23 ستمبر, 2014 | 27 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

گندھا را نوادرات اصلی نکلے

۔ — اے ایف پی فوٹو

کراچی: ماہرینِ آثار قدیمہ کی ایک ٹیم نے تحقیقات کے بعد اپنی حتمی رپورٹ تیار کرلی ہے۔جس کے مطابق دو ماہ قبل کراچی سے برآمد کیے گئے گندھارا آرٹ کے تمام نوادرات نقلی نہیں۔

نوادرات کی حقیقت پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ سندھ کے محکمہ آثارِ قدیمہ نے تیار کی ہے۔

محکمہ آثارِ قدیمہ سندھ کے ڈائریکٹر قاسم علی جان نے 'ڈان' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'برآمد کیے گئے گندھارا آرٹ کے تین سو پچانوے میں سے کم ازکم ایک سو، سولہ تحقیق کے بعد اصلی نوادرات پائے گئے۔ ' ان کا مزید کہنا تھا کہ' ان میں سے بعض نوادرات کی قدامت دو ہزار سال سے زیادہ ہے اور عالمی مارکیٹ میں ان کی قیمت اربوں روپے میں ہے۔ ' قاسم جان کا مزید کہنا تھا کہ اصلی پائے گئے نوادرات میں سے بھہتر دھات سے جب کہ بقایا پتھر سے تیار کردہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسمگلروں سے تحویل میں لیے گئے بقایادو سو چونتیس نوادرات نقلی ہیں لیکن پھر بھی وہ 'آرٹ ویلیو' کے حامل ہیں۔

کراچی سے پولیس تحویل میں لیے گئے نوادرات 'کیس پراپرٹی' ہیں اور ان کی تحویل کا معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ قاسم جان کے مطابق جب تک عدالت سے فیصلہ نہیں ہوجاتا، تب تک یہ نوادرات کراچی میوزیم میں ہی رہیں گے۔

قاسم جاننے بتایا کہ اصلی نوادرات کو میوزیم میں رکھا جائے گا تاہم نقلی نمونے صوبے کے مختلف تعلیمی اداروں کوعطیہ کردیے جائیں گے۔

اُن کا کہنا تھا نوادرات کی نقل بنانے میں نہایت ماہرانہ ہُنر کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بطور سووینئر ہم خود بھی نوادرات کی نقل تیار کرتے ہیں۔ جس کا مقصد ان کا تعلیم یا بطور یادگار استعمال ہے۔

جب محکمہ آثار قدیمہ سندھ کے ڈائریکٹر کی توجہ تحویل میں لیے گئے نوادرات کی عوامی کالونی پولیس اسٹیشن سے چوری کی ایک خبر کی طرف دلائی گئی تو اُن کا کہنا تھا 'یہ ممکن ہے مگر ہم نے پولیس تحویل سے ریکارڈ کے مطابق تمام نوادرات تحویل میں لے لیے تھے۔ ' واضح رہے کہ بیس جولائی کو روزنامہ ڈان میں نادر نمونہ کی چوری کی ایک خبر شائع ہوئی تھی۔ تفصیلات کے مطابق ایک شخص نے متعلقہ رپورٹر سے ڈان کے دفتر میں ملاقات کرکے اسے ایک سنگی سر دکھایا تھا۔

شناخت خفیہ رکھنے والے شخص کا دعویٰ تھا کہ اس نے یہ نمونہ اُن گندھارا نوادرات سے چوری کیا ہے جو پولیس تحویل میں، عوامی تھانے میں رکھے گئے ہیں۔

گندھارا آرٹ کے برآمد ہونے والے ان نمونوں کی تحویل اب تک خیبر پختونخواہ اور سندھ حکومت کے درمیان تنازع بنی ہوئی ہے۔

خیبر پختوانخواہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ نوادرات ان کے صوبے سے اسمگل ہوئے، لہٰذا یہ ان کی تحویل میں دیے جائیں۔

سندھ حکومت کا موقف ہے کہ یہ نوادرات ان کی حدود سے برآمد ہوئے، اس لیے انہیں اسے اپنی تحویل میں رکھنے کا حق حاصل ہے۔

علاوہ ازیں، رواں سال جولائی میں کراچی کے صنعتی علاقے سے، ایک  ٹرک پر لدے نوادرات کی برآمدگی کے بعد پولیس نے جن افراد کو اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا، انہیں عدالت سے ضمانت مل چکی ہیں۔

اس حصے سے مزید

دو سال کے لیے ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم کی جائے، الطاف حسین

لندن میں گورنر پنجاب کے ساتھ ملاقات کے دوران متحدہ کے قائد نے کہا کہ ثالثی کے لیے چوہدری سرور مناسب شخصیت ہیں۔

پیپلزپارٹی ایم پی اے کا گن پوائنٹ پر استعفی لینے کا الزام

پروین جونیجو نے گزشتہ برس کے عام انتخابات میں دادو سے پی ایس 76 سے کامیابی حاصل کی تھی۔

خواتین پولیس کیلیے ہزار بلٹ پروف جیکٹس کی امریکی امداد

امریکی حکومت کی جانب سے سندھ پولیس کو دی گئی امداد میں چھ گاڑیاں، ایک ہزار بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ بھی شامل ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-