03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

برطانوی شہزادے کو قتل کی دھمکی

شہزاہ ہیری- رائٹرز فوٹو

قندھار: طالبان نے نے دھمکی دی ہے کہ وہ چار سال کے وقفے کے بعد دوبارہ افغانستان آنے والے برطانیہ کے شہزادہ ہیری کو قتل کردیں گے۔

پیر کے روز عسکریت پسندوں کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبر رساں ادارے کو فون پر نامعلوم مقام سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان نے  شہزادہ ہیری پر ہلمند صوبے میں حملے کا ایک  'اہم منصوبہ' ترتیب دے رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی پوری کوشش کریں گے کہ پرنس ہیری اور ہلمند میں موجود دوسرے برطانوی فوجیوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔

مجاہد کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ وہ ہیری کو اغواء کرکے ماریں ، بلکہ انہیں ہدف بھی بنا سکتے ہیں۔

مجاہد کا کہنا تھا کہ جو کوئی بھی ہمارے ملک میں جنگ میں حصہ لے گا، وہ ہمارا دشمن ہوگا اور ہم اسے مارنے کی پوری کوشش کریں گے۔

جنگی ہیلی کاپٹر کے پائلٹ ستائیس سالہ ہیری  اگلے چار ماہ افغانستان کے سب سے خطرناک صوبے ہلمند میں گزاریں گے۔

چار سال قبل افغانستان میں تعینات پرنس ہیری کی آمد کو خفیہ رکھا گیا تھا لیکن سیکورٹی خدشات کی بعد انہیں مختصر قیام کے بعد وطن روانہ کر دیا گیا تھا۔

اس مرتبہ برطانوی فوج نے ان کی آمد کو خفیہ رکھنے کے بجائے ان کی  تعیناتی کے بعد  کئی تصاویر اور وڈیو جاری کی ہیں۔

اس حصے سے مزید

افغانستان: طالبان کے حملے، 4فوجی اور 3پولیس اہلکار ہلاک

صوبہ ننگر ہار میں خود کش حملے میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، ہرات میں طالبان کے حملے میں فوجی اہلکار مارے گئے

جلال آباد: طالبان کا حملہ، چھ افراد ہلاک، پچاس زخمی

افغان حکام کے مطابق زخمیوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں، جبکہ حملہ آوروں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

عبداللہ کے انکار پر افغان الیکشن کا آڈٹ معطل

ڈاکٹر غنی کی ترجمان کے مطابق انہیں اقوام متحدہ اور الیکشن کمیشن پر اعتماد ہے، اور وہ اس آڈٹ کے نتائج تسلیم کریں گے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔