہیں، لیکن کسی نا تجربہ کار شخص کو اپنی حجامت مت بنانے دیجئے گا