22 اگست, 2014 | 25 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

لاہور: مقامی فیکٹری میں آگ لگنے سے 22 افراد ہلاک

فائر بریگیڈ کا اہلکار آگ بجھانے کی کوشش کررہا ہے۔ فوٹو اے پی

لاہور: لاہور میں گلشن راوی میں بند روڑ پرجوتوں کی فیکٹری میں آگ لگنے سے 22 افراد ہلاک ہو گئے۔

ریسکیوحکام نے متاثرہ فیکٹری سے متعدد مزدوروں کو نکال لیا ہے جن کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

زیادہ تر افراد جھلسنے اور دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔

میو اسپتال کے ایم او نے حادثے میں 22 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ذرائع کے مطابق ابھی بھی کچھ افراد فیکٹری میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔

چوتے کے سول بنانے والی اس کارخانے میں ایک روز قبل استعمال ہونے والے کیمیائی مادے کے ڈرم اور خام مال منگوائے گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق سب سے پہلے فیکٹری کے جنریٹر میں آگ لگی جس نے پوری فیکٹری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

لاشوں اور زخمیوں کو میو اور منشی ہسپتال منتقل کیا چاچکا ہے۔

ہلاک شدگان میں ایک کمسن بچہ بھی شامل ہے جو خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فیکٹری مالک کا بیٹا ہے ۔ اس واقعے میں فیکٹری کا مالک بھی ہلاک ہوچکا ہے۔

اس حصے سے مزید

ماڈل ٹاؤن کیس: چار پولیس اہلکاروں کا جوڈیشل ریمانڈ

انسپکٹر عامر سلیم سمیت چاروں اہلکاروں پر منہاج القرآن کے کارکنون کو قتل کرنے کا الزام ہے۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ : آتشی مواد سے پانچ ہلاکتیں

کمالیہ میں ایک گھر میں رکھا بارودی مواد دھماکے سے پھٹ گیا، جس سے ایک خاندان کے پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

اسلام آباد دھرنوں کے خلاف وکلاء کی ملک گیر ہڑتال

جمعرات کے روز وکلاء کی نمائندہ تنظیموں کے لاہور میں ہونے والے اجلاس میں دھرنوں کے خلاف لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

cathy gontar
06 اکتوبر, 2012 03:24
Why is this not reported in USA? Americans grieve for Pakistani brothers.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مضبوط ادارے

ریاستی اداروں پر تمام جماعتوں کی جانب سے حملہ تب کیا گیا جب وہ ابتدائی طور پر ہی سہی پر قابلیت کا مظاہرہ کرنے لگے تھے۔

آئینی نظام کو لاحق خطرات

پی ٹی آئی کی سیاست کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی طرح موجودہ آئینی صورت حال میں ممکن سیاسی حل کیلئے تیار نہیں ہے-

بلاگ

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔

جعلی انقلاب اور جعلی فوٹیجز

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی غیر آئینی حرکتوں کی وجہ سے اگر فوج آگئی تو چینلز ایسی نشریات کرنا بھول جائیں گے۔

!جس کی لاٹھی اُس کا گلّو

ہر دکاندار اور ریڑھی والے سے پِٹنا کوئی آسان عمل نہیں ہوگا شاید یہی وجہ ہے کہ سول نافرمانی کوئی آسان کام نہیں۔

ہمارے کپتانوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ مصباح الحق اور عمران خان میں سے زیادہ کون بچوں کی طرح اپنی غلطی ماننے سے انکاری ہے۔