03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

بیوٹی پارلر میں کام کرنے پر بیٹی کا قتل

پولیس ہیلپ لائن۔ —فائل فوٹو

راولپنڈی: باپ نے اپنی طلاق یافتہ بیٹی کو اس کے بیوٹی پارلر میں کام کرنے کی وجہ سے بے رحمی سے قتل کردیا۔

پولیس کے مطابق اللہ دتہ جسے گرفتار کرلیا گیا ہے، نے اپنی بتیس سالہ بیٹی شگفتہ کو قتل کیا اور اپنے جرم کا اقرار کرلیا ہے۔

اس کے علاوہ وہ کلہاڑی بھی مل گئی ہے جس سے شگفتہ کا قتل کیا گیا تھا۔

شگفتہ کی چھوٹی بہن نے پولیس کو بتایا کہ اس کے ابو نے اس کی بہن کو ان کے گھر کے قریب ایک درخت پر باندھا اور کلہاڑی اس کی گردن پر ماری جس سے اس کی بہن موقعے پر ہی ہلاک ہوگئی۔

شگفتہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ لوگ مضافات علاقے میں رہتے تھے اور ان کے ابو کو شگفتہ کا بیوٹی پارلر میں کام کرنا پسند نہ تھا۔

اس نے بتایا کہ اس کی بہن شگفتہ ایک گھر میں کام کرتی تھی جنہوں نے اسے پارلر میں کام کرنے کی پیش کش کی جو وہ عورت خود چلاتی تھی۔

شگفتہ کی چھوٹی بہن نے بتایا کہ پچھلی رات ان کے والد نے شگفتہ کے پارلر پر کام کرنے کے اصرار پر اس کو مارا پیٹا لیکن خاندان کے لوگوں نے آکر بیچ بچاؤ کرایا اور وقتی طور پر معاملہ ٹھنڈا ہوگیا۔

شگفتہ کا ایک چھوٹا بیٹا بھی تھا اور تین سال پہلے اسے طلاق ہوئی تھی۔

شگفتہ کی بہن نے بتایا کہ جب وہ نیند سے اٹھی تو اس نے دیکھا کہ اس کے والد شگتفتہ کو لے جارہے ہیں اور ان کے ہاتھ میں رسی اور کلہاڑی ہے۔

اس حصے سے مزید

تحریک انصاف، عوامی تحریک مذاکرات میں ڈیڈلاک ختم کرنے کو تیار

قوم جلد خوشخبری سنے گی، رحمان ملک۔ حکومت کی طرف سے نہیں، عوام کی طرف سے مذاکرات کیلئے آئے تھے، سراج الحق۔

برطانیہ کا شہریوں کو پاکستان کے سفر پر انتباہ

سفارت کار، سرکاری وفود اور شہریپاکستان کے اپنے سفر پر نظرثانی کریں، دفتر خارجہ و کامن ویلتھ۔

وزیراعظم نیٹو سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے

سیاسی بحران کے باعث وزیراعظم کا دورہ منسوخ کرکے جونیئر سفارتی عہدیدار کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے گا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔