02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشا جیل سے رہا، نامعلوم مقام پر منتقل

خبر رساں ایجنسی کی تصویر کے مطابق رمشا مسیح کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد ہیلی کاپٹر کی جانب لے جایا جارہا ہے۔ اے ایف پی تصویر

راولپنڈی: قرآن مجید کے اوراق کی مبینہ توہین میں ملوث چودہ سالہ بچی رمشا مسیح کو آج اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق رمشا سخت حفاظتی انتظامات بکتر بند میں قریبی ایک ہیلی کاپٹر میں لایا گیا ، جہاں سے پرواز کے بعد اسے نامعلوم جگہ پر منتقل کردیا گیا ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کی عدالت نے درخواست ضمانت کی سماعت کے بعد رمشا مسیح کی ضمانت پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں پر منظور کی۔ اسکے بعد رمشا کو سخت حفاظتی انتظامات میں اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا اور اسے سیکورٹی کے خدشے کے پیش نظر بکتر بند گاڑی کے ذریعے  ہیلی کاپٹر تک پہنچایا گیا جہاں سے ہیلی کاپٹر  کے ذریعے ان کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ۔

اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے ، رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری وہاں موجود تھی۔

رہائی کے وقت رمشا کے رشتے دار بڑی تعداد میں جیل کے باہر موجود تھے جبکہ اس موقع پر عیسائی برادری کے افراد کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔

رمشا پر مبینہ طور پرمذہبی توہین کا الزام عائد ہونے کے بعد اسے دوہفتوں سے زائد عرصے تک اڈیالہ جیل میں رکھا گیا تھا۔

اسلام آباد میں ڈان نیوز ٹی وی کے خصوصی نمائیندے مبشر زیدی کے مطابق رمشا کو پانچ لاکھ روپوں کے دو مچلکوں کی بنیاد پر رہا گیا ہے اور جمعہ کو کورٹ کے نے اس کی رہائی کا فیصلہ سنادیا تھا تاہم آج مچلکوں کی فراہمی کے بعد رمشا کی رہائی عمل میں آئی ہے۔

جج محمد اعظم نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں کہا کہ میں (رمشہ) کی رہائی کی درخواست ضمانت منظورکرتا ہوں۔

اس سے قبل کورٹ نے دونوں فریقین کے دلائل اور گفتگو کی سماعت کی تھی۔

ضمانت سے قبل رمشا کے مخالف فریق نے رمشا پر الزام لگایا تھا کہ اس سے مذہبی توہین کا جرم سرزد ہوا ہے اس لئے وہ ضمانت کی اہل نہیں۔

تاہم رمشا کے وکیل نے کہا کہ پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر یہ نہیں کہتی کہ قرآن کے اوراق جلانے کا جرم رمشا سے سرزد ہوا ہے۔ انہوں نے یہ دلیل بھی دی کہ رمشہ کمسن ہے اور اس کی ضمانت ہونی چاہئے۔

اس سے قبل رمشا مسیح کیس میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب رمشا پر قرآنی آیات کی توہین کا مبینہ الزام لگانے والے قاری خالد جدون پر اس کے ساتھیوں نے یہ الزام لگایا کہ جدون نے گستاخی کے کیس کو مزید اہم بنانے کے لئے مبینہ طور پر اس میں قرآنی اوراق داخل کئے تھے۔

اس واقعے پر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے مذہبی حلقوں نے بھی اس کیس میں غیر جانبداری کا تقاضہ کیا ہے ۔

اس حصے سے مزید

گلگت: سیاسی بحران سے سیاحت بھی متاثر

سیاسی بے یقینی کے باعث 10 ستمبر سے شروع ہونے والا سلک روٹ انٹرنیشنل فیسٹیول منسوخ کردیا گیا۔

سپریم کورٹ : پندرہ پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس جاری

ممکنہ ماورائے آئین اقدام سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ وہ صرف ایک مرتبہ عمران خان سے ملے ہیں۔

مظاہرین کی جانب سے پولیس فورس کو نفسیاتی دھچکا

ایس ایس پی آپریشن عصمت اللہ جونیجو کے مظاہرین کے ہاتھوں زخمی ہوکر ہسپتال پہنچنے سے پولیس اہلکاروں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

نادیہ خانم
08 ستمبر, 2012 14:33
ہمیں رمشا کو مکمل تحفظ دینا ہوگا مگر اگر حکومت خواب غفلت سے بیدار ہو تو.....؟
ضیا حیدری
09 ستمبر, 2012 14:10
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی ہمیشہ توہین مذہب کے ملزمان کے لئے متحرک ہوتے ہیں- پاکستان کی عدالت کو ان کے دباؤ میں نہیں آنا چاہئے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنی چاہئے
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔