24 ستمبر, 2014 | 28 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

لاہور: مقامی فیکٹری میں آگ لگنے سے 22 افراد ہلاک

فائر بریگیڈ کا اہلکار آگ بجھانے کی کوشش کررہا ہے۔ فوٹو اے پی

لاہور: لاہور میں گلشن راوی میں بند روڑ پرجوتوں کی فیکٹری میں آگ لگنے سے 22 افراد ہلاک ہو گئے۔

ریسکیوحکام نے متاثرہ فیکٹری سے متعدد مزدوروں کو نکال لیا ہے جن کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

زیادہ تر افراد جھلسنے اور دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔

میو اسپتال کے ایم او نے حادثے میں 22 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ذرائع کے مطابق ابھی بھی کچھ افراد فیکٹری میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔

چوتے کے سول بنانے والی اس کارخانے میں ایک روز قبل استعمال ہونے والے کیمیائی مادے کے ڈرم اور خام مال منگوائے گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق سب سے پہلے فیکٹری کے جنریٹر میں آگ لگی جس نے پوری فیکٹری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

لاشوں اور زخمیوں کو میو اور منشی ہسپتال منتقل کیا چاچکا ہے۔

ہلاک شدگان میں ایک کمسن بچہ بھی شامل ہے جو خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فیکٹری مالک کا بیٹا ہے ۔ اس واقعے میں فیکٹری کا مالک بھی ہلاک ہوچکا ہے۔

اس حصے سے مزید

ملتان: این اے 149 کے لیے بلاول نے امیدوار نامزد کردیا

اس اعلان سے ان افواہوں کی تردید ہو گئی جن میں کہا جارہا تھا کہ پی پی پی جاوید ہاشمی کے مقابل اپنا امیدوار نہیں لائے گی۔

گورنر پنجاب کا شریف برادران سے اختلافات کی تردید

میں مستعفی نہیں ہورہا، اس حوالے سے رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ لندن سے واپسی پر میں استعفیٰ دے دوں گا۔

راولپنڈی: مذہبی پیشوا کا قتل، فرقہ وارانہ فسادات کے زخم پھر تازہ

اس قتل کے ردّعمل میں ہجوم نے ایک امام بارگاہ کو نذرِ آتش کردیا، پولیس مبینہ طور پر اس واقعے کے دو گھنٹے بعد پہنچی۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

cathy gontar
06 اکتوبر, 2012 03:24
Why is this not reported in USA? Americans grieve for Pakistani brothers.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

سوشلزم کیوں؟

اگر ہم مسلسل بحث کرسکتے ہیں کہ جمہوریت کیوں نہیں، شریعت کیوں نہیں، تو اس سوال پر بھی بحث ضروری ہے کہ سوشلزم کیوں نہیں؟

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

بلاگ

مووی ریویو: 'خوبصورت' - فواد اور سونم کی خوبصورت کہانی

اپنے پُر مزاح کرداروں کے باوجود فلم شوخ اور رومانٹک ڈرامہ ہے، جسے آپ باآسانی ڈزنی کی طلسماتی کہانی کہہ سکتے ہیں-

کراچی میں بجلی کا مسئلہ اور نیپرا کا منفی کردار

اپنی نااہلی کی وجہ سے نیپرا نے بیرونی سرمایہ کاروں کو مشکل میں ڈال رکھا ہے، جن میں سے کچھ تو کام شروع کرنے کو تیار ہیں۔

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔