03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

گندھا را نوادرات اصلی نکلے

۔ — اے ایف پی فوٹو

کراچی: ماہرینِ آثار قدیمہ کی ایک ٹیم نے تحقیقات کے بعد اپنی حتمی رپورٹ تیار کرلی ہے۔جس کے مطابق دو ماہ قبل کراچی سے برآمد کیے گئے گندھارا آرٹ کے تمام نوادرات نقلی نہیں۔

نوادرات کی حقیقت پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ سندھ کے محکمہ آثارِ قدیمہ نے تیار کی ہے۔

محکمہ آثارِ قدیمہ سندھ کے ڈائریکٹر قاسم علی جان نے 'ڈان' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'برآمد کیے گئے گندھارا آرٹ کے تین سو پچانوے میں سے کم ازکم ایک سو، سولہ تحقیق کے بعد اصلی نوادرات پائے گئے۔ ' ان کا مزید کہنا تھا کہ' ان میں سے بعض نوادرات کی قدامت دو ہزار سال سے زیادہ ہے اور عالمی مارکیٹ میں ان کی قیمت اربوں روپے میں ہے۔ ' قاسم جان کا مزید کہنا تھا کہ اصلی پائے گئے نوادرات میں سے بھہتر دھات سے جب کہ بقایا پتھر سے تیار کردہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسمگلروں سے تحویل میں لیے گئے بقایادو سو چونتیس نوادرات نقلی ہیں لیکن پھر بھی وہ 'آرٹ ویلیو' کے حامل ہیں۔

کراچی سے پولیس تحویل میں لیے گئے نوادرات 'کیس پراپرٹی' ہیں اور ان کی تحویل کا معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ قاسم جان کے مطابق جب تک عدالت سے فیصلہ نہیں ہوجاتا، تب تک یہ نوادرات کراچی میوزیم میں ہی رہیں گے۔

قاسم جاننے بتایا کہ اصلی نوادرات کو میوزیم میں رکھا جائے گا تاہم نقلی نمونے صوبے کے مختلف تعلیمی اداروں کوعطیہ کردیے جائیں گے۔

اُن کا کہنا تھا نوادرات کی نقل بنانے میں نہایت ماہرانہ ہُنر کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بطور سووینئر ہم خود بھی نوادرات کی نقل تیار کرتے ہیں۔ جس کا مقصد ان کا تعلیم یا بطور یادگار استعمال ہے۔

جب محکمہ آثار قدیمہ سندھ کے ڈائریکٹر کی توجہ تحویل میں لیے گئے نوادرات کی عوامی کالونی پولیس اسٹیشن سے چوری کی ایک خبر کی طرف دلائی گئی تو اُن کا کہنا تھا 'یہ ممکن ہے مگر ہم نے پولیس تحویل سے ریکارڈ کے مطابق تمام نوادرات تحویل میں لے لیے تھے۔ ' واضح رہے کہ بیس جولائی کو روزنامہ ڈان میں نادر نمونہ کی چوری کی ایک خبر شائع ہوئی تھی۔ تفصیلات کے مطابق ایک شخص نے متعلقہ رپورٹر سے ڈان کے دفتر میں ملاقات کرکے اسے ایک سنگی سر دکھایا تھا۔

شناخت خفیہ رکھنے والے شخص کا دعویٰ تھا کہ اس نے یہ نمونہ اُن گندھارا نوادرات سے چوری کیا ہے جو پولیس تحویل میں، عوامی تھانے میں رکھے گئے ہیں۔

گندھارا آرٹ کے برآمد ہونے والے ان نمونوں کی تحویل اب تک خیبر پختونخواہ اور سندھ حکومت کے درمیان تنازع بنی ہوئی ہے۔

خیبر پختوانخواہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ نوادرات ان کے صوبے سے اسمگل ہوئے، لہٰذا یہ ان کی تحویل میں دیے جائیں۔

سندھ حکومت کا موقف ہے کہ یہ نوادرات ان کی حدود سے برآمد ہوئے، اس لیے انہیں اسے اپنی تحویل میں رکھنے کا حق حاصل ہے۔

علاوہ ازیں، رواں سال جولائی میں کراچی کے صنعتی علاقے سے، ایک  ٹرک پر لدے نوادرات کی برآمدگی کے بعد پولیس نے جن افراد کو اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا، انہیں عدالت سے ضمانت مل چکی ہیں۔

اس حصے سے مزید

حیدر آباد: عمارت گرنے سے 13 افراد ہلاک، متعدد زخمی

چوڑی پاڑہ میں گرنے والی تین منزلہ عمارت کے ملبے تلے دب کر مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

قحط کا شکار تھر، لوگ غربت کے باعث خودکشی کر رہے ہیں

محض سات مہینوں کے اندر تھرپارکر ضلع میں اکتیس افراد غربت کے باعث موت کو گلے لگا چکے ہیں۔

وزیراعظم، وزیرداخلہ کی نااہلی کے لیے درخواست دائر

سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نواز شریف کو آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نااہل قرار دیا جائے


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔