28 اگست, 2014 | 1 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'کیا دلی کیا لاہور'

۔ — فائل فوٹو

فلم ' کیا دلی کیا لاہور' کے اسکرپٹ نگراں اور نامور گیت نگار اور ہدایت کار گلزار نے اب اسے پیش کرنے کی فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کے ضلع جہلم کے علاقے دینہ میں پیدا ہونے والے گلزار کا کہنا ہے کہ اس فلم کی کہانی ہندوستان کی تقسیم پر ہے اور یہ موضوع ان کے دل کے بہت قریب ہے۔

'یہ موضوع میرے دل کے بے حد قریب ہے۔ میں نے اس حوالے سے بہت لکھا ہے۔ اس فلم کو دیکھنے کے بعد مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ فلم کی تیاری میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے لیکن پھر بھی فلم کے لُبِ لُباب کو احسن انداز میں پیش کیا گیا۔'

انہوں نے مزید بتایا کہ ہدایت کار کرن اروڑا فلم کا اسکرپٹ لے کر ان کے پاس آئے تھے لیکن جب فلم مکمل ہونے  پر  دکھائی گئی تو انہوں نے فلم کے ساتھ جڑنے کا فیصلہ کیا۔

گلزار نے فلم کو بہترین کاوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس  میں تبلیغ یا خون خرابہ کے بجائے امن کی بات کی گئی ہے، یہ انسانی ڈراما کی عکاسی کرتی  ہے ۔

واضح رہے کہ تقسیمِ ہند کے موقع پر گلزار کے خاندان کو بھی نقل مکانی کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑی تھی۔

'کیا دلی کیا لاہور' کے ہدایت کار وجے راز ہیں جب کہ کاسٹ میں راج زوتشی، منو رشی، وشواجیت پرادھان اور وجے شامل ہیں۔

'کیا دلی کیا لاہور' میں پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات کو ہلکے پھلکے انداز میں موضوع بنایا گیا ہے۔

فلم کی کہانی دونوں ملکوں کی سرحد پر معمور دو فوجیوں کے گرد گھومتی ہے۔ فلم کا پہلا شو چودہ اگست کو واہگہ سرحد پر پیش کیا گیا تھا۔

کرن اروڑا نے اپنے بیان میں فلم کے ساتھ گلزار کی وابستگی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گلزار اسکرپٹ کے نگران تھے اور جب انہیں فلم مکمل ہونے پر دکھائی گئی تو انہیں بہت زیادہ پسند آئی جس کے بعد انہوں نے فلم کو پیش کرنے کی حامی بھری جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔

بشکریہ دی ٹائمز آف انڈیا

http://www.youtube.com/watch?v=Oy96lq-Nhx4

اس حصے سے مزید

ماڈل ٹاؤن ہلاکتوں کا مقدمہ درج

مقدمہ منہاج القران کےڈائریکٹر جواد حامد کی مدعیت میں وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب سمیت 19 افراد کیخلاف درج کیا گیا ہے۔

وزیراعظم سے آرمی چیف کی ملاقات

تین دن میں ہونے والی دوسری ملاقات میں مذاکرات کا عمل بحال رکھنے کے لیے ضروری اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔

اسمبلیاں تحلیل کرنے کیلئے عدالت میں درخواست دائر

عبدالقیوم خان کی جانب سےجمع کرائی گئی درخواست کے مطابق اراکین اسمبلی آیئن کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

متوازی سیاست

بعض لحاظ سے ان میں اور ان لوگوں میں کوئی بہت زیادہ فرق نہیں ہے جنھیِں وہ ہٹانا چاہتے ہیں-

انتخابی اصلاحات کی فوری ضرورت

پاکستان میں انتخابی عمل کوشفاف اور غیر متنازعہ بنانے کے لیے انتخابات کے آٹھ شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

بلاگ

پاکستان کی نوجوان نسل اور غیرت بریگیڈ

"فحاشی" ایک دماغی بیماری ہے جس کا شکار ذہن عورت کو گھر کی دہلیز سے باہر دیکھ کر شدید 'صدمے' کا شکار ہو جاتا ہے۔

ڈی چوک، گدھا اور نا تجربہ کار حجام

آپ کے لیڈر رہیں یا چلے جائیں، یا رسی سے گدھا بندھا ہو یا نہیں، لیکن کسی نا تجربہ کار شخص کو اپنی حجامت مت بنانے دیجئے گا

دھرنے بمقابلہ جمہوریت

جمہوریت میں ہر بندے کی رائے برابر کی اہمیت رکھتی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ سیاست دان بھی منتخب ہوجائیں، جو لیڈرشپ کے قابل نہیں۔

آزادی کے سائیڈ افیکٹس

اس قوم کا مزید آزادی کی بات کرنا بہت حیران کن ہے۔ یہ قوم تو آزادی کے سائیڈ افیکٹس کا شکار ہے۔