25 اپريل, 2014 | 24 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

'کیا دلی کیا لاہور'

۔ — فائل فوٹو

فلم ' کیا دلی کیا لاہور' کے اسکرپٹ نگراں اور نامور گیت نگار اور ہدایت کار گلزار نے اب اسے پیش کرنے کی فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کے ضلع جہلم کے علاقے دینہ میں پیدا ہونے والے گلزار کا کہنا ہے کہ اس فلم کی کہانی ہندوستان کی تقسیم پر ہے اور یہ موضوع ان کے دل کے بہت قریب ہے۔

'یہ موضوع میرے دل کے بے حد قریب ہے۔ میں نے اس حوالے سے بہت لکھا ہے۔ اس فلم کو دیکھنے کے بعد مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ فلم کی تیاری میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے لیکن پھر بھی فلم کے لُبِ لُباب کو احسن انداز میں پیش کیا گیا۔'

انہوں نے مزید بتایا کہ ہدایت کار کرن اروڑا فلم کا اسکرپٹ لے کر ان کے پاس آئے تھے لیکن جب فلم مکمل ہونے  پر  دکھائی گئی تو انہوں نے فلم کے ساتھ جڑنے کا فیصلہ کیا۔

گلزار نے فلم کو بہترین کاوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس  میں تبلیغ یا خون خرابہ کے بجائے امن کی بات کی گئی ہے، یہ انسانی ڈراما کی عکاسی کرتی  ہے ۔

واضح رہے کہ تقسیمِ ہند کے موقع پر گلزار کے خاندان کو بھی نقل مکانی کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑی تھی۔

'کیا دلی کیا لاہور' کے ہدایت کار وجے راز ہیں جب کہ کاسٹ میں راج زوتشی، منو رشی، وشواجیت پرادھان اور وجے شامل ہیں۔

'کیا دلی کیا لاہور' میں پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات کو ہلکے پھلکے انداز میں موضوع بنایا گیا ہے۔

فلم کی کہانی دونوں ملکوں کی سرحد پر معمور دو فوجیوں کے گرد گھومتی ہے۔ فلم کا پہلا شو چودہ اگست کو واہگہ سرحد پر پیش کیا گیا تھا۔

کرن اروڑا نے اپنے بیان میں فلم کے ساتھ گلزار کی وابستگی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گلزار اسکرپٹ کے نگران تھے اور جب انہیں فلم مکمل ہونے پر دکھائی گئی تو انہیں بہت زیادہ پسند آئی جس کے بعد انہوں نے فلم کو پیش کرنے کی حامی بھری جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔

بشکریہ دی ٹائمز آف انڈیا

http://www.youtube.com/watch?v=Oy96lq-Nhx4

اس حصے سے مزید

خیبر ایجنسی میں فورسز کی کارروائی۔ 24 شدت پسند ہلاک

ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں وہ شدت پسند بھی شامل ہیں جو اسلام آباد سبزی منڈی اور پشاور دھماکے میں ملوث تھے۔

مشرف غداری کیس: 'ایف آئی اے کی رپورٹ فراہم نہ کرنا بدنیتی ہے'

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں بنیادی حقوق کو ہر قانون سے بالاتر قرار دیا ہے، بیرسٹر فروغ نسیم۔

'پاکستانی اداروں پر ہندوستانی الزامات بے بنیاد ہیں'

پاکستان نے صحافی حامد میر پر حملے سے متعلق ہندوستانی میڈیا کے پاکستانی سیکورٹی اداروں پرلگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟