22 ستمبر, 2014 | 26 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

بلوچستان کیس میں حکومت کا جواب مسترد

سپریم کورٹ ۔ رائٹرز تصویر

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ نے صوبہ بلوچستان میں بدامنی سے متعلق سیکریٹری داخلہ و خارجہ  کے مشترکہ جواب مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی ہے۔

 بدہ کو پانچ رکنی بنچ نے بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کے دوران سیکریٹری داخلہ کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فوراً پیش ہونے کی ہدایت جاری کی اور خبردار کیا کہ ان کی غیر حاضری پر گرفتاری کے احکامات جاری کیے جائیں گے۔

 جس پر سیکریٹری داخلہ عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ وہ بیمار ہیں اور چھٹی پر تھے تاہم عدالت کے حکم پر وہ بیماری کے باوجود حاضر ہوئے ہیں۔

 چیف جسٹس نے اس موقع پر موجود سیکریٹری دفاع اور داخلہ سے کہا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔

 قبل ازیں، سماعت کے دوران ایک موقع پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور اٹارنی  جنرل عرفان قادر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وہ سپریم کورٹ کا حکم کیوں نہیں پڑھتے۔ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ  آپ کا حکم بہت 'مبہم' ہوتا ہے۔

 کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی گئی ہے۔

اس حصے سے مزید

سرکاری اداروں میں بھرتیوں پرپابندی ختم

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیلاب متاثرین کو فی خاندان 25 ہزار روپے امداد دی جائے۔

جاوید ہاشمی کی پی ٹی آئی رکنیت معطل

جاوید ہاشمی کو وضاحت کیلئے انتیس ستمبر کو پارٹی سیکریٹریٹ میں طلب کرلیا گیا ہے۔

عمران، قادری پر مقدمات کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

دونوں رہنماؤں کیخلاف دہشت گردی کے مقدمات کی تحقیقات کیلیے ایس پی صدر کی صدارت میں ایک 6 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-