25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

لاہور: مقامی فیکٹری میں آگ لگنے سے 22 افراد ہلاک

فائر بریگیڈ کا اہلکار آگ بجھانے کی کوشش کررہا ہے۔ فوٹو اے پی

لاہور: لاہور میں گلشن راوی میں بند روڑ پرجوتوں کی فیکٹری میں آگ لگنے سے 22 افراد ہلاک ہو گئے۔

ریسکیوحکام نے متاثرہ فیکٹری سے متعدد مزدوروں کو نکال لیا ہے جن کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

زیادہ تر افراد جھلسنے اور دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔

میو اسپتال کے ایم او نے حادثے میں 22 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ذرائع کے مطابق ابھی بھی کچھ افراد فیکٹری میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔

چوتے کے سول بنانے والی اس کارخانے میں ایک روز قبل استعمال ہونے والے کیمیائی مادے کے ڈرم اور خام مال منگوائے گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق سب سے پہلے فیکٹری کے جنریٹر میں آگ لگی جس نے پوری فیکٹری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

لاشوں اور زخمیوں کو میو اور منشی ہسپتال منتقل کیا چاچکا ہے۔

ہلاک شدگان میں ایک کمسن بچہ بھی شامل ہے جو خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فیکٹری مالک کا بیٹا ہے ۔ اس واقعے میں فیکٹری کا مالک بھی ہلاک ہوچکا ہے۔

اس حصے سے مزید

گجرات: زمیندار نے دس سالہ بچے کے دونوں بازو کاٹ دیے

معمولی رنجش پر زمیندار کے بیٹے نے تبسم شہزاد کو موٹر پر دھکا دیدیا جس کی زد میں آکر بچے کے دونوں بازو جسم سے جدا ہوگئے

آزادی مارچ، پی ٹی آئی کا حکمت عملی پوشیدہ رکھنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک رسمی طور پر پی ٹی آئی سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

ایک فراموش کردہ یادگار اپنی بحالی کی منتظر

ملتان میں حضرت سلطان باہوؒ کے ایک عقیدت مند بزرگ حضرت دلیر باہوؒ کے مزار کی بحالی کے لیے فنڈزکا انتظار ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

cathy gontar
06 اکتوبر, 2012 03:24
Why is this not reported in USA? Americans grieve for Pakistani brothers.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-