27 اگست, 2014 | 30 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

امریکا میں مسجد بنانے کے منصوبے کو عیسائی مخالفت کا سامنا

امریکا۔ رائٹڑز فوٹو

ویسٹ بلوم فیلڈ: عیسائی قانونی گروپ جس نے امریکی پادری کے کھلے عام قران جلانے کے اقدام کی حمایت کی تھی، اب ایک خالی امریکی اسکول کی عمارت جہاں اسلامک سینٹر بنانے کا منصوبے بنایا جارہا تھا، کی بھی مخالفت کردی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ 'اسلام کے خطرے' کا سامنا کرنا چاہتے ہیں اور 'جہاد' کو روکنا چاہتے ہیں کہ کہیں ان کا ملک اسلامک ملک نہ بن جائے۔

اسلامی ثقافتی ایسوسی ایشن نے یہ اسکول مضافاتی ڈیٹرایٹ میں گزشتہ سال ایک عشاریہ ایک ملین ڈالر کی قیمت پر خریدا تھا۔

اس قانونی سینٹر نے امریکا میں واقع اسلامک ارگنائیزیشنز پر الزام لگایا ہے کہ وہ قانونی نظام کا فائدہ اٹھا کر 'جہاد' کررہے ہیں اور ان کا مقصد امریکا کو اسلامی ملک بنانا ہے۔

انہوں نے اسلامی ایسوسی ایشن پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا بھی الزام لگایا ہے۔

اس حصے سے مزید

عراق: کار بم دھماکے میں 15افراد ہلاک

عراقی دارلحکومت بغداد کے علاقے جدیدہ میں ہونے والے اس دھماکے میں 37 افراد زخمی بھی ہوئے۔

فلسطین، اسرائیل کے ساتھ غزہ میں طویل مدتی جنگ بندی پر متفق

فلسطین، غزہ میں مستقل جنگ بندی کے معاہدے پر رضا مند ہے۔ تاہم اسرائیل نے معاہدے کی فوری تصدیق نہیں کی۔

'سیزفائر کی خلاف ورزی پر پاکستان کو مناسب جواب دیں گے'

بی جے پی کے صدر نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں آئندہ حکومت ان کی جماعت کی ہو گی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

دو کشتیوں کے سوار نواز شریف

نواز شریف کے مطابق اگر ان کو طاقت کے زور پر نکالا گیا تو پاکستان کو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔

پاکستان میں جمہوریت

کیا جمہوریت پاکستان میں عوام کیلیے ہے یا حکمرانوں کو انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کی یقین دہانی کیلیے ہے؟

بلاگ

'آزادی' کے بعد: 'نیا پاکستان' اور 'انقلابی کابینہ'

سب سے زیادہ توجہ میڈیا پر دینی ہوگی اور گندی مچھلیوں سے پاک کرنے کے لئے تمام 'ملک دشمن' چینلز پر فوری پابندی لگانی ہوگی

مووی ریویو: ٹین ایج میوٹنٹ ننجا ٹرٹلز

تباہی و بربادی کے سینز، سپر ہیروز اور ایک حسینہ والے کامیاب ثابت شدہ فارمولے فلم کا حصہ رہے۔

تجزیوں کا بخار

گھر کے تمام افراد کو اتنے گروپس میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جتنے کہ تجزیہ کار موجود ہیں۔

بڑے بوٹ اور چھوٹے بوٹ

پاکستانی عوام کا مزاج کہہ لیں اور ہماری سیاسی قوتوں کی کمزوری کے ہر مشکل گھڑی میں نظریں فوج کی جانب ہی اُٹھتی ہیں۔