02 اگست, 2014 | 5 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

ڈاکٹر آفریدی کا انٹرویو من گھڑت قرار

ڈاکٹر شکیل آفریدی۔—فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس نے ایک امریکی ٹی وی چینل کی جانب سے جیل میں قید ڈاکٹر شکیل آفریدی کے انٹرویو لیے جانے کی خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

فاکس نیوز کی ایک خبر کے مطابق اس کے نمائندے نے اسامہ بن لادن کی تلاش میں سی آئی اے کی مدد کرنے والے ڈاکڑ آفریدی سے جیل میں انٹرویو کیا تھا۔

انٹرویو میں ڈاکٹر آفریدی نے کہا تھا کہ آئی ایس آئی خفیہ طور پر عسکریت پسندوں کی مالی معاونت کرتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان کی خفیہ ایجنسی امریکہ کے سخت مخالف ہے۔

منگل کے روز ابتدائی تحقیقات کے بعد ایک اعلی سیکورٹی عہدے دار نے بتایا کہ کسی بھی ٹی وی چینل کے نمائندے کے پاکستانی ڈاکٹر سے انٹرویو لینے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔

انہوں نے انٹرویو کے ذریعے سامنے آنے والے ڈاکٹر آفریدی کے دعووں کو بھی من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا۔

ایک اور سرکاری عہدے دار کا کہنا تھا کہ جس جیل میں انٹرویو کرنے کی خبریں سامنے آئی ہیں وہاں موبائل فون کے سگنل بند رکھنے کے آلات نصب ہیں۔

پاکستان فوج کے میڈیا ونگ آئی ایس پی آر کے ایک افسر نے بتایا کہ اس خبر کا مقصد پاک – امریکہ سٹریٹجک مذاکرات کی بحالی کے امکانات کو متاثر کرنا تھا ۔

انٹرویو لینے والے فاکس نیوز کے نمائندے ڈومینک ڈی نتالے نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر آفریدی کی اہم سوالات کے ذریعے شناخت کی تصدیق کے بعد ہفتے کو چالیس منٹ تک براہ راست ان سے بات چیت کی تھی۔

امریکی صحافی نے ڈان سے بات کرنے سے انکار کرتے ہوا فاکس نیوز کے دفتر سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔

نتالے نے اپنے دوست کو بتایا تھا کہ فون پر انٹرویو سے قبل انہوں نے ڈاکٹر آفریدی سے کئی ہفتوں تک ایک ذریعے سے پیغامات کا تبادلہ کیا تھا۔

صوبہ خیبر پختونخواہ میں جیل خانہ جات کے انسپکٹر جنرل خالد عباس نے ڈان سے بات کرتے ہو دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایسا کوئی انٹرویو نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی قیدی سے ملاقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

عباس نے، جو پشاور سینٹرل جیل کے معاملات بھی دیکھتے ہیں، بتایا کہ دو مقامی صحافیوں نے کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر آفریدی سے انٹرویو لینے کے غرض سے رابطہ کیا تھا لیکن انہوں نے انٹر ویو کی درخواست یہ کہہ کر رد کر دی تھی کہ جن قیدیوں کے مقدمات زیر التوا ہیں ان سے ملاقات کی اجازت نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کی ہدایات پر ڈاکٹر آفریدی کے بڑے بھائی جمیل خان، ان کی بہنوں اور وکلا کو 28 اگست کے دن جامع تلاشی کے بعد جیل کے ڈپٹی سپریٹینڈنٹ کے دفتر میں ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔

اس حصے سے مزید

باجوڑایجنسی:سرحد پار سے عسکریت پسندوں کا حملہ، ایف سی اہلکار ہلاک

عسکری حکام کے مطابق پاک افغان سرحد پر تحصیل مہمند میں جمعہ کے روز یہ واقعہ پیش آیا۔

سعودی ایئر لائن کا پشاور سروس 7 اگست تک بند رکھنے کا فیصلہ

سعودی ایئرلائن نے پشاورکے باچا خان انٹرنیشنل ائر پورٹ سے اپنا فلائٹ آپریشن اکتیس جولائی کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

صوابی: فائرنگ سے بچے سمیت تین ہلاک

مسلح شخص نے ایک موٹرسائیکل سوار پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک آٹھ سالہ بچہ ہلاک اور اس کے انکل زخمی ہوگئے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Mohammad abdullah
01 اکتوبر, 2012 15:28
وزیراعظم پاکستان ڈاکٹر شکیل آفریدی کے کیس پر نظر ثانی کریں گے اور آفریدی کے انسانی حقوق کے ضمن میں آفریدی کے ساتھ جو انسانی حقوق کی زیادتیاں روا رکھی گئی ہیں، ان کی تلافی کرتے ہوئے اس کو ایک ہیرو کی حثیت سے باعزت بری کر دیا جائے گا اور اس کو ہیرو کا جائز مقام جس کا آفریدی استحقاق رکھتا ہے دیا جائے گا کیونکہ آفریدی نے اسامہ کو جوکہ ہزاروں بے گناہ لوگوں اور انسانیت کا قاتل تھا ، کے مروانے میں بینالاقوامی برادری کی مدد کی ہے۔امید ہے کہ ڈاکٹر آفریدی کی اپیل منظور ہو جائے گی اور اس کو تمام الزامات سے بری کر دیا جائے گا۔
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ہمارا پارٹ ٹائم لیڈر

اتنی ناکارہ لیڈرشپ کی مثال مشکل سے ملیگی جس میں کسی دوراندیشی کی کوئی جھلک نہ ہو-

بجٹ اور صحت کا شعبہ

ایسا لگتا ہے کہ صحت کے بجٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کیلئے عطیات دینے والے ملکوں کے پیسے پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے

بلاگ

پکوان کہانی: موسم گرما کی سوغات 'آم

پرانے وقتوں کے لوگوں کی دلچسپ تصور اور حکمت کی بدولت، پھلوں کا بادشاہ عام انسان کی غذا بن گیا۔

پاکستان میں اسٹارٹ اپس اب تک ناکام کیوں؟

آجکل یہ فیشن سا بن گیا ہے کہ ہر کوئی یہی کہتا نظر آ رہا ہے کہ اس کے پاس 'اسٹارٹ اپ' ہے-

ساغر صدیقی : ایک دل شکستہ شاعر

وہ خوبصورت نظمیں لکھتے، پھر بلند آواز میں خالی نگاہوں سے پڑھتے، پھر ان کاغذات کو پھاڑ دیتے جن پر وہ نظمیں لکھی ہوتیں

پکوان کہانی: کابلی پلاؤ - شمال کی شان

گوشت میں پکے چاول اس خطے کے جنگجوؤں کی ذہنی مطابقت اور جسمانی ساخت کے لیے موزوں تھے۔