24 ستمبر, 2014 | 28 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'نگراں وزیر اعظم کے لیے نامزدگی مذاق ہے'

بلوچ قوم پرست رہنما سردار عطااللہ مینگل ۔ — فائل فوٹو

کوئٹہ: بلوچ قوم پرست رہنما سردار عطااللہ مینگل نے مسلم لیگ نون کی جانب سے خود کو نگراں وزیر اعظم نامزد کیے جانے کو ایک مذاق کے مترادف قرار دیا ہے۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے جمعرات کو بتایا تھا کہ سردار مینگل نگراں وزیر اعظم کے لیے سات ناموں پر مشتمل اس فہرست کا حصہ ہیں، جسے ن لیگ نے مشاورت کے غرض سے دوسری سیاسی جماعتوں بھجوا دیا ہے۔

اپنے آبائی علاقے ودھ سے جمعہ کو ٹیلی فون پر گفتگو میں انہوں نے ڈان کو بتایا کہ انہیں اپنی نامزدگی کسی طور پر سنجیدہ اقدام نظر نہیں آتی۔

'اگر میں نے یہ پیشکش منظور کر لی تو میرے بیٹے مجھے کسی نفسیاتی ہسپتال لے جائیں گے'۔

صوبہ بلوچستان کے پہلے وزیر اعلی رہنے والے مینگل نے بتایا کہ ان کو نامزد کرنے والوں نے اس حوالے سے پہلے سردار اختر مینگل سے رابطہ کیا تھا تاہم اختر نے انہیں آگاہ کر دیا تھا کہ ان کے والد کبھی بھی اس پیشکش کو قبول نہیں کریں گے۔

ن لیگ کے رہنما نے فہرست میں شامل بقیہ چھ نام ظاہر کرنے کے بجائے صرف یہ بتانے پر اکتفا کیا تھا کہ ان میں دو سپریم کورٹ کے سابق جج، ایک کا تعلق وکلا برادری سے جبکہ تین سیاست دان ہیں۔

پارٹی کے معتبر حلقوں اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے ڈان کو بتایا کہ فہرست میں تھہتر سالہ اختر مینگل کے علاوہ  جسٹس (ر) ناصر اسلم، جسٹس (ر) شاکر اللہ جان، سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر، خیبر پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد اور عوامی تحریک کے سابق سربراہ رسول بخش پلیجو شامل ہیں۔

واضح رہے کہ چوہدری نثار نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ انہوں نے نگراں وزیر اعظم کے لیے نو ناموں پر مشتمل ایک فہرست تشکیل دی ہے اور اس فہرست کو دیگر جماعتوں سے مشاورت کے بعد عام کیا جائے گا۔

اس حصے سے مزید

تربت: دو مسلح گروپوں میں تصادم سے 11 ہلاکتیں

مسلح افراد نے یعقوب بالگتری اور ان کے ساتھیوں پر اُس وقت فائرنگ کی جب وہ اپنے داماد کے گھر میں دعوت پر موجود تھے۔

بی این پی کی نئے صوبوں کے مطالبے کی مخالفت

بلوچستان نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر بلوچستان کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی مزاحمت کی جائے گی۔

خضدار سے تین تشدد زدہ لاشیں برآمد

مقامی پولیس کے مطابق تینوں افراد کو انتہائی قریب سے گولی مار کر صحرائی علاقے میں پھینک دیا گیا تھا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

سوشلزم کیوں؟

اگر ہم مسلسل بحث کرسکتے ہیں کہ جمہوریت کیوں نہیں، شریعت کیوں نہیں، تو اس سوال پر بھی بحث ضروری ہے کہ سوشلزم کیوں نہیں؟

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

بلاگ

مووی ریویو: 'خوبصورت' - فواد اور سونم کی خوبصورت کہانی

اپنے پُر مزاح کرداروں کے باوجود فلم شوخ اور رومانٹک ڈرامہ ہے، جسے آپ باآسانی ڈزنی کی طلسماتی کہانی کہہ سکتے ہیں-

کراچی میں بجلی کا مسئلہ اور نیپرا کا منفی کردار

اپنی نااہلی کی وجہ سے نیپرا نے بیرونی سرمایہ کاروں کو مشکل میں ڈال رکھا ہے، جن میں سے کچھ تو کام شروع کرنے کو تیار ہیں۔

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔