02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'کراچی دھماکوں میں لشکر جھنگوی ملوث ہے'

کراچی: دھماکے بعد لوگ جائے وقوعہ پر جمع ہیں۔— اے ایف پی

کراچی: پولیس نے سیکورٹی اداروں کی ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ روز کراچی میں ہونے والے دو دھماکوں میں کالعدم لشکر جھنگوی کا شجاع حیدر گروپ ملوث ہے۔

منگل کی شام نارتھ ناظم آباد میں حیدری مارکیٹ کے قریب بوہرا کمپاؤنڈ کے باہر یکے بعد دیگر دو دھماکوں میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ واقعے میں مبینہ طور پر ملوث ملزمان اس سے قبل کراچی میں تین مختلف مقامات پر فرقہ ورانہ نوعیت کے بم دھماکے کر چکے ہیں۔

ملزمان کو جون دوہزار دس میں خصوصی تحقیقاتی یونٹ کی ٹیم نے کراچی میں ماری پور روڈ سے مقابلے کے بعد گرفتار کیا تھا۔

بعد ازاں یہ ملزمان سٹی کورٹس کے احاطے سے پولیس پر دستی بموں سے حملے کرتے ہوئے فرار ہوگئے تھے۔

ڈی آئی جی ویسٹ نعیم اکرم بروکا نے صحافیوں کو بتایا کہ مذکورہ بم دھماکوں میں اور کچھ عرصہ قبل چینی قونصل خانے کے باہر ہوئے دھماکوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب، وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) کی ایک خصوصی ٹیم نے شواہد اکٹھا کرنے کے غرض سے حیدری میں دھماکے کی جگہ  کا دورہ کیا ہے۔

ٹیم نے اپنی ابتدائی تحقیقات میں بتایا کہ دھماکہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا اور پانچ سے آٹھ کلو وزنی بم میں پانچ سے آٹھ سو بال بیئرنگ استعمال کیے گئے۔

واقعے کا مقدمہ نارتھ ناظم آباد تھانے میں ایکسپلوسو ایکٹ اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت سرکاری مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔

اس حصے سے مزید

قحط کا شکار تھر، لوگ غربت کے باعث خودکشی کر رہے ہیں

محض سات مہینوں کے اندر تھرپارکر ضلع میں اکتیس افراد غربت کے باعث موت کو گلے لگا چکے ہیں۔

وزیراعظم، وزیرداخلہ کی نااہلی کے لیے درخواست دائر

سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نواز شریف کو آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نااہل قرار دیا جائے

کراچی: دو پولیس اہلکار ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک

آج صبح نامعلوم دہشت گردوں نے گشت پر مامور موٹر سائکل سوار پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Syed
19 ستمبر, 2012 09:58
طالبان جیسے “شجرہ خبیثہ” کو خلق کرنے والی فورسز نے طالبان کے اجزائے ترکیبی میں اہم جزو “شیعہ دشمنی” رکھا ہے، گڈ طالبان، بیڈ طالبان، اینٹی پاکستان، پرو پاکستان۔۔۔ طالبان سب کے سب شیعہ دشمنی کے ایجنڈے پر اکٹھے نظر آتے ہیں۔ طالبان نوازی کی پالیسی کا سب سے زیادہ تاوان شیعہ قوم نے ادا کیا ہے، آخر کب تک اِس مبینہ “اِسٹریٹیجک ایسیٹس” کے نام پر ملک میں فرقہ واریت کا بازار گرم رکھا جائے گا۔۔۔؟ اِن مبینہ “اِسٹریٹیجک ایسیٹس” کی وجہ سے وہ کونسی آفت ہے جو پاکستان پر نہیں ٹوٹی، پاکستانی عوام آخر کب تک اِن غلط پالیسیوں کا خراج دیتی رہے گی۔۔۔ آخر کب تک؟
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔