17 ستمبر, 2014 | 21 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشا جیل سے رہا، نامعلوم مقام پر منتقل

خبر رساں ایجنسی کی تصویر کے مطابق رمشا مسیح کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد ہیلی کاپٹر کی جانب لے جایا جارہا ہے۔ اے ایف پی تصویر

راولپنڈی: قرآن مجید کے اوراق کی مبینہ توہین میں ملوث چودہ سالہ بچی رمشا مسیح کو آج اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق رمشا سخت حفاظتی انتظامات بکتر بند میں قریبی ایک ہیلی کاپٹر میں لایا گیا ، جہاں سے پرواز کے بعد اسے نامعلوم جگہ پر منتقل کردیا گیا ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کی عدالت نے درخواست ضمانت کی سماعت کے بعد رمشا مسیح کی ضمانت پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں پر منظور کی۔ اسکے بعد رمشا کو سخت حفاظتی انتظامات میں اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا اور اسے سیکورٹی کے خدشے کے پیش نظر بکتر بند گاڑی کے ذریعے  ہیلی کاپٹر تک پہنچایا گیا جہاں سے ہیلی کاپٹر  کے ذریعے ان کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ۔

اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے ، رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری وہاں موجود تھی۔

رہائی کے وقت رمشا کے رشتے دار بڑی تعداد میں جیل کے باہر موجود تھے جبکہ اس موقع پر عیسائی برادری کے افراد کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔

رمشا پر مبینہ طور پرمذہبی توہین کا الزام عائد ہونے کے بعد اسے دوہفتوں سے زائد عرصے تک اڈیالہ جیل میں رکھا گیا تھا۔

اسلام آباد میں ڈان نیوز ٹی وی کے خصوصی نمائیندے مبشر زیدی کے مطابق رمشا کو پانچ لاکھ روپوں کے دو مچلکوں کی بنیاد پر رہا گیا ہے اور جمعہ کو کورٹ کے نے اس کی رہائی کا فیصلہ سنادیا تھا تاہم آج مچلکوں کی فراہمی کے بعد رمشا کی رہائی عمل میں آئی ہے۔

جج محمد اعظم نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں کہا کہ میں (رمشہ) کی رہائی کی درخواست ضمانت منظورکرتا ہوں۔

اس سے قبل کورٹ نے دونوں فریقین کے دلائل اور گفتگو کی سماعت کی تھی۔

ضمانت سے قبل رمشا کے مخالف فریق نے رمشا پر الزام لگایا تھا کہ اس سے مذہبی توہین کا جرم سرزد ہوا ہے اس لئے وہ ضمانت کی اہل نہیں۔

تاہم رمشا کے وکیل نے کہا کہ پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر یہ نہیں کہتی کہ قرآن کے اوراق جلانے کا جرم رمشا سے سرزد ہوا ہے۔ انہوں نے یہ دلیل بھی دی کہ رمشہ کمسن ہے اور اس کی ضمانت ہونی چاہئے۔

اس سے قبل رمشا مسیح کیس میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب رمشا پر قرآنی آیات کی توہین کا مبینہ الزام لگانے والے قاری خالد جدون پر اس کے ساتھیوں نے یہ الزام لگایا کہ جدون نے گستاخی کے کیس کو مزید اہم بنانے کے لئے مبینہ طور پر اس میں قرآنی اوراق داخل کئے تھے۔

اس واقعے پر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے مذہبی حلقوں نے بھی اس کیس میں غیر جانبداری کا تقاضہ کیا ہے ۔

اس حصے سے مزید

وزیراعظم سمیت متعدد وزراء کے خلاف مقدمہ درج

پولیس کے مطابق یہ مقدمہ انسدادِ دہشت گردی کی دفعہ سات اور پی پی سی کی دفعات 302، 324، 148، اور 149 کے تحت درج کیا گیا۔

پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے تیار

تحریک انصاف حکومت کے ساتھ بامعنی مذاکرات کی دوبارہ بحالی کے لیے پرامید ہے۔

'بطور آرمی چیف ایمرجنسی کے حکم پر دستخط مشرف کی غلطی تھی'

وزیراعظم کے مشورے پر وہ بطور صدر ایمرجنسی نافذ کرسکتے تھے، لیکن انہوں نے یہ حکم فوجی سربراہ کے طور پر دیا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

نادیہ خانم
08 ستمبر, 2012 14:33
ہمیں رمشا کو مکمل تحفظ دینا ہوگا مگر اگر حکومت خواب غفلت سے بیدار ہو تو.....؟
ضیا حیدری
09 ستمبر, 2012 14:10
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی ہمیشہ توہین مذہب کے ملزمان کے لئے متحرک ہوتے ہیں- پاکستان کی عدالت کو ان کے دباؤ میں نہیں آنا چاہئے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنی چاہئے
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ڈیم، کینال، بیراج، اور ماحول

ہندوستانی پنجاب میں زیادہ بارشیں ہوئیں، جسکی وجہ سے اپ سٹریم کا پانی پاکستانی چناب اور جہلم میں بہہ آیا ہے

انتخابی اصلاحات: اگلا قدم

بحیثیت قوم ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا، کہ اس معاملے میں سچ سب کے سامنے آئے، اور کوئی شک شبہہ باقی نا رہے۔

بلاگ

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔

کریچر - تھری ڈی: گوڈزیلا یا ڈیوی جونز کا کزن؟

یہ کہنا غلط نہ ہوگا بپاشا ہارر تھرلرز تک محدود ہوگئی ہیں جبکہ عمران عبّاس نے انکے گرد چکر کاٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔

جب خاموشی بہتر سمجھی جائے

اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ برطانوی پاکستانیوں کے پاس جنسی استحصال پر بات کرنے کے لیے آزادی نہیں ہے۔

نائنٹیز کا پاکستان - 6

اندازے کے مطابق اس دور میں پاکستانی فوج ہر ماہ اوسط ساڑھے سات کروڑ ڈالر ’مجاہدین‘ پر خرچ کر رہی تھی۔