17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

برطانوی شہزادے کو قتل کی دھمکی

شہزاہ ہیری- رائٹرز فوٹو

قندھار: طالبان نے نے دھمکی دی ہے کہ وہ چار سال کے وقفے کے بعد دوبارہ افغانستان آنے والے برطانیہ کے شہزادہ ہیری کو قتل کردیں گے۔

پیر کے روز عسکریت پسندوں کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبر رساں ادارے کو فون پر نامعلوم مقام سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان نے  شہزادہ ہیری پر ہلمند صوبے میں حملے کا ایک  'اہم منصوبہ' ترتیب دے رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی پوری کوشش کریں گے کہ پرنس ہیری اور ہلمند میں موجود دوسرے برطانوی فوجیوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔

مجاہد کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ وہ ہیری کو اغواء کرکے ماریں ، بلکہ انہیں ہدف بھی بنا سکتے ہیں۔

مجاہد کا کہنا تھا کہ جو کوئی بھی ہمارے ملک میں جنگ میں حصہ لے گا، وہ ہمارا دشمن ہوگا اور ہم اسے مارنے کی پوری کوشش کریں گے۔

جنگی ہیلی کاپٹر کے پائلٹ ستائیس سالہ ہیری  اگلے چار ماہ افغانستان کے سب سے خطرناک صوبے ہلمند میں گزاریں گے۔

چار سال قبل افغانستان میں تعینات پرنس ہیری کی آمد کو خفیہ رکھا گیا تھا لیکن سیکورٹی خدشات کی بعد انہیں مختصر قیام کے بعد وطن روانہ کر دیا گیا تھا۔

اس مرتبہ برطانوی فوج نے ان کی آمد کو خفیہ رکھنے کے بجائے ان کی  تعیناتی کے بعد  کئی تصاویر اور وڈیو جاری کی ہیں۔

اس حصے سے مزید

افغان انتخابات: ابتدائی نتائج میں عبداللہ عبداللہ پہلے نمبر پر

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ان نتائج کے مطابق اشرف عنی دوسرے اور زلمے رسول تیسرے نمبر پر ہیں۔

افغان صدارتی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری

پاکستان سمیت دنیا بھر نے افغانستان میں صدارتی انتخابات کی تکمیل کا خیرمقدم۔

پرامن افغان صدارتی انتخابات ختم، بھاری ٹرن آؤٹ متوقع

امریکی صدر باراک اوباما نے افغان عوام کو انتخابات میں بڑی تعداد میں شرکت پر مبارکباد دیتے ہوئے تاریخی سنگ میل قرار دیا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟