19 اپريل, 2014 | 18 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

اڑتالیس ہندوستانی ماہی گیر رہا

پولیس ہندوستان ماہی گیروں کو لے جاتے ہوئے- اے ایف پی فوٹو

کراچی: پاکستان نے پیر کو اڑتالیس ہندوستانی  ماہی گیروں کو رہا کردیا جس میں چودہ مسلمان ماہی گیر بھی شامل ہیں۔

حکومت  نے ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کے تین روزے دورہ کے موقع پر 'جزبہ خیر سگالی'کے طور پر  اسّی میں سے اڑتالیس قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ان ماہی گیروں کو آج کراچی کی ملیر ڈسٹرکٹ جیل سے رہا کر دیا گیا۔

اس موقع پر انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات ، پاکستان فشر فولک فورم اور لیگل ایڈ تنظیم ڈبلیو کے نمائندے بھی  موجود تھے۔

رہا ہونے والے ماہی گیر کوچ کے ذریعے سخت سیکیورٹی میں لاہور روانہ ہوگئے ہیں جہاں کل انہیں واہگہ بارڈر کے راستے ہندوستانی حکام کے حوالے کردیا جائے گا۔

آئی جی جیل خانہ جات محمود صدیقی نے اس موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ ملیر جیل میں پڑوسی ملک کے صرف بتیس قیدیوں باقی رہ گئے ہیں، جنہیں جلد رہا کردیا جائے گا۔

پی ایف ایف کے سلطان میمن کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اب تک ہندوستان کے چھ سو پچاس ماہی گیررہا کیے ہیں لیکن ہندوستان نے ابھی تک پاکستان کے ایک سو پچاس ماہی گیر رہا نہیں کیئے۔

اس حصے سے مزید

وزیرستان: پولیو مہم میں فوج کا سیکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ

حکام کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکار شدت پسندی سے متاثرہ فاٹا کے مختلف حصوں میں پولیو ٹیموں کو سیکیورٹی فراہم کریں گے۔

طالبان کے مطالبات قبول کرنا 'حرام' نہیں

جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔

حکومت،طالبان مذاکرات کا تازہ دور متوقع

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ٹی ٹی پی کی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ ایک میٹنگ کا مطالبہ کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔