03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'کیا دلی کیا لاہور'

۔ — فائل فوٹو

فلم ' کیا دلی کیا لاہور' کے اسکرپٹ نگراں اور نامور گیت نگار اور ہدایت کار گلزار نے اب اسے پیش کرنے کی فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کے ضلع جہلم کے علاقے دینہ میں پیدا ہونے والے گلزار کا کہنا ہے کہ اس فلم کی کہانی ہندوستان کی تقسیم پر ہے اور یہ موضوع ان کے دل کے بہت قریب ہے۔

'یہ موضوع میرے دل کے بے حد قریب ہے۔ میں نے اس حوالے سے بہت لکھا ہے۔ اس فلم کو دیکھنے کے بعد مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ فلم کی تیاری میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے لیکن پھر بھی فلم کے لُبِ لُباب کو احسن انداز میں پیش کیا گیا۔'

انہوں نے مزید بتایا کہ ہدایت کار کرن اروڑا فلم کا اسکرپٹ لے کر ان کے پاس آئے تھے لیکن جب فلم مکمل ہونے  پر  دکھائی گئی تو انہوں نے فلم کے ساتھ جڑنے کا فیصلہ کیا۔

گلزار نے فلم کو بہترین کاوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس  میں تبلیغ یا خون خرابہ کے بجائے امن کی بات کی گئی ہے، یہ انسانی ڈراما کی عکاسی کرتی  ہے ۔

واضح رہے کہ تقسیمِ ہند کے موقع پر گلزار کے خاندان کو بھی نقل مکانی کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑی تھی۔

'کیا دلی کیا لاہور' کے ہدایت کار وجے راز ہیں جب کہ کاسٹ میں راج زوتشی، منو رشی، وشواجیت پرادھان اور وجے شامل ہیں۔

'کیا دلی کیا لاہور' میں پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات کو ہلکے پھلکے انداز میں موضوع بنایا گیا ہے۔

فلم کی کہانی دونوں ملکوں کی سرحد پر معمور دو فوجیوں کے گرد گھومتی ہے۔ فلم کا پہلا شو چودہ اگست کو واہگہ سرحد پر پیش کیا گیا تھا۔

کرن اروڑا نے اپنے بیان میں فلم کے ساتھ گلزار کی وابستگی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گلزار اسکرپٹ کے نگران تھے اور جب انہیں فلم مکمل ہونے پر دکھائی گئی تو انہیں بہت زیادہ پسند آئی جس کے بعد انہوں نے فلم کو پیش کرنے کی حامی بھری جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔

بشکریہ دی ٹائمز آف انڈیا

http://www.youtube.com/watch?v=Oy96lq-Nhx4

اس حصے سے مزید

آپریشن ضرب عضب: اب تک 910 مبینہ دہشت گرد ہلاک، آئی ایس پی آر

پاک فوج کے 82 جوان اس آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔

زرغون گیس فیلڈ سے جزوی فراہمی شروع

گیس کے اس ذخیرے کی مقدار 77 ارب مکعب فٹ ہے، یہاں سے پندرہ سال تک روزانہ دو کروڑ مکعب فٹ کی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔

تربت: ضلع کیچ میں اسکول نذرِ آتش

الجہاد تنظیم کے مسلح مذہبی جنونیوں نے دھمکی دی ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو انگلش میڈیم اسکولوں کے بجائے مدرسوں میں بھیجیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔