31 اگست, 2014 | 4 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

گندھا را نوادرات اصلی نکلے

۔ — اے ایف پی فوٹو

کراچی: ماہرینِ آثار قدیمہ کی ایک ٹیم نے تحقیقات کے بعد اپنی حتمی رپورٹ تیار کرلی ہے۔جس کے مطابق دو ماہ قبل کراچی سے برآمد کیے گئے گندھارا آرٹ کے تمام نوادرات نقلی نہیں۔

نوادرات کی حقیقت پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ سندھ کے محکمہ آثارِ قدیمہ نے تیار کی ہے۔

محکمہ آثارِ قدیمہ سندھ کے ڈائریکٹر قاسم علی جان نے 'ڈان' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'برآمد کیے گئے گندھارا آرٹ کے تین سو پچانوے میں سے کم ازکم ایک سو، سولہ تحقیق کے بعد اصلی نوادرات پائے گئے۔ ' ان کا مزید کہنا تھا کہ' ان میں سے بعض نوادرات کی قدامت دو ہزار سال سے زیادہ ہے اور عالمی مارکیٹ میں ان کی قیمت اربوں روپے میں ہے۔ ' قاسم جان کا مزید کہنا تھا کہ اصلی پائے گئے نوادرات میں سے بھہتر دھات سے جب کہ بقایا پتھر سے تیار کردہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسمگلروں سے تحویل میں لیے گئے بقایادو سو چونتیس نوادرات نقلی ہیں لیکن پھر بھی وہ 'آرٹ ویلیو' کے حامل ہیں۔

کراچی سے پولیس تحویل میں لیے گئے نوادرات 'کیس پراپرٹی' ہیں اور ان کی تحویل کا معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ قاسم جان کے مطابق جب تک عدالت سے فیصلہ نہیں ہوجاتا، تب تک یہ نوادرات کراچی میوزیم میں ہی رہیں گے۔

قاسم جاننے بتایا کہ اصلی نوادرات کو میوزیم میں رکھا جائے گا تاہم نقلی نمونے صوبے کے مختلف تعلیمی اداروں کوعطیہ کردیے جائیں گے۔

اُن کا کہنا تھا نوادرات کی نقل بنانے میں نہایت ماہرانہ ہُنر کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بطور سووینئر ہم خود بھی نوادرات کی نقل تیار کرتے ہیں۔ جس کا مقصد ان کا تعلیم یا بطور یادگار استعمال ہے۔

جب محکمہ آثار قدیمہ سندھ کے ڈائریکٹر کی توجہ تحویل میں لیے گئے نوادرات کی عوامی کالونی پولیس اسٹیشن سے چوری کی ایک خبر کی طرف دلائی گئی تو اُن کا کہنا تھا 'یہ ممکن ہے مگر ہم نے پولیس تحویل سے ریکارڈ کے مطابق تمام نوادرات تحویل میں لے لیے تھے۔ ' واضح رہے کہ بیس جولائی کو روزنامہ ڈان میں نادر نمونہ کی چوری کی ایک خبر شائع ہوئی تھی۔ تفصیلات کے مطابق ایک شخص نے متعلقہ رپورٹر سے ڈان کے دفتر میں ملاقات کرکے اسے ایک سنگی سر دکھایا تھا۔

شناخت خفیہ رکھنے والے شخص کا دعویٰ تھا کہ اس نے یہ نمونہ اُن گندھارا نوادرات سے چوری کیا ہے جو پولیس تحویل میں، عوامی تھانے میں رکھے گئے ہیں۔

گندھارا آرٹ کے برآمد ہونے والے ان نمونوں کی تحویل اب تک خیبر پختونخواہ اور سندھ حکومت کے درمیان تنازع بنی ہوئی ہے۔

خیبر پختوانخواہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ نوادرات ان کے صوبے سے اسمگل ہوئے، لہٰذا یہ ان کی تحویل میں دیے جائیں۔

سندھ حکومت کا موقف ہے کہ یہ نوادرات ان کی حدود سے برآمد ہوئے، اس لیے انہیں اسے اپنی تحویل میں رکھنے کا حق حاصل ہے۔

علاوہ ازیں، رواں سال جولائی میں کراچی کے صنعتی علاقے سے، ایک  ٹرک پر لدے نوادرات کی برآمدگی کے بعد پولیس نے جن افراد کو اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا، انہیں عدالت سے ضمانت مل چکی ہیں۔

اس حصے سے مزید

مفاہمتی عمل پارلیمنٹ کے ذریعے ہونا چاہیے، خورشید شاہ

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے کہا ہے کہ دھرنے والوں کوجمہوریت اورآئین سے پیارنہیں، عوام ہر کسی کا کردار دیکھ لیں۔

الطاف حسین کا بھی ٹیکنو کریٹ حکومت بنانے کا مطالبہ

ایم کیوایم کےقائد نےمطالبہ کرتےہوئے کہاہےکہ آئینی طریقہ ہے تو ٹھیک ہے ورنہ غیرآئینی طریقہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

حکومت مظاہرین کے مطالبات پر سنجیدگی سے توجہ دے: رابطہ کمیٹی

رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ اسلام آباد میں احتجاج کرنے والی جماعتوں کے مطالبات پر توجہ دے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ملکی مسائل سے غیر آہنگ حکومتی پالیسیاں

کیا یہ بات سمجھ آنے والی نہیں کہ میگا پروجیکٹس پر اٹھنے والے پیسے سے پہلے توانائی کے مسئلے کو حل کر لیا جائے؟

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

بلاگ

پکوانی کہانی- سندھی بریانی

ہر قسم کی بریانیوں میں سے یہ بریانی منفرد حیثیت رکھتی ہے جو سندھی طریقے سے بہت زیادہ مصالحوں کے ساتھ تیار ہوتی ہے۔

‫ڈرامہ ریویو: وہ۔۔۔ دوبارہ (خوف و دہشت کا احساس)

انسان چاہے بد روحوں سے جتنا بھی ڈرے مگر ان پر بنی فلموں یا ڈراموں کو دیکھنے کا شوق پھر بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔

تھری ڈی پرنٹنگ پر کچھ سوالات

کچھ کیسز ضرور ہوں گے جن میں تھری ڈی پرنٹنگ کو کاپی رائیٹ مواد کی غیر قانونی نقل تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پانی کی کمی اور پاکستان کا مستقبل

وزرات منصوبہ بندی کے مطابق پاکستان کی پانی ذخیرہ کی صلاحیت صرف نو فیصد ہے جبکہ دنیا بھر میں یہ شرح چالیس فیصد ہے۔