24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

وزیر اعظم کی عدالت میں پیشی کا فیصلہ آج متوقع

اسلام آباد: پارلیمنٹ ہاؤس میں اتحادی جماعتوں کے اجلاس کا ایک منظر۔— آن لائن فائل فوٹو

اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے این آر او عمل درآمد کیس پر مشاورت کے لیے آج اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

ایوان صدر میں منعقد ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف منگل کو سپریم کورٹ میں پیش ہوں کہ نہیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ بھی غور و خوض کیا جائے گا کہ صدر زرداری کے خلاف سوئس حکام کو خط لکھنے کے عدالتی حکم پر وزیر اعظم کیا موقف اختیار کریں ۔

متعبر حلقوں نے بتایا ہے کہ حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما وزیر اعظم کے عدالت میں پیش ہونے کے حوالے سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بعض پارٹی رہنماؤں کا خیال ہے راجہ پرویز اشرف خود عدالت میں پیش ہونے کے بجائے اپنے نمائندے کو بھیج دیں ۔

وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کاہرہ نے ڈان کو بتایا کہ آج ہونے والے اجلاس میں یہی فیصلہ ہو گا کہ آیا وزیر اعظم خود عدالت میں پیش ہوں یا ان کی جگہ کسی دوسرے کو ان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے۔

این آر او کیس میں حکومتی ٹیم کی سربراہی کرنے والے وزیر قانون فارق ایچ نائک اور کاہرہ کے بیانات سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ صدر زرداری، وزیر اعظم کی پیشی کا معاملہ اتحادی جماعتوں پر چھوڑ دیں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کل سپریم کورٹ میں یہ موقف اختیار کر سکتے ہیں کہ وہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے تیار ہیں لیکن وہ خط لکھنے کے معاملے پر وفاقی کابینہ سے رائے لینا چاہتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کی جانب سے ان کا موقف تسلیم کیے جانے پر وزیر اعظم کو مزید مہلت مل جائے گی۔

وزیر قانون کا کہنا ہے کہ معاملے کو کابینہ میں لے جانے کا حتمی فیصلہ کل تک ہو جائے گا۔

سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر نااہل قرار دیے جانے والے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی معاملے کو کابینہ میں لے کر گئے تھے جہاں یہ اتفاق رائے پایا گیا تھا کہ آئین کی شق 248 کے تحت صدر زرداری کو استثنا حاصل ہے لہذا ان کے خلاف کسی عدالت میں کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

واضح رہے کہ حکومت نے چوبیس جولائی کو اپنے تحریری جواب میں عدالت کو مطلع کیا تھا کہ وزیر اعظم، صدر زرداری کے خلاف سوئس حکام کو خط نہیں لکھ سکتے۔

جواب کے مطابق آئین کے تحت اس معاملے میں وزیر اعظم وفاقی کایبنہ کے رائے لینے کے پابند ہیں۔

جون میں وزیر اعظم بننے کے بعد راجہ پرویز اشرف نے ستائیس اگست کو پہلی مرتبہ این آر او علم درآمد کیس میں پیشی کے دوران سپریم کورٹ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ معاملہ کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں گے۔

لیکن اب تک حکومت کی جانب سے عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے بظاہر کسی قسم کے اقدامات نظر نہیں آئے۔

وزیر اعظم نے عدالت سے معاملے کو حل کرنے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت مانگی تھی تاہم عدالت نے انہیں بائیس دنوں میںفیصلہ کرنے کا وقت دیتے ہوئے اٹھارہ ستمبر کو عدالت میں طلب کیا تھا۔

وزیر اعظم کے سیاسی مشیر فواد چوہدی نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ راجہ پرویز اشرف کو عدالت میں پش نہ ہونے کے صلاح دی گئی ہے لیکن اس حوالے سے حتمی فیصلہ آج اتاحادی جماعتوں کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ سوئس حکام کو خط نہیں لکھا جا سکتا۔

ان کا دعوی تھا کہ عدلیہ – حکومت 'محاذ آرائی' کی شدت میں کمی آ رہی ہے۔

اس حصے سے مزید

سرحدی دراندازی کے ہندوستانی الزامات مسترد

سیکریٹری سطح کے مذاکرات میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تمام معاملات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا، اعزاز چوہدری

افتخار چوہدری کا عمران خان کو ہتک عزت کا نوٹس

سابق چیف جسٹس نے نوٹس میں عمران خان کی جانب سے معافی نہ مانگنے کی صورت میں 20 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔

پی آئی اے میں صرف انیس طیارے پرواز کے قابل

اس بات کا انکشاف پی آئی اے کے چیئرمین محمد علی گردیزی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو ایک بریفننگ میں کیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-