22 جولائ, 2014 | 23 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

پچیس ستمبر تک خط لکھنے کی مہلت

اسلام آباد: وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر۔— اے پی

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ کھولنے کے حوالے سے سوئس حکام کو خط لکھنے کے لیے حکومت کو پچیس ستمبر تک کی مہلت دی ہے۔

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی جانب سے مزید ایک ماہ کی مہلت فراہم کرنے کی درخواست رد کرتے ہوئے عدالت نے حکومت کو  دو اکتوبر تک معاملہ نمٹانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

وزیر اعظم  آج این آر او عمل درآمد کیس میں جسٹس آٓصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر وزیر اعظم  نے عدالت کو مطلع کیا کہ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کو این آر او پر سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کا خط واپس لینے کا کہہ دیا گیا ہے۔

انہوں نے عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خط لکھنے کے حوالے سے ان پر دباؤ ہے اور سوالات بھی اٹھائے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب اس مسئلہ کوحل ہوجانا چاہیئے، عدالت تعاون کرے تاکہ معاملے کو سلجھایا جا سکے۔

انہوں نے عدالت سے حاضری کے لیے استثنیٰ کی بھی درخواست کی جسے قبول کرلیا گیا۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ مشاورت کا وقت ختم ہو گیا ہے اور اب خط لکھنا ہے۔

وزیر اعظم کی جانب سے خط کی تیاری کے لیے وقت مانگنے پر عدالت نے انہیں پچیس ستمبر تک خط تیار کرنے کی مہلت دیتے ہوئے اس حوالے سے چار ہدایات دیں۔

پہلی ہدایت یہ کہ خط لکھنے کے اختیارات کسی کو تحریری طور پر دیے جائیں گے۔دوسری ہدایت یہ ہے کہ خط لکھا جائے گا، جس کے لیے عدالت کی تسلی لازمی ہوگی۔ تیسری ہدایت خط بھجوانے کے متعلق ہے کہ خط پہنچانے والا کون ہوگا جبکہ چوتھی ہدایت یہ ہے کہ خط پہنچانے کے بعد عدالت کو آگاہ کیا جائے گا۔

وزیراعظم آج دوسری مرتبہ سخت سیکورٹی میں متعلقہ کیس میں سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوئے۔

اس موقع پر وزیر قانون فاروق ایچ نائیک، نوید قمر،فردوس عاشق اعوان، چوہدری شجاعت،گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ اور فاروق ستار سمیت اتحادی جماعتوں کے قائدین بھی ان کے ہمراہ تھے۔

سپریم کورٹ میں صرف خصوصی پاسزرکھنے والے افراد کو داخلےکی اجازت تھی۔

اس حصے سے مزید

'ضرب عضب میں تمام عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے'

ضرب عضب میں اس لعنت (عسکریت پسندی) کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جا رہی ہے، سر تاج عزیز۔

حکمران اور سیاسی قیادت ملک سے باہر

حکومتی اور حزبِ اختلاف کی قیادت ملک سے باہر ہے اور حکومت و سیاست دوسرے درجے کے رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے۔

عمران کا سپیکر قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق اپنی اخلاقی ساکھ کھو چکے، پی ٹی آئی سربراہ کا دعوی۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
قلم کار

کیا بڑا بہتر ہے؟

ہم اپنی جنوب ایشیائی شناخت سے پیچھا کیوں چھڑانا چاہتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے عرب کے مقابلے میں کہیں زیادہ مالامال ہے؟

پاکستان کے عام آدمی کا احوال

پڑھے لکھے نوجوان جو پاکستان کے چھوٹے شہروں میں رہتے ہیں وہ سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں

بلاگ

جہادی برائے فروخت

اگر اب بھی سمجھ نہ آئی تو پاکستان کا حشر بھی عراق و شام سے مختلف نہیں ہوگا۔

تحریکِ انصاف سے معزرت کے ساتھ

عمران خان کو ملکی اداروں پر تو اعتماد نہیں، تو پھر کیا پی ٹی آئ افغانستان کی طرح "انٹرنیشنل آڈٹ" چاہتی ہے؟

قومی شناختی کارڈ اور گونگا مصلّی -- 3

پورے پنجاب کے دیہی علاقوں میں وارداتوں کے بعد شک کی بنا پر سب سے زیادہ پکڑی جانے والی قوم مصلّیوں کی ہے۔

ہے کوئی مدد کرنے والا؟

جس ملک میں انسانوں کی عزت نہ ہو، وہاں دوسرے مسائل پر وقت ضائع نہیں تو اور کیا کیا جا رہا ہے!