24 ستمبر, 2014 | 28 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

وزیر اعظم کی عدالت میں پیشی کا فیصلہ آج متوقع

اسلام آباد: پارلیمنٹ ہاؤس میں اتحادی جماعتوں کے اجلاس کا ایک منظر۔— آن لائن فائل فوٹو

اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے این آر او عمل درآمد کیس پر مشاورت کے لیے آج اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

ایوان صدر میں منعقد ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف منگل کو سپریم کورٹ میں پیش ہوں کہ نہیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ بھی غور و خوض کیا جائے گا کہ صدر زرداری کے خلاف سوئس حکام کو خط لکھنے کے عدالتی حکم پر وزیر اعظم کیا موقف اختیار کریں ۔

متعبر حلقوں نے بتایا ہے کہ حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما وزیر اعظم کے عدالت میں پیش ہونے کے حوالے سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بعض پارٹی رہنماؤں کا خیال ہے راجہ پرویز اشرف خود عدالت میں پیش ہونے کے بجائے اپنے نمائندے کو بھیج دیں ۔

وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کاہرہ نے ڈان کو بتایا کہ آج ہونے والے اجلاس میں یہی فیصلہ ہو گا کہ آیا وزیر اعظم خود عدالت میں پیش ہوں یا ان کی جگہ کسی دوسرے کو ان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے۔

این آر او کیس میں حکومتی ٹیم کی سربراہی کرنے والے وزیر قانون فارق ایچ نائک اور کاہرہ کے بیانات سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ صدر زرداری، وزیر اعظم کی پیشی کا معاملہ اتحادی جماعتوں پر چھوڑ دیں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کل سپریم کورٹ میں یہ موقف اختیار کر سکتے ہیں کہ وہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے تیار ہیں لیکن وہ خط لکھنے کے معاملے پر وفاقی کابینہ سے رائے لینا چاہتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کی جانب سے ان کا موقف تسلیم کیے جانے پر وزیر اعظم کو مزید مہلت مل جائے گی۔

وزیر قانون کا کہنا ہے کہ معاملے کو کابینہ میں لے جانے کا حتمی فیصلہ کل تک ہو جائے گا۔

سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر نااہل قرار دیے جانے والے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی معاملے کو کابینہ میں لے کر گئے تھے جہاں یہ اتفاق رائے پایا گیا تھا کہ آئین کی شق 248 کے تحت صدر زرداری کو استثنا حاصل ہے لہذا ان کے خلاف کسی عدالت میں کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

واضح رہے کہ حکومت نے چوبیس جولائی کو اپنے تحریری جواب میں عدالت کو مطلع کیا تھا کہ وزیر اعظم، صدر زرداری کے خلاف سوئس حکام کو خط نہیں لکھ سکتے۔

جواب کے مطابق آئین کے تحت اس معاملے میں وزیر اعظم وفاقی کایبنہ کے رائے لینے کے پابند ہیں۔

جون میں وزیر اعظم بننے کے بعد راجہ پرویز اشرف نے ستائیس اگست کو پہلی مرتبہ این آر او علم درآمد کیس میں پیشی کے دوران سپریم کورٹ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ معاملہ کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں گے۔

لیکن اب تک حکومت کی جانب سے عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے بظاہر کسی قسم کے اقدامات نظر نہیں آئے۔

وزیر اعظم نے عدالت سے معاملے کو حل کرنے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت مانگی تھی تاہم عدالت نے انہیں بائیس دنوں میںفیصلہ کرنے کا وقت دیتے ہوئے اٹھارہ ستمبر کو عدالت میں طلب کیا تھا۔

وزیر اعظم کے سیاسی مشیر فواد چوہدی نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ راجہ پرویز اشرف کو عدالت میں پش نہ ہونے کے صلاح دی گئی ہے لیکن اس حوالے سے حتمی فیصلہ آج اتاحادی جماعتوں کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ سوئس حکام کو خط نہیں لکھا جا سکتا۔

ان کا دعوی تھا کہ عدلیہ – حکومت 'محاذ آرائی' کی شدت میں کمی آ رہی ہے۔

اس حصے سے مزید

عوامی تحریک کے دھرنے میں شریک گھر واپسی کے لیے بے تاب

سینکڑوں خاندان اور لڑکیاں واپس جاچکے ہیں، جبکہ مزید درجنوں خواتین اپنے علاقوں کو جلد از جلد واپس جانا چاہتی ہیں۔

چھ بڑے شہروں میں پولیو مہم کی ناکامی کا انکشاف

لاہور، راولپنڈی، کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ اور جیکب آباد میں پولیو وائرس کے خاتمے کی مہم ناکام رہی ہے۔

الیکشن کمیشن نے انتخابات کی جائزہ رپورٹ کو کردیا مسترد

ای سی پی نے دعویٰ کیا ہے کہ جائزہ رپورٹ اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے موصول ہونے والی سفارشات کی سمری ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

سوشلزم کیوں؟

اگر ہم مسلسل بحث کرسکتے ہیں کہ جمہوریت کیوں نہیں، شریعت کیوں نہیں، تو اس سوال پر بھی بحث ضروری ہے کہ سوشلزم کیوں نہیں؟

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

بلاگ

مووی ریویو: 'خوبصورت' - فواد اور سونم کی خوبصورت کہانی

اپنے پُر مزاح کرداروں کے باوجود فلم شوخ اور رومانٹک ڈرامہ ہے، جسے آپ باآسانی ڈزنی کی طلسماتی کہانی کہہ سکتے ہیں-

کراچی میں بجلی کا مسئلہ اور نیپرا کا منفی کردار

اپنی نااہلی کی وجہ سے نیپرا نے بیرونی سرمایہ کاروں کو مشکل میں ڈال رکھا ہے، جن میں سے کچھ تو کام شروع کرنے کو تیار ہیں۔

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔