26 جولائ, 2014 | 27 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشا جیل سے رہا، نامعلوم مقام پر منتقل

خبر رساں ایجنسی کی تصویر کے مطابق رمشا مسیح کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد ہیلی کاپٹر کی جانب لے جایا جارہا ہے۔ اے ایف پی تصویر

راولپنڈی: قرآن مجید کے اوراق کی مبینہ توہین میں ملوث چودہ سالہ بچی رمشا مسیح کو آج اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق رمشا سخت حفاظتی انتظامات بکتر بند میں قریبی ایک ہیلی کاپٹر میں لایا گیا ، جہاں سے پرواز کے بعد اسے نامعلوم جگہ پر منتقل کردیا گیا ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کی عدالت نے درخواست ضمانت کی سماعت کے بعد رمشا مسیح کی ضمانت پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں پر منظور کی۔ اسکے بعد رمشا کو سخت حفاظتی انتظامات میں اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا اور اسے سیکورٹی کے خدشے کے پیش نظر بکتر بند گاڑی کے ذریعے  ہیلی کاپٹر تک پہنچایا گیا جہاں سے ہیلی کاپٹر  کے ذریعے ان کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ۔

اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے ، رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری وہاں موجود تھی۔

رہائی کے وقت رمشا کے رشتے دار بڑی تعداد میں جیل کے باہر موجود تھے جبکہ اس موقع پر عیسائی برادری کے افراد کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔

رمشا پر مبینہ طور پرمذہبی توہین کا الزام عائد ہونے کے بعد اسے دوہفتوں سے زائد عرصے تک اڈیالہ جیل میں رکھا گیا تھا۔

اسلام آباد میں ڈان نیوز ٹی وی کے خصوصی نمائیندے مبشر زیدی کے مطابق رمشا کو پانچ لاکھ روپوں کے دو مچلکوں کی بنیاد پر رہا گیا ہے اور جمعہ کو کورٹ کے نے اس کی رہائی کا فیصلہ سنادیا تھا تاہم آج مچلکوں کی فراہمی کے بعد رمشا کی رہائی عمل میں آئی ہے۔

جج محمد اعظم نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں کہا کہ میں (رمشہ) کی رہائی کی درخواست ضمانت منظورکرتا ہوں۔

اس سے قبل کورٹ نے دونوں فریقین کے دلائل اور گفتگو کی سماعت کی تھی۔

ضمانت سے قبل رمشا کے مخالف فریق نے رمشا پر الزام لگایا تھا کہ اس سے مذہبی توہین کا جرم سرزد ہوا ہے اس لئے وہ ضمانت کی اہل نہیں۔

تاہم رمشا کے وکیل نے کہا کہ پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر یہ نہیں کہتی کہ قرآن کے اوراق جلانے کا جرم رمشا سے سرزد ہوا ہے۔ انہوں نے یہ دلیل بھی دی کہ رمشہ کمسن ہے اور اس کی ضمانت ہونی چاہئے۔

اس سے قبل رمشا مسیح کیس میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب رمشا پر قرآنی آیات کی توہین کا مبینہ الزام لگانے والے قاری خالد جدون پر اس کے ساتھیوں نے یہ الزام لگایا کہ جدون نے گستاخی کے کیس کو مزید اہم بنانے کے لئے مبینہ طور پر اس میں قرآنی اوراق داخل کئے تھے۔

اس واقعے پر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے مذہبی حلقوں نے بھی اس کیس میں غیر جانبداری کا تقاضہ کیا ہے ۔

اس حصے سے مزید

کراچی: پی ایس 114 میں دوبارہ انتخابات کا حکم

ایم کیو ایم کے رؤف صدیقی نے پی ایس 114 سے مسلم لیگ (ن) کے عرفان اللہ مروت کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا۔

سینئر صحافی مجید نظامی کا انتقال

ان کی نماز جنازہ آج صبح نو بجے لاہور کے باغ جناح میں ادا کی جائیگی۔

پیپلز پارٹی کی اسلام آباد فوج کے حوالے کرنے کی مخالفت

فرحت اللہ بابر نے کہا ہےکہ حکومتی فیصلے سے سنگین نتائج آسکتے ہیں،اس سے اخذ کیا جائے گا کہ سول انتظامیہ ناکام ہو گئی


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

نادیہ خانم
08 ستمبر, 2012 14:33
ہمیں رمشا کو مکمل تحفظ دینا ہوگا مگر اگر حکومت خواب غفلت سے بیدار ہو تو.....؟
ضیا حیدری
09 ستمبر, 2012 14:10
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی ہمیشہ توہین مذہب کے ملزمان کے لئے متحرک ہوتے ہیں- پاکستان کی عدالت کو ان کے دباؤ میں نہیں آنا چاہئے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنی چاہئے
سروے
مقبول ترین
قلم کار

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بلاگ

گھریلو تشدد: پاکستانی 'کلچر' - حقیقت کیا ہے؟

پاکستانی سماج میں عورت مرد کی جائداد اور اس سے کمتر ہے چناچہ اس کے ساتھ کسی قسم کا سلوک روا رکھنا مرد کا پیدائشی حق ہے-

ریاستی تنہائی اور اجتماعی مہاجرت

جب تک سوچنے اور سوچ کے اظہار کے لیے ممکنہ حد تک ازادی موجود نہ ہو تب تک سماج میں تکثیریت پروان نہیں چڑھ سکتی

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔