17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

بلوچستان کیس میں حکومت کا جواب مسترد

سپریم کورٹ ۔ رائٹرز تصویر

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ نے صوبہ بلوچستان میں بدامنی سے متعلق سیکریٹری داخلہ و خارجہ  کے مشترکہ جواب مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی ہے۔

 بدہ کو پانچ رکنی بنچ نے بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کے دوران سیکریٹری داخلہ کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فوراً پیش ہونے کی ہدایت جاری کی اور خبردار کیا کہ ان کی غیر حاضری پر گرفتاری کے احکامات جاری کیے جائیں گے۔

 جس پر سیکریٹری داخلہ عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ وہ بیمار ہیں اور چھٹی پر تھے تاہم عدالت کے حکم پر وہ بیماری کے باوجود حاضر ہوئے ہیں۔

 چیف جسٹس نے اس موقع پر موجود سیکریٹری دفاع اور داخلہ سے کہا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔

 قبل ازیں، سماعت کے دوران ایک موقع پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور اٹارنی  جنرل عرفان قادر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وہ سپریم کورٹ کا حکم کیوں نہیں پڑھتے۔ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ  آپ کا حکم بہت 'مبہم' ہوتا ہے۔

 کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی گئی ہے۔

اس حصے سے مزید

سینیٹر فیصل رضا عابدی سے استعفیٰ طلب

پارٹی ڈسپلن کی بار بار خلاف ورزی پر پی پی پی نے فیصل رضا عابدی سے سینیٹر شپ کا استعفی طلب کرلیا ہے۔

نواز زرداری کا ملکی سلامتی پر تبادلہ خیال

وزیر اعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف زرداری کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات، اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

الیکشن 2013: کالعدم تنظیم کی شرکت کا انکشاف

گزشتہ الیکشن میں حصہ لینے والے 'متحدہ دینی محاذ' میں کالعدم تنظیم اہلسنت ولجماعت بھی شامل تھی۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟

جادو کا چراغ: نبض کے بھید اور ایک برباد محبت

بوڑھے دانا طبیب نے مختلف ناموں پر بدلتی نبض کو دیکھ کر لڑکی کی پراسرار بیماری کا علاج کیا-

سارے جہاں سے مہنگا - ریویو

فلم میں ایک اچھوتا خیال پیش کیا گیا ہے کہ کس طرح 'جگاڑ' کر کے ایک مڈل کلاس آدمی مہنگائی کا توڑ نکالتا ہے۔