19 ستمبر, 2014 | 23 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'کیا دلی کیا لاہور'

۔ — فائل فوٹو

فلم ' کیا دلی کیا لاہور' کے اسکرپٹ نگراں اور نامور گیت نگار اور ہدایت کار گلزار نے اب اسے پیش کرنے کی فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کے ضلع جہلم کے علاقے دینہ میں پیدا ہونے والے گلزار کا کہنا ہے کہ اس فلم کی کہانی ہندوستان کی تقسیم پر ہے اور یہ موضوع ان کے دل کے بہت قریب ہے۔

'یہ موضوع میرے دل کے بے حد قریب ہے۔ میں نے اس حوالے سے بہت لکھا ہے۔ اس فلم کو دیکھنے کے بعد مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ فلم کی تیاری میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے لیکن پھر بھی فلم کے لُبِ لُباب کو احسن انداز میں پیش کیا گیا۔'

انہوں نے مزید بتایا کہ ہدایت کار کرن اروڑا فلم کا اسکرپٹ لے کر ان کے پاس آئے تھے لیکن جب فلم مکمل ہونے  پر  دکھائی گئی تو انہوں نے فلم کے ساتھ جڑنے کا فیصلہ کیا۔

گلزار نے فلم کو بہترین کاوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس  میں تبلیغ یا خون خرابہ کے بجائے امن کی بات کی گئی ہے، یہ انسانی ڈراما کی عکاسی کرتی  ہے ۔

واضح رہے کہ تقسیمِ ہند کے موقع پر گلزار کے خاندان کو بھی نقل مکانی کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑی تھی۔

'کیا دلی کیا لاہور' کے ہدایت کار وجے راز ہیں جب کہ کاسٹ میں راج زوتشی، منو رشی، وشواجیت پرادھان اور وجے شامل ہیں۔

'کیا دلی کیا لاہور' میں پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات کو ہلکے پھلکے انداز میں موضوع بنایا گیا ہے۔

فلم کی کہانی دونوں ملکوں کی سرحد پر معمور دو فوجیوں کے گرد گھومتی ہے۔ فلم کا پہلا شو چودہ اگست کو واہگہ سرحد پر پیش کیا گیا تھا۔

کرن اروڑا نے اپنے بیان میں فلم کے ساتھ گلزار کی وابستگی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گلزار اسکرپٹ کے نگران تھے اور جب انہیں فلم مکمل ہونے پر دکھائی گئی تو انہیں بہت زیادہ پسند آئی جس کے بعد انہوں نے فلم کو پیش کرنے کی حامی بھری جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔

بشکریہ دی ٹائمز آف انڈیا

http://www.youtube.com/watch?v=Oy96lq-Nhx4

اس حصے سے مزید

جامعہ کراچی: شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے سربراہ فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر شکیل اوج کی گاڑی کو گلشن اقبال میں نامعلوم افراد نے نشانہ بنایا، جامعہ کراچی تین دن کے لیے بند رکھنے کا اعلان۔

خیبرایجنسی: ریمورٹ کنڑول حملے میں تین شدت پسند ہلاک

اسی دوران بنوں کے علاقے ایف آر جانی خیل میں فائرنگ سے ایک خاتون ہلاک، جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہوگئے۔

سوئس بینکوں میں اربوں ڈالرز تک جلد رسائی کا امکان مسترد

وفاقی وزیر نے اس بات کی تردید کی کہ سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالرز موجود ہیں اور اسے محض اندازے قرار دیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔