24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشا کیس: مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا مطالبہ

خالد جدون کو پولیس لے جاتے ہوئے۔ رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے پیر کے روز انٹیلیجنس ایجنسی کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے لیئے مطالبہ کردیا تاکہ عیسائی لڑکی کے خلاف توہین مذہب کیس کے حوالے سے پیش رفت ہوسکے۔

پاکستان بین العقائد لیگ کے چیئرمین ساجد ایساق کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر نے کہا کہ سچائی کو آگے لانا اور اصل مجرم کو پکڑنے کے لیئے مختلف انٹیلیجنس ایجنسیوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک تحقیقاتی ٹیم بنانی چاہیے تاکہ کسی کی بھی بےجا حمایت نہ کرتے ہوئے اس معاملے کی تہہ تک پہنچا جاسکے۔

اس کیس نے جمعے کے روز اس وقت ایک نیا موڑ لیا جب اس  مسجد کے مؤذن نے پولیس کی تحویل میں بیان دیا کہ مسجد کے امام خالد جدون چشتی نے قران کے اوراق عیسائی لڑکی رمشا کے خلاف اس کیس کو مضبوط بنانے کے لیئے خود ڈالے تھے۔

انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا کہ خالد جدون نے لوگوں کو مقامی پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کرنے پر اکسایا تھا۔

علامہ اشرفی نے سوال اٹھایا کہ کس طرف ایس ایچ او نے اس کیس کو چند لوگوں کے دباؤ میں آکر رجسٹر کیا جب کہ قانون کے تحت توہین مذہب کے کیس کو رجسٹر کرنے سے پہلے سپراینٹنڈنٹ اس کی چانچ پڑتال کرتا ہے۔

انہوں نے میڈیکل بورڈ کو بلانے کا مطالبہ کیا تاکہ رمشا کی دماغی حالت کا صحیح طریقے سے پتہ چل سکے۔

پاکستان بین العقائد لیگ کے چیئرمین نے کہا کہ ان کے تنظیم محر آباد کے عیسائیوں کو تحفط فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خالد جدون پر آگر جرم ثابت ہوجاتا ہے تو ان کو ان کے کیئے کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔

اس حصے سے مزید

پی آئی اے میں صرف انیس طیارے پرواز کے قابل

اس بات کا انکشاف پی آئی اے کے چیئرمین محمد علی گردیزی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو ایک بریفننگ میں کیا۔

زرداری-بائیڈن ملاقات میں اہم معاملات پر گفتگو

اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں نے وزیرستان آپریشن، پاک-امریکا تعلقات اور افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

کسی جنرل سے رابطہ نہیں ہے،طاہر القادری

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہم فوج کو دعوت نہیں دے رہے، ملک میں مارشل لاء نہیں لگے گا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-