02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی میں فائرنگ کے واقعات، دس ہلاک

کراچی میں پولیس- فائل فوٹو

کراچی: شہر میں فائرنگ کے واقعات میں مزید دس افراد ہلاک ہوگئے۔ جبکہ ایس آئی یو  پولیس نے فشریز کے ڈائریکٹر سے بھتہ طلب کرنے والے لیاری گینگ وار کے دو ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

دہشت گردی کے تازہ واقعے میں مچھر کالونی سے ایک شخص کی لاش ملی۔ مقتول کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔

سہراب گوٹھ پل کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو ہلاک کردیا۔

سولجر بازار جماعت خانہ کے قریب فائرنگ سےایک شخص ہلاک ہوگیا۔

اس سے قبل ماڈل کالونی میں فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے جنہیں جناح اسپتال منتقل کردیا گیا۔

کھارادر میں فائرنگ سے زخمی ہونے والا شخص اسپتال پہنچ کر چل بسا۔

رنچھوڑلائن میں فائرنگ سے خاتون ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔

لیاقتّ آباد چار نمبر کے مکان سے ایک شخص کی لاش ملی۔

رامسوامی اور پی آئی بی کالونی میں دو افراد اندھی گولیوں کا نشانہ بنے۔ جبکہ چاکیواڑہ میں ایک شخص کو ہلاک کردیا گیا۔

دوسری جانب ایس آئی یو پولیس نے فشری کے ڈائریکٹر سے بھتہ طلب کرنے والے دو اور اے سی ایل سی نے موٹر سائیکل لفٹر گروہ کے سرغنہ کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کرلیا۔

اس حصے سے مزید

کراچی: ایک گھنٹے میں پولیس پر دو حملے، دو اہلکار زخمی

پہلا واقعہ حسن اسکوائر کے قریب پیش آیا جہاں ایک پولیس موبائل کو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے دستی بم سے نشانہ بنایا۔

ممتاز بھٹو بیٹے سمیت مسلم لیگ ن سے بے دخل

سندھ نیشنل فرنٹ کے چیئرمین ممتاز بھٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن نے اُنہیں بیٹے سمیت پارٹی سے نکال دیا ہے

'پاکستان میں حقیقی جدوجہد غریب اور اشرافیہ کے درمیان ہے'

آغا خان یونیورسٹی کے فکری مباحثے میں ماہرین نے سوال کیا کہ کیا ہمیں جمہوری فلاحی ریاست بننا چاہیے یا سیکورٹی اسٹیٹ؟


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟