22 ستمبر, 2014 | 26 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

امن مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے، طالبان

طالبان ۔ فائل تصویر رائٹرز

لندن/کابل: افغان طالبان نے اس رپورٹ کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے قیادت کے ارکان  امریکا کے ساتھ ان کی افغانستان میں طویل ملٹری کی موجودگی کے حوالے سے جامع امن معاہدے کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو نامعلوم جگہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ رائل متحدہ سروسز انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے شائع کردہ یہ رپورٹ جھوٹی اور بے بنیاد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی نہیں چاہتے کہ افغاستان میں امریکی رہیں اور ان کا یہ موقف ہمیشہ قائم رہے گا۔

امریکا کی حامی فورسز جو کہ افغانستان میں سن دو ہزار ایک سے عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ کررہیں ہیں، اب چاہتے ہیں طالبان کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پاجائے کیوں کہ منصوبے کے تحت نیٹو افواج سن دو ہزار چودہ کے آخر میں افغانستان چھوڑ دیں گیں۔

اس حصے سے مزید

عبداللہ عبداللہ افغان صدارت سے دستبردار

افغان صدارتی امیدواروں میں معاہدہ طے پا گیا، اشرف غنی صدر ہوں گے جبکہ عبداللہ چیف ایگزیکٹو افسر کو نامزد کریں گے۔

بگرام جیل سے 14 پاکستانی رہا

14 پاکستانی قیدیوں کو افغانستان کی بگرام جیل میں امریکی حراست سے رہا کرکے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

افغانستان: بغلان میں مسجد کے باہر دھماکا، 6 ہلاک

صوبائی پولیس چیف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکا مسجد کے باہر ہوا تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اس کے پیچھے کون ملوث ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-