17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

چین میں زلزلہ، پچاس افراد ہلاک

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژین ہوا نے حکام کے حوالے سے اموات کی تصدیق کی۔ اے ایف پی

بیجنگ: جنوب مغربی چین میں آنے والے زلزلے سے جمعہ کی شام تک  کم از کم پچاس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے۔

 زلزلے سے اب تک کم ازکم بیس افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق ہوچکی ہے۔

 جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب یکے بعد دیگرے زلزلے کے کئی جھٹکے آئے تھے۔ جن میں سے صرف ایک کی شدت ریکٹراسکیل پر پانچ اعشاریہ سات ریکارڈ کی گئی ہے۔

 چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژین ہوا نے حکام کے حوالے سے اموات کی تصدیق کردی ہے۔

 موصولہ اطلاعات کے مطابق جنوب مغربی چین میں واقع ین نان اور گوئز ہو صوبے کی سرحد پر پر گزشتہ رات مقامی وقت کے مطابق گیارہ بجے زلزلے کا سب سے شدید جھٹکا محسوس کیا گیا۔ جس کے بعد متعدد آفٹر شاکس محسوس کیے گئے۔

 ژین ہوا نے چائنا ارتھ کوئیک نیٹ ورک سینٹر کے حوالے سے بتایا کہ زلزلے کا محور زمین میں چودہ کلومیٹر کی گہرائی میں  تھا۔

  سینٹر کے حوالے سے ژین ہوا نے بتایا کہ زلزلے کے چار شدید نوعیت کے جھٹکے آئے تھے۔

  زیادہ تر اموات مکانات مندم ہونے کے باعث ملبے تلے دب کر ہوئیں۔

اس حصے سے مزید

عسکریت پسند ہنسنے، رونے پر پابندی چاہتے ہیں، چینی گورنر

چین کے شورش زدہ علاقے ژنجیانگ کے گورنر نے ایک روزنامے میں لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ شدت پسندی کی 'رسولی' ختم کریں۔

تین ہزار ڈالرز کے دو آم

جنوبی جاپان میں آموں کی ایک جوڑی کو تین ہزار ڈالرز کی حیران کن قیمت میں فروخت کر دیا گیا۔

جاپانی پروفیسر کا اردو سے عشق

اوساکا یونیورسٹی میں اردو زبان کے پروفیسر مادری زبان جاپانی ہونے کے باوجود اردو غزل کہتے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟

جادو کا چراغ: نبض کے بھید اور ایک برباد محبت

بوڑھے دانا طبیب نے مختلف ناموں پر بدلتی نبض کو دیکھ کر لڑکی کی پراسرار بیماری کا علاج کیا-

سارے جہاں سے مہنگا - ریویو

فلم میں ایک اچھوتا خیال پیش کیا گیا ہے کہ کس طرح 'جگاڑ' کر کے ایک مڈل کلاس آدمی مہنگائی کا توڑ نکالتا ہے۔