21 اپريل, 2014 | 20 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

بلوچستان بدامنی کیس میں عبوری حکم جاری

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ۔ فوٹو آن لائن

کوئٹہ: سپریم کورٹ رجسٹری میں بلوشستان بدامنی کیس کی سماعت شروع۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمٰی کا تین رکنی بینچ کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان میں امن و امان سے متعلق کیس کی سماعت کررہا ہے۔

سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری بابر یعقوب فتح سے پوچھا کہ آپ کو کہا تھا کہ لاپتہ افراد کے بارے میں آج حتمی رپورٹ جمع کرائیں۔

جس پر چیف سیکریٹری نے کہا کہ مزید مہلت دی جائے تاکہ بہتر نتائج عدالت کے سامنے لائے جاسکیں۔

چیف جسٹس نے کہا ہے کہ انہوں نے حکم دیا کہ جاکر لاپتہ افراد کو لے آئیں لیکن نیتجہ صفر ہے، ٹارگٹ کلنگ ختم ہوئی اور نہ ہی اغوا برائے تاوان۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری دفاع کے متعلق دریافت کیا، جس پر ایڈووکیٹ جنرل جواب دیا کہ وہ چلے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ نے بلوچستان بدامنی کیس میں عبوری حکم جاری کرتے ہوئے اسلحہ اور گاڑیوں کی غیرقانونی راہداریاں منسوخ کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت نے کمانڈر ایف سی ڈیرہ بگٹی کی چھٹیاں منسوخ کرکے انہیں پیش ہونے کا بھی حکم دیا ہے۔

اس حصے سے مزید

کوئٹہ: فائرنگ سے تین افراد ہلاک

فائرنگ ایک گاڑی پر کی گئی، جس میں سوار دو افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ ایک راہگیر بھی فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوا۔

پنجگور: ایف سی سے فائرنگ کا تبادلہ، تین عسکریت پسند ہلاک

سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد عسکریت پسند زخمی بھی ہوئے، ترجمان فرنٹیئر کورپس ۔

کوئٹہ: پرتشدد واقعات میں چار افراد ہلاک

واقعہ کے بعد نامعلوم افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، تاہم پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

نریندر مودی اور نواز شریف ساتھ ساتھ

اگر بی جے پی حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو 1998 کی طرح آج بھی پاکستان میں نواز شریف کی ہی حکومت ہوگی۔

دنیاۓ صحافت: داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

ایک فوجی کی طرح صحافی کو بھی ہرگز اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، یہ سوچنا کہ یہ ہماری جنگ نہیں، سراسر حماقت ہے-

2 - پاکستان کی شہری تاریخ ... ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا

بھٹو حکومت کے ابتدائی سالوں میں قوم کا مزاج یکسر تبدیل ہو گیا تھا، کیونکہ ملک ایک نئے پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا-

سچ، گولی اور بے بس جرنلسٹ

حامد میر پر حملہ ایک بار پھر صحافی برادری کی بے بسی کی طرف اشارہ کرتا ہے