01 اکتوبر, 2014 | 5 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

برطانوی شہزادے کو قتل کی دھمکی

شہزاہ ہیری- رائٹرز فوٹو

قندھار: طالبان نے نے دھمکی دی ہے کہ وہ چار سال کے وقفے کے بعد دوبارہ افغانستان آنے والے برطانیہ کے شہزادہ ہیری کو قتل کردیں گے۔

پیر کے روز عسکریت پسندوں کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبر رساں ادارے کو فون پر نامعلوم مقام سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان نے  شہزادہ ہیری پر ہلمند صوبے میں حملے کا ایک  'اہم منصوبہ' ترتیب دے رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی پوری کوشش کریں گے کہ پرنس ہیری اور ہلمند میں موجود دوسرے برطانوی فوجیوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔

مجاہد کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ وہ ہیری کو اغواء کرکے ماریں ، بلکہ انہیں ہدف بھی بنا سکتے ہیں۔

مجاہد کا کہنا تھا کہ جو کوئی بھی ہمارے ملک میں جنگ میں حصہ لے گا، وہ ہمارا دشمن ہوگا اور ہم اسے مارنے کی پوری کوشش کریں گے۔

جنگی ہیلی کاپٹر کے پائلٹ ستائیس سالہ ہیری  اگلے چار ماہ افغانستان کے سب سے خطرناک صوبے ہلمند میں گزاریں گے۔

چار سال قبل افغانستان میں تعینات پرنس ہیری کی آمد کو خفیہ رکھا گیا تھا لیکن سیکورٹی خدشات کی بعد انہیں مختصر قیام کے بعد وطن روانہ کر دیا گیا تھا۔

اس مرتبہ برطانوی فوج نے ان کی آمد کو خفیہ رکھنے کے بجائے ان کی  تعیناتی کے بعد  کئی تصاویر اور وڈیو جاری کی ہیں۔

اس حصے سے مزید

کابل میں دو خودکش بم دھماکے، چھ ہلاک

پولیس حکام کے مطابق چھ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ طالبان کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں کم سے کم بیس فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

افغان امریکا دوطرفہ سیکیورٹی معاہدے پر دستخط

افغانستان اور امریکا نے منگل کو افغان صدارتی محل میں دوطرفہ سیکیورٹی کے معاہدے پر دستخط کردیئے۔

افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیو عبداللہ نے حلف اٹھا لیا

حلف برداری کی تقریب کے موقع پر دارالحکومت کابل میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟