01 اکتوبر, 2014 | 5 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

لاپتہ افراد پر اقوامِ متحدہ کا وفد پاکستان آئے گا

کراچی پریس کلب کے باہر مظاہرین بلوچستان میں لاپتہ افراد کی واپسی کے لئے مظاہرہ کررہے ہی۔ فائل تصویر سہیل یوسف / ڈان ڈاٹ کام

جینیوا: جبری یا غیرارادی طور پر پوشیدہ یا لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق اقوامِ متحدہ کا ورکنگ گروپ دس سے بیس ستمبردوہزار بارہ کے دوران پاکستان کی دعوت پر ملک کا دورہ کرے گا۔

اپنے مشن کے دوران اقوامِ متحدہ کے ماہرین جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے بارے میں معلومات جمع کریں گے۔

دوسری جانب یہ گروپ ان اقدامات کا بھی جائزہ لے گا جس سے لوگوں کے لاپتہ ہونے کے عمل میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ ساتھ ہی جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی حقائق، ان کو فراہم کئے جانے والے انصاف اور ان کے تقاضوں پر بھی تفتیش کرے گا۔

اپنے ملک گیر دورے کے درمیان ورکنگ گروپ ،وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر سرکاری افراد، سول سوسائٹی کے نمائیندوں، لاپتہ افراد کے لواحقین اور اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں کے نمائیندوں سے ملاقات کرے گا۔

وفد کے ہمراہ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یواین ایچ سی آر سیکریٹیریٹ کے اراکین اور آزادانہ طور پر کام کرنے والے ماہرین بھی شامل ہوں گے۔ مشن دو ہزار تیرہ میں ہیومن رائٹس کونسل میں اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔ پی پی آئی

اس حصے سے مزید

وزيراعظم نااہلی کيس:سپريم کورٹ کالارجربينچ بنانےکی درخواست مسترد

بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ پر اعتراض کی درخواست بھی چیف جسٹس نے مسترد کر دی، کیس کی سماعت جمعرات سے ہو گی۔

کراچی: ایک گھنٹے میں پولیس پر دو حملے، دو اہلکار زخمی

پہلا واقعہ حسن اسکوائر کے قریب پیش آیا جہاں ایک پولیس موبائل کو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے دستی بم سے نشانہ بنایا۔

لائن آف کنٹرول: ہندوستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق انڈین فورسز نے ایل او سی پر باغ سیکٹر میں فائرنگ کی جس کا بھر پور جواب دیا گیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟