02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

'خیر سگالی کا پیغام لایا ہوں'

۔ — رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: تین روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچنے والے ہندوستانی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی عوام کے لیے جذبہ خیر سگالی کا پیغام لائے ہیں۔

کرشنا جمعے کی صبح اسلام آبا پہنچے جہاں وزارت خارجہ کے اعلٰی حکام اور ہندوستان کے  ہائی کمشنر شرت سبھروال نے ان  کا  استقبال کیا۔ اس موقع پر ہندوستان میں پاکستان کے سفیرسلمان بشیر بھی موجود تھے۔

میڈیا سے مختصر گفتگو میں کرشنا نے کہا کہ وہ باہمی تعلقات کے درمیان حائل تمام معاملات کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا مصمم عزم رکھتے ہیں ۔

انہوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ ہندوستان ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان چاہتا ہے جو امن سے رہے۔

پاکستان میں قیام کےدوران کرشنا، صدر اور وزیراعظم کے علاوہ بعض سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

وہ کل  آٹھ ستمبر کو اپنی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر سے ملنے کے علاوہ ان کے ہمراہ کل  انڈو-پاک جوائنٹ کمیشن کی بھی صدارت کریں گے۔

دو طرفہ مذاکرات میں امن، سیکیورٹی، اعتماد سازی کے اقدامات، کشمیر، سیاچن، سر کریک، معاشی و تجارتی تعاون اور وولر بیراج سمیت پانی کی تقسیم کے معاملات پر تبادلہٴ خیال کیا جائے گا۔

دورے سے قبل نئی دہلی میں میڈیا سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان دہشت گردی اور تشدد سے پاک ماحول میں پاکستان کے ساتھ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنے کیلئے پر عزم ہے۔

تجزیہ کاروں کی رائے میں ہندوستانی وزیرخارجہ کے دورے سے کچھ امور پر تو پیشرفت ہو سکتی ہے لیکن کسی بڑے بریک تھرو کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

دوسری جانب سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایس ایم کرشنا کے دورے سے نہ صرف ہندوستانی وزیراعظم منموہن سنگھ کے دورہ پاکستان کی راہ ہموار ہوں گی، بلکہ ویزہ اور تجارت کی سہولت کے علاوہ بعض شعبوں میں پیشرفت کا بھی امکان ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ان مذاکرات کی شروعات گزشتہ سال ہی بحال ہوئی تھی۔

مزید براں عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے وفود نے  بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا سے ملاقات کی۔

وفود نے ملاقات کے دوران کہا کہ اسلام آباد اور دہلی کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کی جائیں، مسئلے جنگ سے نہیں مذاکرات سے حل ہوتے ہیں۔

اسلام آباد میں وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کے ساتھ ملاقات کے دوران حاجی عدیل نے کہا کہ اگر آپ ویزا کھول دیں تو دونوں ملکوں کے درمیان تمام مسئلے حل ہو جائیں گے۔

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات صرف دونوں ممالک کے لیے نہیں بلکہ جنوبی ایشا کی خوشحالی کے لیے بھی ضروری ہیں۔

فاروق ستار نے   بھارتی وزیر خارجہ سے کہا کہ کھوکھرا پار اور مونا باؤ کے درمیان ریل سروس کو بحال کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات ہوں۔

اس حصے سے مزید

سپرپاور بنتا انڈیا: جینے کا حق ہے، بیمار پڑنے کا نہیں

سپرپاور بننے کے آرزومند ہندوستان میں بے شمار مریض مفلسی کی وجہ سے پیچیدہ بیماریوں سے طویل جنگ لڑنے پر مجبور ہیں۔

صاف ہندوستان مہم: مودی جھاڑو لیے دہلی کی سڑکوں پر

ہندوستان میں مہاتما گاندھی کے جنم دن کے موقع پر ’صاف ہندوستان‘ مہم کے تحت وزیر اعظم نریندرا مودی نے بذات خود جھاڑو لگائی

انڈیا، امریکا کا دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کا عہد

مشترکہ بیان میں پاکستان پر ممبئی حملوں کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے پر بھی زور۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنوبی پنجاب کا کیس

پنجاب اس وقت دنیا کی سب سے بڑی وفاقی اکائیوں میں سے ہے۔ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے یہ دنیا کے کئی ممالک سے بھی بڑا ہے۔

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

بلاگ

کیا آپ کی گائے برانڈڈ ہے؟

ہرعید الاضحیٰ کے ساتھ جانوروں پر شوبازی بڑھتی ہی جارہی ہے، جس سے اس مذہبی تہوار کی روحانیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری: حقیقت یا سراب؟

حکومت نے کئی ارب روپے سے میٹرو بس منصوبہ شروع کر رکھا ہے مگر عوام کو سیلاب سے بچانے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

گو نواز گو!

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔