02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

جنرل کیانی کے خلاف درخواست دائر

جنرل اشفاق پرویز کیانی۔— فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کو ایک اعلی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

سابق فوجی افسران کے ایک فورم کے کنوینر کرنل (ر) انعام الرحمان نے منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے۔  جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ فورم جنرل کیانی کی مدتِ ملازمت میں توسیع کو غیر اخلاقی اور غیر آئینی سمجھتا ہے۔

تاہم چیف جسٹس اقبال حمید الرحمان نے درخواست گزار کو یہ ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی کہ وہ ثابت کریں کہ اس توسیع سے وہ براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے متعلقہ دستاویزات اپنی درخواست کے ساتھ جمع کرائیں۔

انعام الرحمان کا دعوی ہے کہ 1956 کے پاکستان آرمی ایکٹ میں کوئی ایسی شق موجود نہیں جس کے تحت کسی کو بھی عہدے کی معیاد جتنی توسیع دی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں سابق فوجی اہلکاروں کی نمائندہ سوسائٹی، وردی میں ملبوس افسران کی مدت ملازمت میں توسیع پر تشویش کا شکار ہے کیونکہ اس سے ایک منظم ادارے کی کمانڈ کا تانا بانا شدید متاثر ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کے سربراہ کو تین سال کی مکمل توسیع دیتے ہوئے اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ اس سے ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کا قانون متاثر ہو گا۔

آرمی لسٹ کے مطابق جنرل اشفاق پرویز کیانی کی تاریخ پیدائش بیس اپریل 1952 ہے اور اگر انہیں توسیع نہ دی جاتی تو وہ بیس اپریل 2012 کو سبکدوش ہو جاتے۔

واضح رہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت کوئی بھی اہلکار ساٹھ سال کی عمر میں پہنچنے کے بعد یونیفارم میں ملازمت کا اہل نہیں رہتا ۔

انعام الرحمان نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ مدت ملازمت میں توسیع اور ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت دیے جانے کے معاملات پر متعدد مرتبہ اپنی رائے دے چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنرل کیانی کو ملنے والی توسیع آئین کی شق نو کی خلاف ورزی ہے۔ ان کی ملازمت بدستور جاری رہنے  سے ایک درجن سے زائد لیفٹیننٹ جنرل، جنرل بننے کے حق سے محروم ہو کر ریٹائر ہو جائیں گے۔

درخواست گزار نے یہ بھی دعوی کیا کہ جنرل کیانی نے دبئی میں طے پانے والے این آر او معاہدے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ان کے بقول جنرل کیانی اس وقت کے صدر مشرف کے ہمراہ دبئی گئے تھے اور وہی اس معاہدے کے ضامن کے طور پر بھی سامنے آئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے جنرل کیانی  کی مدت ملازمت میں اسی لیے غیر قانونی توسیع کی تاکہ ضامن کا تحفظ کیا جا سکے۔

انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ مدت ملازمت میں توسیع کے حکم کو مسترد کرتے ہوئے جنرل کیانی کو گھر بھیج دیا جائے۔

اس حصے سے مزید

انقلاب' اور 'آزادی' ایک کنٹینر پر'

عمران خان کا کہنا ہے کہ اراکین تحریک انصاف کل آخری دفعہ پارلیمنٹ جائیں گے اور الزمات کا جواب دیں گے۔

برطانیہ کا شہریوں کو پاکستان کے سفر پر انتباہ

سفارت کار، سرکاری وفود اور شہریپاکستان کے اپنے سفر پر نظرثانی کریں، دفتر خارجہ و کامن ویلتھ۔

وزیراعظم نیٹو سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے

سیاسی بحران کے باعث وزیراعظم کا دورہ منسوخ کرکے جونیئر سفارتی عہدیدار کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے گا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔