21 اپريل, 2014 | 20 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشا کیس: مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا مطالبہ

خالد جدون کو پولیس لے جاتے ہوئے۔ رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے پیر کے روز انٹیلیجنس ایجنسی کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے لیئے مطالبہ کردیا تاکہ عیسائی لڑکی کے خلاف توہین مذہب کیس کے حوالے سے پیش رفت ہوسکے۔

پاکستان بین العقائد لیگ کے چیئرمین ساجد ایساق کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر نے کہا کہ سچائی کو آگے لانا اور اصل مجرم کو پکڑنے کے لیئے مختلف انٹیلیجنس ایجنسیوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک تحقیقاتی ٹیم بنانی چاہیے تاکہ کسی کی بھی بےجا حمایت نہ کرتے ہوئے اس معاملے کی تہہ تک پہنچا جاسکے۔

اس کیس نے جمعے کے روز اس وقت ایک نیا موڑ لیا جب اس  مسجد کے مؤذن نے پولیس کی تحویل میں بیان دیا کہ مسجد کے امام خالد جدون چشتی نے قران کے اوراق عیسائی لڑکی رمشا کے خلاف اس کیس کو مضبوط بنانے کے لیئے خود ڈالے تھے۔

انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا کہ خالد جدون نے لوگوں کو مقامی پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کرنے پر اکسایا تھا۔

علامہ اشرفی نے سوال اٹھایا کہ کس طرف ایس ایچ او نے اس کیس کو چند لوگوں کے دباؤ میں آکر رجسٹر کیا جب کہ قانون کے تحت توہین مذہب کے کیس کو رجسٹر کرنے سے پہلے سپراینٹنڈنٹ اس کی چانچ پڑتال کرتا ہے۔

انہوں نے میڈیکل بورڈ کو بلانے کا مطالبہ کیا تاکہ رمشا کی دماغی حالت کا صحیح طریقے سے پتہ چل سکے۔

پاکستان بین العقائد لیگ کے چیئرمین نے کہا کہ ان کے تنظیم محر آباد کے عیسائیوں کو تحفط فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خالد جدون پر آگر جرم ثابت ہوجاتا ہے تو ان کو ان کے کیئے کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔

اس حصے سے مزید

سینیٹ کمیٹی یوٹیوب پابندی کے خلاف

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے یوٹیوب پر پابندی کے خلاف ایک قرارداد کو منظور کرلیا ہے۔

سابق چیئرمین پیمرا کا برطرفی کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

چوہدری رشید کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مؤکل کی برطرفی کے خلاف آج پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔

آئی ٹی کی وزارت آئی ٹی ماہرین کی متحمل نہیں

وزارت کے پاس آئی ٹی ماہرین کی تنخواہوں کے لیے فنڈز نہیں، چنانچہ اسکول ٹیچرز اور فاریسٹ اہلکاروں سے کام چلایا جارہا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

'اقبال اور 'تصور اقبال

اقبال کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جس کسی نے کلام اقبال سے جو نکالنا چاہا، اسے مل گیا

نریندر مودی اور نواز شریف ساتھ ساتھ

اگر بی جے پی حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو 1998 کی طرح آج بھی پاکستان میں نواز شریف کی ہی حکومت ہوگی۔

دنیاۓ صحافت: داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

ایک فوجی کی طرح صحافی کو بھی ہرگز اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، یہ سوچنا کہ یہ ہماری جنگ نہیں، سراسر حماقت ہے-

2 - پاکستان کی شہری تاریخ ... ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا

بھٹو حکومت کے ابتدائی سالوں میں قوم کا مزاج یکسر تبدیل ہو گیا تھا، کیونکہ ملک ایک نئے پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا-