26 جولائ, 2014 | 27 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے

شیعہ ہلاکتوں پر پورا ملک حیران اور پریشان ہے لیکن مجھے اس سے زیادہ حیرانگی ہمارے سیاستدانوں کی خاموشی پر ہے۔

چھوٹے چھوٹے مسائل پر تفصیلی گفتگو کے لیے جہاں سارے حکمراں تیار رہتے ہیں وہیں اس گمبھیر مسئلے پر سب خاموش ہیں۔

اگرچہ، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ان ہلاکتوں کے خلاف آواز آٹھائی لیکن باقی سیاست دان خاموش تماشائی بنے رہے۔

بالاخر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی اس سلسلے پر اپنی آواز اٹھا لی ہےاور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ عمران خان بڑے خواب دکھاتے رہتے ہیں اور ان کی پالیسی کی کوئی درست سمت نہیں دکھائی دیتی۔

بہرحال اس بات کا تو انہیں داد دینی چاہیے کہ انہوں نے معاملے کی سنگینی کو سمجھا اور اس پرکارروائی کی اپیل کی۔

ان کی اس اپیل کے کیا اثرات ہوں گے یہ بعد میں دیکھا جائے گا لیکن فی الحال یہ ایک قابل تحسین شروعات ہے کہ کسی سیاستدان نے بھی شیعہ ہلاکتوں پر آواز اٹھائی۔

یہ حملے کسی مشہور شخصیت یا حکمران کے خلاف نہیں بلکہ ان میں عام آدمی نشانہ بن رہے ہیں – شیعہ عام آدمی، جس کے نصیب میں تحفظ نہیں ہے اور نہ ہی جس کی جان پی پی پی کی حکومت کو قیمتی لگتی ہے۔ ہماری حکومت کے لیے تو ووٹ لے کر پیسے بنانے کا دھندہ ہی اصل کام ہے۔

اسکردو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران نے ان ہلاکتوں کو بدترین سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی خاموشی انتہائی افسوس ناک ہے اور اگر وہ عوام کو تحفظ دینے میں ناکام  ہو گئی ہے تو اسے گھر چلے جانا چاہیے۔

لیکن اب تک ہمیں یہ احساس تو ہو گیا ہے کہ یہ حکومت بڑی ڈھیٹ ہے۔

شیعہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی دکھانا خان کی طرف سے ایک بہت اہم قدم تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ خان کو یہ احساس بھی ہونا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو 'امریکہ کی جنگ' قرار دینے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔

یہ قتل و غارت بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں ہو رہی ہے جہاں ہمارے سیکورٹی اداروں کا مکمل کنٹرول ہے۔

اس جنگ کو امریکہ کی جنگ کہنے کے بجائے اب فوری کارروائی ہی جانیں بچا سکتی ہے۔

انصاف کے لیے اس آواز میں مزید شدت اسی وقت آ سکتی ہے اگر باقی حکمران عمران خان کا ساتھ دیں اور اہل تشیع کے خلاف ظلم کو روکنے کیلیے آواز اٹھائیں۔

تو کیا ہوا اگر دوسرے معاملات پر یہ سیاسی جماعتیں اتفاق نہیں کرتیں، عام آدمی کی حفاظت پر اتفاق کرنا تو ان کا فرض ہے۔

عدلیہ کا اب یہ کام ہے کہ وہ ان ہلاکتوں پر فوری توجہ دے اور چیف جسٹس اس ظلم کے خلاف اپنا پسندیدہ قسم کا نوٹس لیں۔

جہاں حکمران ناکام رہے، وہیں عدلیہ کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ اس ملک میں سب کو ان کا حق دلوائے۔


شائمہ سجاد ڈان ۔ کام کی ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے بند ہیں.

تبصرے (12)

Syed
04 ستمبر, 2012 13:54
خان صاحب۔۔۔ الیکشن قریب ہیں، آپ کو بھی سُوموٹو کی یاد آ گئی ہے۔۔۔ اُدھر کراچی کے ایک بھائی بھی آج کل بہت شیعہ، شیعہ بولتے نظر آ رہے ہیں۔۔۔
حسن امام
04 ستمبر, 2012 19:15
کیا ایک قران، ایک رسول، ایک اللھ سب کا ان پر ایمان، پھر بھی قاتل اور مقتول برابر؟ بنیادی حققوق کے خلاف سپرم کورٹ کا ایکشن کہاں ہے ؟
Asif
05 ستمبر, 2012 05:30
ایک طرف تو ہمارے وہ لوگ ہیں جو پاکستان کے ساتھ عید منانے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اس معاملے میں سعودی بادشاہوں کی پیروی کرتے ہیں چاہے اس ملک میں چاند کا اعلان کیا جائے یا نہیں۔ یہ کتنا غلط طرز عمل ہے کہ ایک ملک کی سرحدوں میں رہتے ہوے دوسرے ملک کے نجی فیصلوں کو اپنا قبلہ اور کعبہ بنا لیا جائے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو پاکستان میں رہتے ہوئے امام خمینی کی تصویر کو سینے سے لگائے ہوئے یوم القدس کے جلوس نکالتے ہیں۔ انھوں نے بھی وہی طرز عمل اپنایا ہوا ہے جو پہلے گروہ نے اپنایا تھا۔ اگر پاکستان میں رہتے ہوئے سعودی عرب کو اپنا حاکم بنانا غلط ہے تو اسی طرح پاکستان میں رہتے ہوئے ایران کو اپنا حاکم بنانا بھی غلط قرار دیا جائے گا۔ اب اس ملک میں مذہبی چودہریوں سے جان نہیں چھوٹنے والی۔ چاہے وہ سنی ہوں یا شیعہ کیونکہ عام آدمی نے ان مذہبی چوہدریوں کو اپنا خدا بنا لیا ہے۔ ریاست کا تصور ہر آدمی کے ذہن میں واضح ہونا چاہیے اور ایک ریاست میں رہتے ہوئے دوسری ریاست کے فیصلوں پر عمل درآمد کرنے کے کیا معنی ہیں یہ کبھی بھی مذہبی چوہدری عام عوام کے لیے واضح نہیں کریں گے۔
محمد اجمل خان
05 ستمبر, 2012 16:00
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے کے عنوان سے شائمہ سجاد کی تحریر دیکھ کر ایسا لگا جیسے وہ کسی ایک فرقے کی نمائندگی کر رہی ہیں، ملک میں شعیہ ہلاک ہو یا سنی یا کسی اور فرقے کا شخص انسانی جان سب کے لیے محترم ہونی چاہیے۔ اب مسئلہ نہ عدالت کا ہے نہ حکومت کا۔ کیا ہم تصور کر سکتے ہیں ایک شخص قتل ہواورذمے دار نہ پکڑا جائے، ایک شخص کا گھرلوٹ لیا جائے اور مجرم دندناتے پھریں۔ رہزن اور لٹیرے سر راہ عام افراد کو لوٹتے رہیں اور کوئی کچھ نہ کہے ۔ہم کہاں جا رہے ہیں؟ سیاستدان عوام کے ووٹوں اور ٹیکسوں پر ہی پلتے ہیں، یہ پورے کے پورے اپنے مفاد میں عوام کا ہی خون چوستے ہیں۔ کسی کے قتل پرخاموش کیوں نا ہوں ان کی جان تو محفوظ ہے، جب بھی خطرہ ہو تو اپنی حفاظت میں آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں عام آدمی کی فکرکیوں کریں۔۔۔۔۔۔۔۔؟ شیعہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی کی بات ہو یا کسی اور کے ساتھ نفرت جب تک ہماری سوچ نہیں بدلے گی ہم اس مسئلے سے باہرنہیں نکل سکتے۔ ایک قوم بن کر سوچیں سارے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ پھر سیاستدان بھی اسی پر چلیں گے اور دانشور بھی ۔ امریکا کی جنگ ، بھارت کی سازش، یا اسرائیل کی چال نہیں کہنا پڑے گا۔ ہم ایک قوم کب بنیں گے؟ قتل و غارت ہو یا لوٹ مار سیکیورٹی اداروں کو اپنا فرض نبھا نا ہوگا صرف وی وی آئی پی کی جان اہم نہیں عام آدمی کا تحفظ کرنا ہوگا۔ جرائم پیشہ کوئی بھی ہو جب تک اسے ختم نہیں کیا جائے گا۔ امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ محمداجمل خان،سینئرجرنلسٹ کراچی
ابراہیم صابری بلتستانی
07 ستمبر, 2012 05:25
ماشااللہ اآپ نے بہت اچھی بات کی ہے ان کو تو صرف الیکشن کے قریب ہی نطر آتے ہیں :ماشا اللہ آپ کی موقوف صحیح ہے (محمد ابراہیم صابری بلتستانی Hبلاک ماڈل ٹاون لاہور)
ابراہیم صابری بلتستانی چندوی
07 ستمبر, 2012 05:31
عمران خان کو ووٹ دینا بڑی بیوقوفی ہو گی ۔
سچا پاکستانی
07 ستمبر, 2012 15:13
آپ مذہبی راہنماؤں کو (نعوذباللہ) "خدا" بنانے کی (بےجا) مذمت کررہےہیں لیکن خود ریاست کو اپنا "خدا" بنانے کا مشورہ بھی دےرہےہیں؟ واہ کیا خوب منطق ہے جناب کی!
حسن خان
08 ستمبر, 2012 14:16
بھایی آپ نے فورا ہی لکھاری پر اےک فرقے کا ہونے کا الزام لگا دیا. کیا یہ سچ نہین کہ ملک بھر میں شیعہ مارے جا رہے ہیں اور کویی سیاستدان بولنے کو تیار نہیں. عدلیہ بھی آنکھیں بند کیے ہے اور فوج بھی دم سادھے اس ایک گروہ کے خاتمے کی منتظر دکھایی دیتی ہے.
Syed
10 ستمبر, 2012 12:30
عمران خان صاحب۔۔۔ آج پارہ چنار دھماکہ میں دس شیعہ پھر ہلاک ہو گئے ہیں۔ کیا خیال ہے، آپ اِن شہداء کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرنا پسند کریں گے۔۔۔؟ ووٹ تو خیر بعد کی بات ہے، ہو سکتا ہے یہ عظیم مرتبہ ہی آپ کو پارہ چنار میں مل جائے؟
Syed
10 ستمبر, 2012 14:08
بھئی آپ ایکسپریس یا جنگ میں سے کسی ایک کو جوائن کر لیں۔ آپ کی دانشں سے بھرپور آراء میں نہ صرف عالم اور جاہل برابر ٹھہرے بلکہ شاہ اور گدا بھی آپ نے ایک ہی لاٹھی سے ہانک دیئے۔ آپ قبلہ اور کعبہ کے الفاظ سے واقف ہیں لیکن نہ تو آپ قبلہِ اول کا کوئی درد رکھتے ہیں اور نہ ہی جحاز سے سعودیہ تک کے تاریخی بیک گراونڈ کا آپ کو کچھ اِدراک معلوم ہوتا ہے۔ آپ کا کیا جاتا ہے، کل کو آپ محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ایسی ہی آسانی سے بدیسی قرار دے کر حد بندی کی کوششں کرسکتے ہیں۔۔۔
Syed
10 ستمبر, 2012 14:25
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔۔۔ جناب چیف صاحب۔ آپ نے سو موٹو ایکشن نہی لینا ہے مت لیں۔۔۔ لیکن کیا آپ اِن شہداء کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرنا پسند کریں گے۔۔۔؟ ہو سکتا ہے آپ کی شرکتِ بابرکت کے طفیل ہی اِن شہداءِ کی جنازہ کسی اور حادثہ سے بچ جائے اور ویسے بھی سنا ہے کہ نمازِ جنازہ میں شرکت بڑے ہی اجر کا باعث ہے۔
ڈاکٹر شفیع نیازی
11 ستمبر, 2012 11:49
آپ بالکل صہیح فرما رھے ھیں
مقبول ترین
بلاگ

اخلاقیات: غیر مسلم پاکستانیوں کے لیے

اگر آج پاکستان میں غیر مسلم پاکستانیوں کا تناسب 5 فی صد بھی ہے تو 20 کروڑ کے ملک میں یہ ایک کروڑ پاکستانی بنتے ہیں۔

لکیر کے فقیر

دونوں صدارتی امیدواروں کے بیچ اقتدار کی جنگ نے افغانستان کو نسلی فسادات کی طرف دھکیل دیا ہے

گھریلو تشدد: پاکستانی 'کلچر' - حقیقت کیا ہے؟

پاکستانی سماج میں عورت مرد کی جائداد اور اس سے کمتر ہے چناچہ اس کے ساتھ کسی قسم کا سلوک روا رکھنا مرد کا پیدائشی حق ہے-

ریاستی تنہائی اور اجتماعی مہاجرت

جب تک سوچنے اور سوچ کے اظہار کے لیے ممکنہ حد تک ازادی موجود نہ ہو تب تک سماج میں تکثیریت پروان نہیں چڑھ سکتی