19 ستمبر, 2014 | 23 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

سندھ: تین جماعتوں کا اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ

سندھ اسمبلی۔ فائل فوٹو

کراچی: سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے خلاف حکمراں اتحاد سے علیحدہ ہونے والی تین سیاسی جماعتوں نے صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کرلیا۔

 جن جماعتوں نے اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے، ان میں پاکستان مسلم لیگ فنکشنل، نیشنل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق شامل ہیں۔

 چند روز قبل پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان 'پیپلز میٹروپولیٹن کارپوریشن آرڈیننس2012  ' پر معاہدہ طے پانے کے بعد ان جماعتوں کے حکومت سے اختلاف پیدا ہوگئے تھے۔

 جس کے بعد عوامی نیشنل پارٹی سمیت ان جماعتوں نے سندھ کی مخلوط حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔

 ان جماعتوں نے آرڈیننس پر گورنر کے دستخط ہونے کے دوسرے روز ہی وزارتوں سے استعفے دے دیے تھے۔

 واضح رہے کہ مسلم لیگ ق اور عوامی نیشنل پارٹی وفاق میں بدستور پی پی پی کی حکومت کا حصہ ہیں تاہم وفاقی کابینہ میں شامل مسلم لیگ فنکشنل کے ایک وزیر نے پارٹی ہدایت پر استعفی دے دیا ہے۔

 اب تک یہ واضح نہیں کہ وزارت سے استعفیٰ دیے جانے کے بعد عوامی نیشنل پارٹی سندھ اسمبلی میں سرکاری بنچوں کا حصہ رہے گی یا وہ بھی دیگر جماعتوں کی پیروی کرتے ہوئے اپوزیشن بنچوں کا رخ کرے گی۔

واضح رہے کہ دو روز پہلے مسلم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ ق اور نیشنل پیپلز پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ وہ سندھ میں بلدیاتی نظام کے آرڈیننس پر اختلافات کے باعث پیپلز پاڑٹی کی مخلوط حکومت سے علیحدہ ہوئے ہیں۔

جمعرات کو سندھ میں قوم پرست جماعتیں آرڈیننس کے خلاف ہڑتال کرنے جارہی ہیں۔ مسلم لیگ ن نے بھی اس ہڑتال کی حمایت کی ہے۔

اس حصے سے مزید

آئین کے مسودے کی گمشدگی، وفاق اور صوبوں سے جواب طلب

سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 1973ء کے آئین کا اصل مسودہ قومی اسمبلی سے چوری ہوگیا تھا۔

کراچی: فائرنگ کے واقعات میں سیاسی کارکن سمیت چار افراد ہلاک

پولیس اور رینجرز کے آپریشن کے باوجود شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان جیسے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔

گدو کے مقام پر دریائے سندھ میں نچلے درجے کا سیلاب

سیلابی پانی تین روز میں گدو اور سکھر بیراجوں سے گزر جائے گا اور ایک ہفتے بعد سمندر میں جاگرے گا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

رودرہیم کا سبق

بچوں پر ہونیوالے جنسی تشدد پر ہماری شرمندگی کی سمت غلط ہے۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہم اس کو روکنے کی کوشش نہ کریں-

رکاوٹیں توڑ دو

اشرافیہ تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کرنے پر تلی ہوئی ہے جو خاص طور سے 1970ء کی دہائی کے بعد سے بد سے بدتر ہورہاہے۔

بلاگ

پھر وہی ڈیموں پر بحث

ڈیموں سے زراعت کے لیے پانی ملتا ہے، پانی پر کنٹرول سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور توانائی بحران ختم کیا جاسکتا ہے۔

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔