24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

کابینہ کے اجلاس میں دہشتگردی کے خلاف دوبل منظور

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران۔ اے پی پی فوٹو

اسلام آباد: حکومت 'فئیرٹرائل بل' کو پارلیمان میں پیش کرے گی۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس بل کے ذریعے جدید ترین ٹیکنالوجی اور آلات کی مدد سے تحقیقات کرسکتے ہیں۔

آگر یہ بل منظور ہوجاتا ہے تو اس بل کے ذریعے لوگوں کی فون کالز ٹیپ ہوسکتیں ہیں اور اس کے علاوہ تمام ذاتی مواصلات بھی رسائی حاصل ہوگی تاکہ دہشت گردوں تک پہنچا جاسکے۔

فئیرٹرائل بل کے تحت ای میل ،ڈاک اوردیگرمواصلاتی موادبھی بطورشواہد استعمال ہونگے۔

ای میلز، ایس ایم ایس، فون کالز اور صوتی اور تصویری ریکارڈنگ بھی قابل قبول ثبوت قرار دیئے جائیں گے جبکہ مشتبہ افراد کو سیشن اور ڈسٹرکٹ کورٹ جج کی طرف سے وارنٹ جاری کے بعد چھ مہینے تک تحویل میں رکھا جائے گا۔

وفاقی کابینہ نے بدھ کے روز 'تحقیات کے لیئے فئیرٹرائل کے بل سن دو ہزار بارہ' کو منظور کیا جس کے بعد یہ بل اب پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔

اس بل کا ڈرافٹ کے مطابق جو کہ ڈان کو موصول ہوا ہے، آگر یہ بل منظور ہوجاتا ہے تو یہ لوگوں کی نجی زندگی میں بےجا مداخلت کا باعث بن سکتا ہے۔

اس بل کے ڈرافت کے مطابق پاکستانی شہری خواہ وہ کہیں پر بھی ہو، چاہے ہوائی جہاز پر ہو، بحری جہاز پر ہوں بشرط یہ کہ پاکستان میں رجسٹرڈ ہے۔

اس کے علاوہ وفاقی کابینہ نے 'انسداددہشت گردی بل سن دو ہزار بارہ' کی منظوری دیدی۔

بل کا مقصد دہشتگردوں کی مالی معاونت کی فراہمی کو روکنا ہے۔ بل کے تحت دہشتگردوں سے روابط رکھنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جاسکے گی۔

قانون  کے تحت دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کے اثاثے اور جائیدادیں ضبط کی جاسکیں گی۔

بل کا اطلاق اندرون و بیرون ملک دونوں مالی معانت کرنے والوں پر ہوگا۔

خیال رہے کہ عالمی مالیاتی ٹاسک فورس نے پاکستان کو تنبیہ کی تھی کہ اگر دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے کے لئے قانون سازی نہ کی گئی تو اسے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اس حصے سے مزید

وفاقی حکومت نے آزادی تقریبات کا اعلان کر دیا

تقریبات کا اعلان کرتے ہوئے سعد رفیق نے تحریک انصاف کے مارچ کے حوالے سے سوال کا جواب دینے سے معذرت کر لی۔

سرحدی دراندازی کے ہندوستانی الزامات مسترد

سیکریٹری سطح کے مذاکرات میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تمام معاملات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا، اعزاز چوہدری

افتخار چوہدری کا عمران خان کو ہتک عزت کا نوٹس

سابق چیف جسٹس نے نوٹس میں عمران خان کی جانب سے معافی نہ مانگنے کی صورت میں 20 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-