26 جولائ, 2014 | 27 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

ڈاکٹر آفریدی کا انٹرویو من گھڑت قرار

ڈاکٹر شکیل آفریدی۔—فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس نے ایک امریکی ٹی وی چینل کی جانب سے جیل میں قید ڈاکٹر شکیل آفریدی کے انٹرویو لیے جانے کی خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

فاکس نیوز کی ایک خبر کے مطابق اس کے نمائندے نے اسامہ بن لادن کی تلاش میں سی آئی اے کی مدد کرنے والے ڈاکڑ آفریدی سے جیل میں انٹرویو کیا تھا۔

انٹرویو میں ڈاکٹر آفریدی نے کہا تھا کہ آئی ایس آئی خفیہ طور پر عسکریت پسندوں کی مالی معاونت کرتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان کی خفیہ ایجنسی امریکہ کے سخت مخالف ہے۔

منگل کے روز ابتدائی تحقیقات کے بعد ایک اعلی سیکورٹی عہدے دار نے بتایا کہ کسی بھی ٹی وی چینل کے نمائندے کے پاکستانی ڈاکٹر سے انٹرویو لینے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔

انہوں نے انٹرویو کے ذریعے سامنے آنے والے ڈاکٹر آفریدی کے دعووں کو بھی من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا۔

ایک اور سرکاری عہدے دار کا کہنا تھا کہ جس جیل میں انٹرویو کرنے کی خبریں سامنے آئی ہیں وہاں موبائل فون کے سگنل بند رکھنے کے آلات نصب ہیں۔

پاکستان فوج کے میڈیا ونگ آئی ایس پی آر کے ایک افسر نے بتایا کہ اس خبر کا مقصد پاک – امریکہ سٹریٹجک مذاکرات کی بحالی کے امکانات کو متاثر کرنا تھا ۔

انٹرویو لینے والے فاکس نیوز کے نمائندے ڈومینک ڈی نتالے نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر آفریدی کی اہم سوالات کے ذریعے شناخت کی تصدیق کے بعد ہفتے کو چالیس منٹ تک براہ راست ان سے بات چیت کی تھی۔

امریکی صحافی نے ڈان سے بات کرنے سے انکار کرتے ہوا فاکس نیوز کے دفتر سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔

نتالے نے اپنے دوست کو بتایا تھا کہ فون پر انٹرویو سے قبل انہوں نے ڈاکٹر آفریدی سے کئی ہفتوں تک ایک ذریعے سے پیغامات کا تبادلہ کیا تھا۔

صوبہ خیبر پختونخواہ میں جیل خانہ جات کے انسپکٹر جنرل خالد عباس نے ڈان سے بات کرتے ہو دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایسا کوئی انٹرویو نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی قیدی سے ملاقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

عباس نے، جو پشاور سینٹرل جیل کے معاملات بھی دیکھتے ہیں، بتایا کہ دو مقامی صحافیوں نے کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر آفریدی سے انٹرویو لینے کے غرض سے رابطہ کیا تھا لیکن انہوں نے انٹر ویو کی درخواست یہ کہہ کر رد کر دی تھی کہ جن قیدیوں کے مقدمات زیر التوا ہیں ان سے ملاقات کی اجازت نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کی ہدایات پر ڈاکٹر آفریدی کے بڑے بھائی جمیل خان، ان کی بہنوں اور وکلا کو 28 اگست کے دن جامع تلاشی کے بعد جیل کے ڈپٹی سپریٹینڈنٹ کے دفتر میں ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔

اس حصے سے مزید

پشاور: سڑک کنارے نصب دھماکا، دو افراد ہلاک

دوسری جانب جنداللہ بازار کے علاقے میں ایک ایف سی اہلکار کو نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔

اورکزئی: مکان میں دھماکا، کمانڈر سمیت 5 جنگجو ہلاک

آوٹ میلہ کے ایک گھر میں دھماکے سے وہاں موجود پانچ مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے، سرکاری ذرائع۔

پشاور میں فائرنگ، سابق رکن قومی اسمبلی کا پرسنل سیکرٹری ہلاک

مقتول بسم اللہ کو نامعلوم افراد نے رنگ روڈ تاج آباد کے علاقے میں گولیوں کا نشانہ بنایا، پولیس۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Mohammad abdullah
01 اکتوبر, 2012 15:28
وزیراعظم پاکستان ڈاکٹر شکیل آفریدی کے کیس پر نظر ثانی کریں گے اور آفریدی کے انسانی حقوق کے ضمن میں آفریدی کے ساتھ جو انسانی حقوق کی زیادتیاں روا رکھی گئی ہیں، ان کی تلافی کرتے ہوئے اس کو ایک ہیرو کی حثیت سے باعزت بری کر دیا جائے گا اور اس کو ہیرو کا جائز مقام جس کا آفریدی استحقاق رکھتا ہے دیا جائے گا کیونکہ آفریدی نے اسامہ کو جوکہ ہزاروں بے گناہ لوگوں اور انسانیت کا قاتل تھا ، کے مروانے میں بینالاقوامی برادری کی مدد کی ہے۔امید ہے کہ ڈاکٹر آفریدی کی اپیل منظور ہو جائے گی اور اس کو تمام الزامات سے بری کر دیا جائے گا۔
سروے
مقبول ترین
قلم کار

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بلاگ

گھریلو تشدد: پاکستانی 'کلچر' - حقیقت کیا ہے؟

پاکستانی سماج میں عورت مرد کی جائداد اور اس سے کمتر ہے چناچہ اس کے ساتھ کسی قسم کا سلوک روا رکھنا مرد کا پیدائشی حق ہے-

ریاستی تنہائی اور اجتماعی مہاجرت

جب تک سوچنے اور سوچ کے اظہار کے لیے ممکنہ حد تک ازادی موجود نہ ہو تب تک سماج میں تکثیریت پروان نہیں چڑھ سکتی

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔