23 اگست, 2014 | 26 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

سندھ: تین جماعتوں کا اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ

سندھ اسمبلی۔ فائل فوٹو

کراچی: سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے خلاف حکمراں اتحاد سے علیحدہ ہونے والی تین سیاسی جماعتوں نے صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کرلیا۔

 جن جماعتوں نے اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے، ان میں پاکستان مسلم لیگ فنکشنل، نیشنل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق شامل ہیں۔

 چند روز قبل پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان 'پیپلز میٹروپولیٹن کارپوریشن آرڈیننس2012  ' پر معاہدہ طے پانے کے بعد ان جماعتوں کے حکومت سے اختلاف پیدا ہوگئے تھے۔

 جس کے بعد عوامی نیشنل پارٹی سمیت ان جماعتوں نے سندھ کی مخلوط حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔

 ان جماعتوں نے آرڈیننس پر گورنر کے دستخط ہونے کے دوسرے روز ہی وزارتوں سے استعفے دے دیے تھے۔

 واضح رہے کہ مسلم لیگ ق اور عوامی نیشنل پارٹی وفاق میں بدستور پی پی پی کی حکومت کا حصہ ہیں تاہم وفاقی کابینہ میں شامل مسلم لیگ فنکشنل کے ایک وزیر نے پارٹی ہدایت پر استعفی دے دیا ہے۔

 اب تک یہ واضح نہیں کہ وزارت سے استعفیٰ دیے جانے کے بعد عوامی نیشنل پارٹی سندھ اسمبلی میں سرکاری بنچوں کا حصہ رہے گی یا وہ بھی دیگر جماعتوں کی پیروی کرتے ہوئے اپوزیشن بنچوں کا رخ کرے گی۔

واضح رہے کہ دو روز پہلے مسلم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ ق اور نیشنل پیپلز پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ وہ سندھ میں بلدیاتی نظام کے آرڈیننس پر اختلافات کے باعث پیپلز پاڑٹی کی مخلوط حکومت سے علیحدہ ہوئے ہیں۔

جمعرات کو سندھ میں قوم پرست جماعتیں آرڈیننس کے خلاف ہڑتال کرنے جارہی ہیں۔ مسلم لیگ ن نے بھی اس ہڑتال کی حمایت کی ہے۔

اس حصے سے مزید

الطاف حسین کو دھرنوں کے مقامات پر صفائی کے فقدان پر تشویش

انہوں نے حکومت اور دھرنے دینے والی جماعتوں کے رہنماوٴں پر زور دیا کہ خدارا وہ صرف فوٹو سیشن کے لیے مذاکرات نہ کریں۔

حکومت سخت رویے سے گریز کرے، الطاف حسین

ایم کیو ایم کے قائد نے پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ملکی مفاد کی خاطر معاملے کو ٹھنڈا کردیں۔

کراچی اسٹاک ایکسچینج: مندی کے رجحان میں کمی

جمعرات کو کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس 400 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 29 ہزار کی سطح عبور کرگیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک گھریلوجھگڑا

افسوس ہے کہ پی ایم ایل اور پی ٹی آئی بے حسی سے ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں، جسکی وجہ سے فوجی اسٹبلیشمنٹ حرکت میں آرہی ہے۔

کچھ جوابات

وزیر اعظم کا اعلان کردہ کمیشن مسئلے سلجھانے کے بجائے زیادہ الجھا دے گا۔

بلاگ

پکوان کہانی : شاہی قورمہ

جو اکبر اعظم کے شاہی باورچی خانے کی نگرانی میں راجپوت خانساماؤں کے تجربات کا نتیجہ ہے۔

دفاعی حکمت عملی کے نقصانات

مصباح کے دفاعی انداز کے اثرات ہمارے جارحانہ انداز رکھنے والے بیٹسمینوں پر بھی پڑے ہیں

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔

مووی ریویو: گارڈینز آف گیلیکسی ایک ویژول ٹریٹ ہے

جو یادوں کے ایسے دور میں لے جاتی ہے جب ایکشن کے بجائے مزاح کسی کامک کا سرمایہ اور اسے بیان کرنے کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔