02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

نئے ویزہ معاہدے پر دستخط

۔ — رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: پاکستان اور ہندوستان نے نئے ویزہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد کاروباری، سیاحتی اور سفارتی ویزے کے حصول کے مرحلے آسان ہو سکیں گے۔

معاہدہ پر دستخط کرنے کی تقریب ہفتے کو اسلام آباد میں ہوئی جہاں پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک اور تین روزہ دورے پر آئے ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے معاہدے پر دستخط کیے۔

معاہدے میں آنے جانے کے لیے ایک ہی راستہ یا ذریعہ استعمال کرنے کی شرط ختم کر دی گئی ہے اور اب ہندوستان میں دہلی اور ممبئی  جبکہ پاکستان میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے فضائی راستے استعمال کیے جاسکیں گے۔

سمندری راستہ  کراچی اور ممبئی کے لیے استعمال ہوگا، جبکہ زمینی راستوں میں اٹاری، واہگہ، کھوکراپار اور مونابائو شامل ہوں گے۔

معاہدے کی دستاویزات کے مطابق پینسٹھ سال اور اس سے زیادہ عمر کے شہریوں کو واہگہ اور اٹاری پر ویزہ دیا جائے گا اور اس میں توسیع نہیں ہوسکے گی۔

بزرگ شہریوں، بارہ سال سے کم عمر بچوں اور ہمسایہ ملک میں شادی کرنے والے میاں یا بیوی کو دو سال کا ملٹی پل ویزہ جاری کیا جا سکے گا۔

سیاحتی ویزہ معاہدے کے تحت سنگل انٹری سیاحتی ویزے کی مدت بھی تین ماہ سے بڑھا کر چھ ماہ کر دی گئی ہے تاہم قیام تین ماہ سے زائد نہیں ہوگا۔

سنگل انٹری پر تین کے بجائے اب پانچ شہروں کے لیے ویزہ جاری کیا جا سکے گا۔

دس سے پچاس افراد پر مشتمل سیاحتی گروپس کو بھی تیس دن کا ویزہ جاری ہوسکے گا تاہم اس کے لیے منظور شدہ ٹور آپریٹرز کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔

دونوں ممالک کے طالب علموں کو بھی گروپس کی صورت میں تیس دن کا سیاحتی ویزہ مل سکے گا۔

زائرین کو انیس سو چوہتر کے پروٹوکول کے تحت ویزا جاری ہوگا جس کے لیے انہیں پینتالیس دن پہلے درخواست دینا ہو گی۔

زائرین کے ویزے کی معیاد پندرہ دن اور یہ سنگل انٹری کے لیے ہو گا۔

کاروباری ویزہ

معاہدے کے تحت تاجروں کو آمدن اور کاروباری حجم کی بنیادی پر پانچ سے دس مقاما ت کے لیے ایک سال کا ملٹی پل بزنس ویزہ بھی مل سکے گا۔

بزنس ویزہ کے حوالے سے نئی پالیسی میں نرمی کی گئی ہے اور پانچ لاکھ روپے سالانہ آمدن یا تیس لاکھ روپے سالانہ ٹرن اوور رکھنے والے تاجروں کو پانچ شہروں کے لیے ایک سال کا ملٹی پل ویزا جاری کیا جائے گا۔

اسی طرح پچاس لاکھ روپے سالانہ آمدن یا تین کروڑ روپے تک سالانہ ٹرن اوور رکھنے والے تاجروں کو دس شہروں کے لیے ایک سال کا ملٹی پل ویزا جاری کیا جائے گا۔

بڑے تاجر بھی پولیس رپورٹنگ سے بھی مستثنی ہوں گے۔

سفارتی ویزہ

معاہدے میں سفارتی ویزہ کے اجرا کی مدت متعین کرتے ہوئے تیس دن میں جاری کرنے کا کہا گیا ہے۔

سفارتی ویزہ مخصوص مدت اور مقام کے لیے صرف سفارتی پاسپورٹ پر جاری ہوگا۔ اس سے قبل سفارتی ویزہ جاری کرنے کی مدت طے نہیں تھی۔

غیر سفارتی ویزہ زیادہ سے زیادہ پینتالیس دن میں جاری ہوسکے گا۔ سرکاری ویزے کی مدت تیس سے کم کرکے پندرہ دن کردی گئی ہے۔

اس حصے سے مزید

بلدیاتی انتخابات کی تیاری، صوبوں سے 15 دن میں جواب طلب

سپریم کورٹ نے سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے 15 دن میں جواب طلب کر لیا۔

طاہر القادری بھی عمران خان کے نقشِ قدم پر

عوامی تحریک کے قائد نے دھرنے سے آگے کے لائحہ عمل کااعلان کرتے ہوئے فیصل آباد اور لاہور میں جلسے کرنے کااعلان کردیا ہے۔

گندگی کی وجہ سے دھرنے کے شرکاء بیمار پڑ رہے ہیں

پی اے ٹی کے دھرنے میں تقریباً 75 فیصد شرکاء ڈائریا، ملیریا، جلد، گلے اور سینے کے انفیکشن کا شکار ہورہے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنوبی پنجاب کا کیس

پنجاب اس وقت دنیا کی سب سے بڑی وفاقی اکائیوں میں سے ہے۔ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے یہ دنیا کے کئی ممالک سے بھی بڑا ہے۔

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

بلاگ

کیا آپ کی گائے برانڈڈ ہے؟

ہرعید الاضحیٰ کے ساتھ جانوروں پر شوبازی بڑھتی ہی جارہی ہے، جس سے اس مذہبی تہوار کی روحانیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری: حقیقت یا سراب؟

حکومت نے کئی ارب روپے سے میٹرو بس منصوبہ شروع کر رکھا ہے مگر عوام کو سیلاب سے بچانے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

گو نواز گو!

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔