30 اگست, 2014 | 3 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

بلوچستان بدامنی کیس میں عبوری حکم جاری

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ۔ فوٹو آن لائن

کوئٹہ: سپریم کورٹ رجسٹری میں بلوشستان بدامنی کیس کی سماعت شروع۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمٰی کا تین رکنی بینچ کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان میں امن و امان سے متعلق کیس کی سماعت کررہا ہے۔

سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری بابر یعقوب فتح سے پوچھا کہ آپ کو کہا تھا کہ لاپتہ افراد کے بارے میں آج حتمی رپورٹ جمع کرائیں۔

جس پر چیف سیکریٹری نے کہا کہ مزید مہلت دی جائے تاکہ بہتر نتائج عدالت کے سامنے لائے جاسکیں۔

چیف جسٹس نے کہا ہے کہ انہوں نے حکم دیا کہ جاکر لاپتہ افراد کو لے آئیں لیکن نیتجہ صفر ہے، ٹارگٹ کلنگ ختم ہوئی اور نہ ہی اغوا برائے تاوان۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری دفاع کے متعلق دریافت کیا، جس پر ایڈووکیٹ جنرل جواب دیا کہ وہ چلے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ نے بلوچستان بدامنی کیس میں عبوری حکم جاری کرتے ہوئے اسلحہ اور گاڑیوں کی غیرقانونی راہداریاں منسوخ کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت نے کمانڈر ایف سی ڈیرہ بگٹی کی چھٹیاں منسوخ کرکے انہیں پیش ہونے کا بھی حکم دیا ہے۔

اس حصے سے مزید

بلوچستان: ذکری فرقے کے چھ افراد سمیت نو ہلاک

حکام کے مطابق مسلح افراد نے ذکری فرقے سے تعلق والے افراد پر اس وقت فائرنگ کردی جب وہ ایک عبادت گاہ میں موجود تھے۔

کوئٹہ: دوصحافیوں سمیت تین افراد قتل

نیوز ایجنسی کے دفتر میں نامعلوم مسلح افراد داخل ہوئے اور بیورو،رپورٹر اور اکائونٹنٹ کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔

مستونگ: نیٹو ٹینکرز پر حملہ

پولیس کے مطابق مسلح افراد کی فائرنگ سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا تاہم آئل ٹینکرز میں آگ لگ گئی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت

حکومت نےکس قدر عجلت میں مذاکرات کا فیصلہ کیا، اس سے معاملات کے اوپر جی ایچ کیو کی گرفت کا اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے۔

بلاگ

اجتماعی سیاسی قبر

فوج کو سیاسی معاملات میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاستدان سیاسی معاملات سے نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

مووی ریویو: مردانی - پاورفل کہانی، بہترین پرفارمنس

بولی وڈ اداکار رانی مکھرجی اور طاہر بھاسن دونوں ہی اپنی بولڈ پرفارمنس کے لئے تعریف کے لائق ہیں۔

عظیم مقاصد، پر راستہ؟

اس طوفان کے نتیجے میں ان چاہی افرا تفری پھیل سکتی ہے، اسلیے اچھے مقاصد کے لیے ایسے راستے اختیار نہیں کیے جانے چاہییں۔

انقلاب معافی چاہتا ہے

ڈی چوک وہ سیاسی چراغ ہے جس کو اگر ضدی شہزادے کافی حد تک رگڑ دیں تو کچھ پتا نہیں اس میں سے انقلاب کا جن نکل ہی آئے۔