20 اپريل, 2014 | 19 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

بیوٹی پارلر میں کام کرنے پر بیٹی کا قتل

پولیس ہیلپ لائن۔ —فائل فوٹو

راولپنڈی: باپ نے اپنی طلاق یافتہ بیٹی کو اس کے بیوٹی پارلر میں کام کرنے کی وجہ سے بے رحمی سے قتل کردیا۔

پولیس کے مطابق اللہ دتہ جسے گرفتار کرلیا گیا ہے، نے اپنی بتیس سالہ بیٹی شگفتہ کو قتل کیا اور اپنے جرم کا اقرار کرلیا ہے۔

اس کے علاوہ وہ کلہاڑی بھی مل گئی ہے جس سے شگفتہ کا قتل کیا گیا تھا۔

شگفتہ کی چھوٹی بہن نے پولیس کو بتایا کہ اس کے ابو نے اس کی بہن کو ان کے گھر کے قریب ایک درخت پر باندھا اور کلہاڑی اس کی گردن پر ماری جس سے اس کی بہن موقعے پر ہی ہلاک ہوگئی۔

شگفتہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ لوگ مضافات علاقے میں رہتے تھے اور ان کے ابو کو شگفتہ کا بیوٹی پارلر میں کام کرنا پسند نہ تھا۔

اس نے بتایا کہ اس کی بہن شگفتہ ایک گھر میں کام کرتی تھی جنہوں نے اسے پارلر میں کام کرنے کی پیش کش کی جو وہ عورت خود چلاتی تھی۔

شگفتہ کی چھوٹی بہن نے بتایا کہ پچھلی رات ان کے والد نے شگفتہ کے پارلر پر کام کرنے کے اصرار پر اس کو مارا پیٹا لیکن خاندان کے لوگوں نے آکر بیچ بچاؤ کرایا اور وقتی طور پر معاملہ ٹھنڈا ہوگیا۔

شگفتہ کا ایک چھوٹا بیٹا بھی تھا اور تین سال پہلے اسے طلاق ہوئی تھی۔

شگفتہ کی بہن نے بتایا کہ جب وہ نیند سے اٹھی تو اس نے دیکھا کہ اس کے والد شگتفتہ کو لے جارہے ہیں اور ان کے ہاتھ میں رسی اور کلہاڑی ہے۔

اس حصے سے مزید

وزیرِ اعظم نے حامد میر حملے کی جوڈیشل تحقیقات کا حکم دیدیا

کمیشن کیلئے سپریم کورٹ سے درخواست کی جائے گی، قاتلوں کی اطلاع پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان۔

اقوامِ متحدہ نے اپنے دوکارکن لاپتہ ہونے کی تصدیق کردی

اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسیف کے مقامی ارکان کراچی کے باہر ایک تفریحی مقام سے لاپتہ ہوئے ہیں۔

ڈاکٹروں کا مشرف کو اینجیوگرافی کرانے کا مشورہ

آج رات تک سابق صدر کو پی این ایس شفاء لائے جانے کا امکان ہے، ذرائع۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

دنیاۓ صحافت: داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

ایک فوجی کی طرح صحافی کو بھی ہرگز اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، یہ سوچنا کہ یہ ہماری جنگ نہیں، سراسر حماقت ہے-

2 - پاکستان کی شہری تاریخ ... ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا

بھٹو حکومت کے ابتدائی سالوں میں قوم کا مزاج یکسر تبدیل ہو گیا تھا، کیونکہ ملک ایک نئے پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا-

سچ، گولی اور بے بس جرنلسٹ

حامد میر پر حملہ ایک بار پھر صحافی برادری کی بے بسی کی طرف اشارہ کرتا ہے

دو قومی نظریہ اور ہندوستانی اقلیتیں

دو قومی نظریہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں تو تفریق کرتا ہے لیکن دیگر اقلیتوں، خاص کر دلتوں کو یکسر فراموش کرتا ہے۔