28 جولائ, 2014 | 29 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

گندھا را نوادرات اصلی نکلے

۔ — اے ایف پی فوٹو

کراچی: ماہرینِ آثار قدیمہ کی ایک ٹیم نے تحقیقات کے بعد اپنی حتمی رپورٹ تیار کرلی ہے۔جس کے مطابق دو ماہ قبل کراچی سے برآمد کیے گئے گندھارا آرٹ کے تمام نوادرات نقلی نہیں۔

نوادرات کی حقیقت پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ سندھ کے محکمہ آثارِ قدیمہ نے تیار کی ہے۔

محکمہ آثارِ قدیمہ سندھ کے ڈائریکٹر قاسم علی جان نے 'ڈان' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'برآمد کیے گئے گندھارا آرٹ کے تین سو پچانوے میں سے کم ازکم ایک سو، سولہ تحقیق کے بعد اصلی نوادرات پائے گئے۔ ' ان کا مزید کہنا تھا کہ' ان میں سے بعض نوادرات کی قدامت دو ہزار سال سے زیادہ ہے اور عالمی مارکیٹ میں ان کی قیمت اربوں روپے میں ہے۔ ' قاسم جان کا مزید کہنا تھا کہ اصلی پائے گئے نوادرات میں سے بھہتر دھات سے جب کہ بقایا پتھر سے تیار کردہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسمگلروں سے تحویل میں لیے گئے بقایادو سو چونتیس نوادرات نقلی ہیں لیکن پھر بھی وہ 'آرٹ ویلیو' کے حامل ہیں۔

کراچی سے پولیس تحویل میں لیے گئے نوادرات 'کیس پراپرٹی' ہیں اور ان کی تحویل کا معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ قاسم جان کے مطابق جب تک عدالت سے فیصلہ نہیں ہوجاتا، تب تک یہ نوادرات کراچی میوزیم میں ہی رہیں گے۔

قاسم جاننے بتایا کہ اصلی نوادرات کو میوزیم میں رکھا جائے گا تاہم نقلی نمونے صوبے کے مختلف تعلیمی اداروں کوعطیہ کردیے جائیں گے۔

اُن کا کہنا تھا نوادرات کی نقل بنانے میں نہایت ماہرانہ ہُنر کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بطور سووینئر ہم خود بھی نوادرات کی نقل تیار کرتے ہیں۔ جس کا مقصد ان کا تعلیم یا بطور یادگار استعمال ہے۔

جب محکمہ آثار قدیمہ سندھ کے ڈائریکٹر کی توجہ تحویل میں لیے گئے نوادرات کی عوامی کالونی پولیس اسٹیشن سے چوری کی ایک خبر کی طرف دلائی گئی تو اُن کا کہنا تھا 'یہ ممکن ہے مگر ہم نے پولیس تحویل سے ریکارڈ کے مطابق تمام نوادرات تحویل میں لے لیے تھے۔ ' واضح رہے کہ بیس جولائی کو روزنامہ ڈان میں نادر نمونہ کی چوری کی ایک خبر شائع ہوئی تھی۔ تفصیلات کے مطابق ایک شخص نے متعلقہ رپورٹر سے ڈان کے دفتر میں ملاقات کرکے اسے ایک سنگی سر دکھایا تھا۔

شناخت خفیہ رکھنے والے شخص کا دعویٰ تھا کہ اس نے یہ نمونہ اُن گندھارا نوادرات سے چوری کیا ہے جو پولیس تحویل میں، عوامی تھانے میں رکھے گئے ہیں۔

گندھارا آرٹ کے برآمد ہونے والے ان نمونوں کی تحویل اب تک خیبر پختونخواہ اور سندھ حکومت کے درمیان تنازع بنی ہوئی ہے۔

خیبر پختوانخواہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ نوادرات ان کے صوبے سے اسمگل ہوئے، لہٰذا یہ ان کی تحویل میں دیے جائیں۔

سندھ حکومت کا موقف ہے کہ یہ نوادرات ان کی حدود سے برآمد ہوئے، اس لیے انہیں اسے اپنی تحویل میں رکھنے کا حق حاصل ہے۔

علاوہ ازیں، رواں سال جولائی میں کراچی کے صنعتی علاقے سے، ایک  ٹرک پر لدے نوادرات کی برآمدگی کے بعد پولیس نے جن افراد کو اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا، انہیں عدالت سے ضمانت مل چکی ہیں۔

اس حصے سے مزید

کراچی: لیاقت علی خان کے بیٹے انتقال کر گئے

اشرف علی خان اپنے والد کی وفات کے وقت محض 14 برس کے تھے، اُن کو کراچی میں سپرد خاک کیا جا ئے گا۔

کراچی: جمشید ٹاؤن تھانے کے قریب بم ناکارہ بنا دیا گیا

حکام کا کہنا ہے کہ پانچ کلو وزنی دھماکا خیز مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا، جسے ناکارہ بنایا دیا گیا۔

کراچی میں ایک ہفتہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی

کراچی الیکٹرک کے جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کے ای نے صارفین کے لیے عید پیکج کا اعلان کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔