02 اگست, 2014 | 5 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

'کیا دلی کیا لاہور'

۔ — فائل فوٹو

فلم ' کیا دلی کیا لاہور' کے اسکرپٹ نگراں اور نامور گیت نگار اور ہدایت کار گلزار نے اب اسے پیش کرنے کی فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کے ضلع جہلم کے علاقے دینہ میں پیدا ہونے والے گلزار کا کہنا ہے کہ اس فلم کی کہانی ہندوستان کی تقسیم پر ہے اور یہ موضوع ان کے دل کے بہت قریب ہے۔

'یہ موضوع میرے دل کے بے حد قریب ہے۔ میں نے اس حوالے سے بہت لکھا ہے۔ اس فلم کو دیکھنے کے بعد مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ فلم کی تیاری میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے لیکن پھر بھی فلم کے لُبِ لُباب کو احسن انداز میں پیش کیا گیا۔'

انہوں نے مزید بتایا کہ ہدایت کار کرن اروڑا فلم کا اسکرپٹ لے کر ان کے پاس آئے تھے لیکن جب فلم مکمل ہونے  پر  دکھائی گئی تو انہوں نے فلم کے ساتھ جڑنے کا فیصلہ کیا۔

گلزار نے فلم کو بہترین کاوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس  میں تبلیغ یا خون خرابہ کے بجائے امن کی بات کی گئی ہے، یہ انسانی ڈراما کی عکاسی کرتی  ہے ۔

واضح رہے کہ تقسیمِ ہند کے موقع پر گلزار کے خاندان کو بھی نقل مکانی کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑی تھی۔

'کیا دلی کیا لاہور' کے ہدایت کار وجے راز ہیں جب کہ کاسٹ میں راج زوتشی، منو رشی، وشواجیت پرادھان اور وجے شامل ہیں۔

'کیا دلی کیا لاہور' میں پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات کو ہلکے پھلکے انداز میں موضوع بنایا گیا ہے۔

فلم کی کہانی دونوں ملکوں کی سرحد پر معمور دو فوجیوں کے گرد گھومتی ہے۔ فلم کا پہلا شو چودہ اگست کو واہگہ سرحد پر پیش کیا گیا تھا۔

کرن اروڑا نے اپنے بیان میں فلم کے ساتھ گلزار کی وابستگی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گلزار اسکرپٹ کے نگران تھے اور جب انہیں فلم مکمل ہونے پر دکھائی گئی تو انہیں بہت زیادہ پسند آئی جس کے بعد انہوں نے فلم کو پیش کرنے کی حامی بھری جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔

بشکریہ دی ٹائمز آف انڈیا

http://www.youtube.com/watch?v=Oy96lq-Nhx4

اس حصے سے مزید

اسلام آباد میں اضافی دستے تعینات نہیں کر رہے، فوج

دستوں کی تعیناتی پندرہ جون کو ہو چکی اور اس حوالے سے نوٹیفیکیشن دیر سے آیا، فوجی ترجمان کا اصرار۔

'نجکاری کمیشن میں بولی لگانے کا عمل شفاف نہیں'

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے نجکاری کمیشن پر زور دیا ہے کہ مالیاتی مشیروں کی تقرری کے عمل کو شفاف طریقے سے دوبارہ شروع کرے۔

کراچی میں طوفانی بارش، 4 افراد ہلاک

رات گئے گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کے بعد کئی روز سے جاری گرمی و حبس کا زور ٹوٹ گیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ہمارا پارٹ ٹائم لیڈر

اتنی ناکارہ لیڈرشپ کی مثال مشکل سے ملیگی جس میں کسی دوراندیشی کی کوئی جھلک نہ ہو-

بجٹ اور صحت کا شعبہ

ایسا لگتا ہے کہ صحت کے بجٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کیلئے عطیات دینے والے ملکوں کے پیسے پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے

بلاگ

پکوان کہانی: موسم گرما کی سوغات 'آم

پرانے وقتوں کے لوگوں کی دلچسپ تصور اور حکمت کی بدولت، پھلوں کا بادشاہ عام انسان کی غذا بن گیا۔

پاکستان میں اسٹارٹ اپس اب تک ناکام کیوں؟

آجکل یہ فیشن سا بن گیا ہے کہ ہر کوئی یہی کہتا نظر آ رہا ہے کہ اس کے پاس 'اسٹارٹ اپ' ہے-

ساغر صدیقی : ایک دل شکستہ شاعر

وہ خوبصورت نظمیں لکھتے، پھر بلند آواز میں خالی نگاہوں سے پڑھتے، پھر ان کاغذات کو پھاڑ دیتے جن پر وہ نظمیں لکھی ہوتیں

پکوان کہانی: کابلی پلاؤ - شمال کی شان

گوشت میں پکے چاول اس خطے کے جنگجوؤں کی ذہنی مطابقت اور جسمانی ساخت کے لیے موزوں تھے۔