23 ستمبر, 2014 | 27 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشا کیس: مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا مطالبہ

خالد جدون کو پولیس لے جاتے ہوئے۔ رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے پیر کے روز انٹیلیجنس ایجنسی کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے لیئے مطالبہ کردیا تاکہ عیسائی لڑکی کے خلاف توہین مذہب کیس کے حوالے سے پیش رفت ہوسکے۔

پاکستان بین العقائد لیگ کے چیئرمین ساجد ایساق کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر نے کہا کہ سچائی کو آگے لانا اور اصل مجرم کو پکڑنے کے لیئے مختلف انٹیلیجنس ایجنسیوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک تحقیقاتی ٹیم بنانی چاہیے تاکہ کسی کی بھی بےجا حمایت نہ کرتے ہوئے اس معاملے کی تہہ تک پہنچا جاسکے۔

اس کیس نے جمعے کے روز اس وقت ایک نیا موڑ لیا جب اس  مسجد کے مؤذن نے پولیس کی تحویل میں بیان دیا کہ مسجد کے امام خالد جدون چشتی نے قران کے اوراق عیسائی لڑکی رمشا کے خلاف اس کیس کو مضبوط بنانے کے لیئے خود ڈالے تھے۔

انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا کہ خالد جدون نے لوگوں کو مقامی پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کرنے پر اکسایا تھا۔

علامہ اشرفی نے سوال اٹھایا کہ کس طرف ایس ایچ او نے اس کیس کو چند لوگوں کے دباؤ میں آکر رجسٹر کیا جب کہ قانون کے تحت توہین مذہب کے کیس کو رجسٹر کرنے سے پہلے سپراینٹنڈنٹ اس کی چانچ پڑتال کرتا ہے۔

انہوں نے میڈیکل بورڈ کو بلانے کا مطالبہ کیا تاکہ رمشا کی دماغی حالت کا صحیح طریقے سے پتہ چل سکے۔

پاکستان بین العقائد لیگ کے چیئرمین نے کہا کہ ان کے تنظیم محر آباد کے عیسائیوں کو تحفط فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خالد جدون پر آگر جرم ثابت ہوجاتا ہے تو ان کو ان کے کیئے کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔

اس حصے سے مزید

طاہر القادری کا دھرنے کے شرکاءکو واپسی کی اجازت دینے سے انکار

طاہر القادری نے پیر کو دھرنے میں شریک اپنے حامیوں کو گھر واپسی کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

الیکشن کمیشن نے انتخابی خامیوں کا ذمہ دار آر اوز کو قرار دے دیا

آر اوز قانونی طور پر پولنگ اسٹیشنز کو منتخب کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں مگر انہوں نے یہ ٹاسک خود مکمل نہیں کیا۔

حکومت کو پولیو ایمرجنسی سینٹر قائم کرنے کی جلدی

ایسا نظر آتا ہے کہ اس مرکز کا قیام انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ بورڈکو مطمین کرنے کے لیے عمل میں لایا جارہا ہے ۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-