28 جولائ, 2014 | 29 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

بیوٹی پارلر میں کام کرنے پر بیٹی کا قتل

پولیس ہیلپ لائن۔ —فائل فوٹو

راولپنڈی: باپ نے اپنی طلاق یافتہ بیٹی کو اس کے بیوٹی پارلر میں کام کرنے کی وجہ سے بے رحمی سے قتل کردیا۔

پولیس کے مطابق اللہ دتہ جسے گرفتار کرلیا گیا ہے، نے اپنی بتیس سالہ بیٹی شگفتہ کو قتل کیا اور اپنے جرم کا اقرار کرلیا ہے۔

اس کے علاوہ وہ کلہاڑی بھی مل گئی ہے جس سے شگفتہ کا قتل کیا گیا تھا۔

شگفتہ کی چھوٹی بہن نے پولیس کو بتایا کہ اس کے ابو نے اس کی بہن کو ان کے گھر کے قریب ایک درخت پر باندھا اور کلہاڑی اس کی گردن پر ماری جس سے اس کی بہن موقعے پر ہی ہلاک ہوگئی۔

شگفتہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ لوگ مضافات علاقے میں رہتے تھے اور ان کے ابو کو شگفتہ کا بیوٹی پارلر میں کام کرنا پسند نہ تھا۔

اس نے بتایا کہ اس کی بہن شگفتہ ایک گھر میں کام کرتی تھی جنہوں نے اسے پارلر میں کام کرنے کی پیش کش کی جو وہ عورت خود چلاتی تھی۔

شگفتہ کی چھوٹی بہن نے بتایا کہ پچھلی رات ان کے والد نے شگفتہ کے پارلر پر کام کرنے کے اصرار پر اس کو مارا پیٹا لیکن خاندان کے لوگوں نے آکر بیچ بچاؤ کرایا اور وقتی طور پر معاملہ ٹھنڈا ہوگیا۔

شگفتہ کا ایک چھوٹا بیٹا بھی تھا اور تین سال پہلے اسے طلاق ہوئی تھی۔

شگفتہ کی بہن نے بتایا کہ جب وہ نیند سے اٹھی تو اس نے دیکھا کہ اس کے والد شگتفتہ کو لے جارہے ہیں اور ان کے ہاتھ میں رسی اور کلہاڑی ہے۔

اس حصے سے مزید

گوجرانوالہ: مبینہ توہین مذہب پر تین احمدی ہلاک

مشتعل ہجوم نے فیس بک پر مبینہ ’توہین آمیز مواد کی اشاعت‘ کے بعد احمدیوں کے 5 گھر نذرِ آتش کر دیے، رپورٹ۔

کے پی اور فاٹا میں آج عید

پشاور سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں نمازِ عید کے اجتماعات میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

مضاربہ اسکینڈل: نیب کا ایک اور ریفرنس

ریفریس میں میزبان ٹریڈنگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو غلام رسول ایوب سمیت تین افراد کو فریق بنایا گیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں