01 اکتوبر, 2014 | 5 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشا کیس: مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا مطالبہ

خالد جدون کو پولیس لے جاتے ہوئے۔ رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے پیر کے روز انٹیلیجنس ایجنسی کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے لیئے مطالبہ کردیا تاکہ عیسائی لڑکی کے خلاف توہین مذہب کیس کے حوالے سے پیش رفت ہوسکے۔

پاکستان بین العقائد لیگ کے چیئرمین ساجد ایساق کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر نے کہا کہ سچائی کو آگے لانا اور اصل مجرم کو پکڑنے کے لیئے مختلف انٹیلیجنس ایجنسیوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک تحقیقاتی ٹیم بنانی چاہیے تاکہ کسی کی بھی بےجا حمایت نہ کرتے ہوئے اس معاملے کی تہہ تک پہنچا جاسکے۔

اس کیس نے جمعے کے روز اس وقت ایک نیا موڑ لیا جب اس  مسجد کے مؤذن نے پولیس کی تحویل میں بیان دیا کہ مسجد کے امام خالد جدون چشتی نے قران کے اوراق عیسائی لڑکی رمشا کے خلاف اس کیس کو مضبوط بنانے کے لیئے خود ڈالے تھے۔

انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا کہ خالد جدون نے لوگوں کو مقامی پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کرنے پر اکسایا تھا۔

علامہ اشرفی نے سوال اٹھایا کہ کس طرف ایس ایچ او نے اس کیس کو چند لوگوں کے دباؤ میں آکر رجسٹر کیا جب کہ قانون کے تحت توہین مذہب کے کیس کو رجسٹر کرنے سے پہلے سپراینٹنڈنٹ اس کی چانچ پڑتال کرتا ہے۔

انہوں نے میڈیکل بورڈ کو بلانے کا مطالبہ کیا تاکہ رمشا کی دماغی حالت کا صحیح طریقے سے پتہ چل سکے۔

پاکستان بین العقائد لیگ کے چیئرمین نے کہا کہ ان کے تنظیم محر آباد کے عیسائیوں کو تحفط فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خالد جدون پر آگر جرم ثابت ہوجاتا ہے تو ان کو ان کے کیئے کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔

اس حصے سے مزید

عیدالاضحیٰ پر تین روزہ تعطیلات کا اعلان

وزراتِ داخلہ کے مطابق چھ سے آٹھ اکتوبر تک تعطیلات کے دوران تمام سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اور دفاتر بند رہیں گے۔

'ڈنڈنے کے زور پر مڈٹرم انتخابات کی حمایت نہیں کی جاسکتی'

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا پی ٹی آئی کی جانب سے چار حلقے کھولنے کے مطابات پر بروقت عمدرآمد ہونا چاہیے تھا۔

آخر کیا پایا؟ 'انقلاب' کی خواہش لیے دھرنے والوں کی واپسی

پی اے ٹی کے کارکنان دھرنے سے گھر واپسی پر جہاں خوش ہیں، وہیں یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ آخر انہوں نے کیا حاصل کیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

فائرنگ کی زد میں

پولیس کی قیادت کو ادراک ہوا ہے کہ اسے صاحب اختیار لوگوں کے غیر قانونی مطالبات کو نا کہنے کی ہمت دکھانے کی ضرورت ہے.

پالیسی سازی کا فن

پنجاب میں باربارآنے والے سیلاب نے فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کے درمیان خلا کو بےنقاب کردیا ہے۔

بلاگ

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟

مووی ریویو: دی پرنس — انسپائر کرنے میں ناکام

مجموعی طور پر روبوٹ جیسی پرفارمنسز اور کمزور پلاٹ کی وجہ سے یہ فلم ناظرین کی دلچسپی قائم رکھنے میں ناکام رہی-

مخلص سیاستدانوں کے سچے بیانات

جب سے دھرنے جاری ہیں، تب سے ہم نے سیاستدانوں سے طرح طرح کی باتیں سنی ہیں جن میں سے کچھ پیش خدمت ہیں۔