02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

نئے ویزہ معاہدے پر دستخط

۔ — رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: پاکستان اور ہندوستان نے نئے ویزہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد کاروباری، سیاحتی اور سفارتی ویزے کے حصول کے مرحلے آسان ہو سکیں گے۔

معاہدہ پر دستخط کرنے کی تقریب ہفتے کو اسلام آباد میں ہوئی جہاں پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک اور تین روزہ دورے پر آئے ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے معاہدے پر دستخط کیے۔

معاہدے میں آنے جانے کے لیے ایک ہی راستہ یا ذریعہ استعمال کرنے کی شرط ختم کر دی گئی ہے اور اب ہندوستان میں دہلی اور ممبئی  جبکہ پاکستان میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے فضائی راستے استعمال کیے جاسکیں گے۔

سمندری راستہ  کراچی اور ممبئی کے لیے استعمال ہوگا، جبکہ زمینی راستوں میں اٹاری، واہگہ، کھوکراپار اور مونابائو شامل ہوں گے۔

معاہدے کی دستاویزات کے مطابق پینسٹھ سال اور اس سے زیادہ عمر کے شہریوں کو واہگہ اور اٹاری پر ویزہ دیا جائے گا اور اس میں توسیع نہیں ہوسکے گی۔

بزرگ شہریوں، بارہ سال سے کم عمر بچوں اور ہمسایہ ملک میں شادی کرنے والے میاں یا بیوی کو دو سال کا ملٹی پل ویزہ جاری کیا جا سکے گا۔

سیاحتی ویزہ معاہدے کے تحت سنگل انٹری سیاحتی ویزے کی مدت بھی تین ماہ سے بڑھا کر چھ ماہ کر دی گئی ہے تاہم قیام تین ماہ سے زائد نہیں ہوگا۔

سنگل انٹری پر تین کے بجائے اب پانچ شہروں کے لیے ویزہ جاری کیا جا سکے گا۔

دس سے پچاس افراد پر مشتمل سیاحتی گروپس کو بھی تیس دن کا ویزہ جاری ہوسکے گا تاہم اس کے لیے منظور شدہ ٹور آپریٹرز کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔

دونوں ممالک کے طالب علموں کو بھی گروپس کی صورت میں تیس دن کا سیاحتی ویزہ مل سکے گا۔

زائرین کو انیس سو چوہتر کے پروٹوکول کے تحت ویزا جاری ہوگا جس کے لیے انہیں پینتالیس دن پہلے درخواست دینا ہو گی۔

زائرین کے ویزے کی معیاد پندرہ دن اور یہ سنگل انٹری کے لیے ہو گا۔

کاروباری ویزہ

معاہدے کے تحت تاجروں کو آمدن اور کاروباری حجم کی بنیادی پر پانچ سے دس مقاما ت کے لیے ایک سال کا ملٹی پل بزنس ویزہ بھی مل سکے گا۔

بزنس ویزہ کے حوالے سے نئی پالیسی میں نرمی کی گئی ہے اور پانچ لاکھ روپے سالانہ آمدن یا تیس لاکھ روپے سالانہ ٹرن اوور رکھنے والے تاجروں کو پانچ شہروں کے لیے ایک سال کا ملٹی پل ویزا جاری کیا جائے گا۔

اسی طرح پچاس لاکھ روپے سالانہ آمدن یا تین کروڑ روپے تک سالانہ ٹرن اوور رکھنے والے تاجروں کو دس شہروں کے لیے ایک سال کا ملٹی پل ویزا جاری کیا جائے گا۔

بڑے تاجر بھی پولیس رپورٹنگ سے بھی مستثنی ہوں گے۔

سفارتی ویزہ

معاہدے میں سفارتی ویزہ کے اجرا کی مدت متعین کرتے ہوئے تیس دن میں جاری کرنے کا کہا گیا ہے۔

سفارتی ویزہ مخصوص مدت اور مقام کے لیے صرف سفارتی پاسپورٹ پر جاری ہوگا۔ اس سے قبل سفارتی ویزہ جاری کرنے کی مدت طے نہیں تھی۔

غیر سفارتی ویزہ زیادہ سے زیادہ پینتالیس دن میں جاری ہوسکے گا۔ سرکاری ویزے کی مدت تیس سے کم کرکے پندرہ دن کردی گئی ہے۔

اس حصے سے مزید

ہاشمی کے الزامات بے بنیاد ہیں، پی ٹی آئی

تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے فوج کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی کوئی خفیہ ایجنڈا ہے

کسی کے کندھوں پر چڑھ کر اقتدار میں نہیں آئیں گے، عمران خان

حکومت استعفے کے علاوہ سب کچھ ماننے کے لیے تیار ہوگئی مگر نواز شریف کے استعفے کے بغیر کسی صورت واپس نہیں جاﺅں گا۔

'خان صاحب نے کہا کہ فوج کے بغیر نہیں چل سکتے'

عمران کو ملک کے آئین اور قانون کی پرواہ نہیں، وہ منصوبہ بندی کے تحت اسلام آباد آئے ہیں، صدر تحریک انصاف جاوید ہاشمی


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔