27 جولائ, 2014 | 28 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

امن مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے، طالبان

طالبان ۔ فائل تصویر رائٹرز

لندن/کابل: افغان طالبان نے اس رپورٹ کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے قیادت کے ارکان  امریکا کے ساتھ ان کی افغانستان میں طویل ملٹری کی موجودگی کے حوالے سے جامع امن معاہدے کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو نامعلوم جگہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ رائل متحدہ سروسز انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے شائع کردہ یہ رپورٹ جھوٹی اور بے بنیاد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی نہیں چاہتے کہ افغاستان میں امریکی رہیں اور ان کا یہ موقف ہمیشہ قائم رہے گا۔

امریکا کی حامی فورسز جو کہ افغانستان میں سن دو ہزار ایک سے عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ کررہیں ہیں، اب چاہتے ہیں طالبان کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پاجائے کیوں کہ منصوبے کے تحت نیٹو افواج سن دو ہزار چودہ کے آخر میں افغانستان چھوڑ دیں گیں۔

اس حصے سے مزید

حقانیوں کو دوبارہ آباد نہ ہونے دیا جائے، امریکا

حقانی نیٹ ورک کی کارروائیوں میں کمی کا اعتراف کرتے ہیں لیکن انہیں دوبارہ بسنے نہ دیا جائے، نمائندہ وائٹ ہاؤس

دوطرفہ سیکیورٹی معاہدہ، ملا عمر کا افغان حکمرانوں کو انتباہ

افغان طالبان کے رہنما نے کہا کہ غیرملکی فوجیوں کی موجودگی کا مطلب یہ ہوگا کہ غیرملکی قبضہ برقرار ہے اور جنگ جاری ہے۔

افغانستان: بسوں سے اتار کر 15 افراد قتل

ایک شخص فرار ہو نے میں کامیاب ۔ ہلاک ہونے والوں میں گیارہ مرد، تین خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

اخلاقیات: غیر مسلم پاکستانیوں کے لیے

اگر آج پاکستان میں غیر مسلم پاکستانیوں کا تناسب 5 فی صد بھی ہے تو 20 کروڑ کے ملک میں یہ ایک کروڑ پاکستانی بنتے ہیں۔

لکیر کے فقیر

دونوں صدارتی امیدواروں کے بیچ اقتدار کی جنگ نے افغانستان کو نسلی فسادات کی طرف دھکیل دیا ہے

گھریلو تشدد: پاکستانی 'کلچر' - حقیقت کیا ہے؟

پاکستانی سماج میں عورت مرد کی جائداد اور اس سے کمتر ہے چناچہ اس کے ساتھ کسی قسم کا سلوک روا رکھنا مرد کا پیدائشی حق ہے-

ریاستی تنہائی اور اجتماعی مہاجرت

جب تک سوچنے اور سوچ کے اظہار کے لیے ممکنہ حد تک ازادی موجود نہ ہو تب تک سماج میں تکثیریت پروان نہیں چڑھ سکتی