29 جولائ, 2014 | 1 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشا جیل سے رہا، نامعلوم مقام پر منتقل

خبر رساں ایجنسی کی تصویر کے مطابق رمشا مسیح کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد ہیلی کاپٹر کی جانب لے جایا جارہا ہے۔ اے ایف پی تصویر

راولپنڈی: قرآن مجید کے اوراق کی مبینہ توہین میں ملوث چودہ سالہ بچی رمشا مسیح کو آج اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق رمشا سخت حفاظتی انتظامات بکتر بند میں قریبی ایک ہیلی کاپٹر میں لایا گیا ، جہاں سے پرواز کے بعد اسے نامعلوم جگہ پر منتقل کردیا گیا ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کی عدالت نے درخواست ضمانت کی سماعت کے بعد رمشا مسیح کی ضمانت پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں پر منظور کی۔ اسکے بعد رمشا کو سخت حفاظتی انتظامات میں اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا اور اسے سیکورٹی کے خدشے کے پیش نظر بکتر بند گاڑی کے ذریعے  ہیلی کاپٹر تک پہنچایا گیا جہاں سے ہیلی کاپٹر  کے ذریعے ان کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ۔

اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے ، رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری وہاں موجود تھی۔

رہائی کے وقت رمشا کے رشتے دار بڑی تعداد میں جیل کے باہر موجود تھے جبکہ اس موقع پر عیسائی برادری کے افراد کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔

رمشا پر مبینہ طور پرمذہبی توہین کا الزام عائد ہونے کے بعد اسے دوہفتوں سے زائد عرصے تک اڈیالہ جیل میں رکھا گیا تھا۔

اسلام آباد میں ڈان نیوز ٹی وی کے خصوصی نمائیندے مبشر زیدی کے مطابق رمشا کو پانچ لاکھ روپوں کے دو مچلکوں کی بنیاد پر رہا گیا ہے اور جمعہ کو کورٹ کے نے اس کی رہائی کا فیصلہ سنادیا تھا تاہم آج مچلکوں کی فراہمی کے بعد رمشا کی رہائی عمل میں آئی ہے۔

جج محمد اعظم نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں کہا کہ میں (رمشہ) کی رہائی کی درخواست ضمانت منظورکرتا ہوں۔

اس سے قبل کورٹ نے دونوں فریقین کے دلائل اور گفتگو کی سماعت کی تھی۔

ضمانت سے قبل رمشا کے مخالف فریق نے رمشا پر الزام لگایا تھا کہ اس سے مذہبی توہین کا جرم سرزد ہوا ہے اس لئے وہ ضمانت کی اہل نہیں۔

تاہم رمشا کے وکیل نے کہا کہ پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر یہ نہیں کہتی کہ قرآن کے اوراق جلانے کا جرم رمشا سے سرزد ہوا ہے۔ انہوں نے یہ دلیل بھی دی کہ رمشہ کمسن ہے اور اس کی ضمانت ہونی چاہئے۔

اس سے قبل رمشا مسیح کیس میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب رمشا پر قرآنی آیات کی توہین کا مبینہ الزام لگانے والے قاری خالد جدون پر اس کے ساتھیوں نے یہ الزام لگایا کہ جدون نے گستاخی کے کیس کو مزید اہم بنانے کے لئے مبینہ طور پر اس میں قرآنی اوراق داخل کئے تھے۔

اس واقعے پر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے مذہبی حلقوں نے بھی اس کیس میں غیر جانبداری کا تقاضہ کیا ہے ۔

اس حصے سے مزید

اسلام آباد میں فوج کا معاملہ پارلیمنٹ میں

پی پی پی نے اسلام آباد میں فوج طلب کرنے کا حکومتی فیصلے پارلیمنٹ میں اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔

لانگ مارچ پر حکومت سے 'ڈیل' کی تردید

عمران خان کا کہنا ہے کہ آئی ڈی پیز کے معاملے میں وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی۔

کوئٹہ ایکسپریس بم حملے میں بچ گئی

کوئٹہ میں مسافر ٹرین کے پہنچنے سے پہلے ہی بم پھٹ گیا، دھماکے سے ٹریک کو نقصان جبکہ دو افراد زخمی۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

نادیہ خانم
08 ستمبر, 2012 14:33
ہمیں رمشا کو مکمل تحفظ دینا ہوگا مگر اگر حکومت خواب غفلت سے بیدار ہو تو.....؟
ضیا حیدری
09 ستمبر, 2012 14:10
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی ہمیشہ توہین مذہب کے ملزمان کے لئے متحرک ہوتے ہیں- پاکستان کی عدالت کو ان کے دباؤ میں نہیں آنا چاہئے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنی چاہئے
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔