22 ستمبر, 2014 | 26 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

بیوٹی پارلر میں کام کرنے پر بیٹی کا قتل

پولیس ہیلپ لائن۔ —فائل فوٹو

راولپنڈی: باپ نے اپنی طلاق یافتہ بیٹی کو اس کے بیوٹی پارلر میں کام کرنے کی وجہ سے بے رحمی سے قتل کردیا۔

پولیس کے مطابق اللہ دتہ جسے گرفتار کرلیا گیا ہے، نے اپنی بتیس سالہ بیٹی شگفتہ کو قتل کیا اور اپنے جرم کا اقرار کرلیا ہے۔

اس کے علاوہ وہ کلہاڑی بھی مل گئی ہے جس سے شگفتہ کا قتل کیا گیا تھا۔

شگفتہ کی چھوٹی بہن نے پولیس کو بتایا کہ اس کے ابو نے اس کی بہن کو ان کے گھر کے قریب ایک درخت پر باندھا اور کلہاڑی اس کی گردن پر ماری جس سے اس کی بہن موقعے پر ہی ہلاک ہوگئی۔

شگفتہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ لوگ مضافات علاقے میں رہتے تھے اور ان کے ابو کو شگفتہ کا بیوٹی پارلر میں کام کرنا پسند نہ تھا۔

اس نے بتایا کہ اس کی بہن شگفتہ ایک گھر میں کام کرتی تھی جنہوں نے اسے پارلر میں کام کرنے کی پیش کش کی جو وہ عورت خود چلاتی تھی۔

شگفتہ کی چھوٹی بہن نے بتایا کہ پچھلی رات ان کے والد نے شگفتہ کے پارلر پر کام کرنے کے اصرار پر اس کو مارا پیٹا لیکن خاندان کے لوگوں نے آکر بیچ بچاؤ کرایا اور وقتی طور پر معاملہ ٹھنڈا ہوگیا۔

شگفتہ کا ایک چھوٹا بیٹا بھی تھا اور تین سال پہلے اسے طلاق ہوئی تھی۔

شگفتہ کی بہن نے بتایا کہ جب وہ نیند سے اٹھی تو اس نے دیکھا کہ اس کے والد شگتفتہ کو لے جارہے ہیں اور ان کے ہاتھ میں رسی اور کلہاڑی ہے۔

اس حصے سے مزید

لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر ڈی جی آئی ایس آئی مقرر

رضوان اختر اب تک ڈائریکٹر جنرل رینجرز کے عہدے پر کام کررہے تھے، وہ جلد ہی اپنی نئی ذمہ داری سنبھال لیں گے۔

اس سال 149 متاثرہ بچے پولیو ویکسین سے محروم رہے

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق جب تک ایک وائرس بھی دنیا میں کہیں باقی ہے، وہ بچوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

کارکنوں کی گرفتاری سے روکنے کے لیے آئی جی پی کا حکم تاخیر سے ملا

پنجاب کے انسپکٹر جنرل نے ایسے کسی اقدام پر سخت کارروائی کی دھمکی دی تھی، لیکن راولپنڈی میں اب بھی میں یہ سلسلہ جاری ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-